By using this site, you agree to the Privacy Policy and Terms of Use.
Accept
Customize
بلوچ نیشنل موومنٹ

بلوچ نیشنل موومنٹ

آزادی ، انصاف اور برابری
Notification
Sign In
بلوچ نیشنل موومنٹ بلوچ نیشنل موومنٹ
Font ResizerAa
Sign In
Customize

Updates

latest reports and statements

نواب اکبرخان نے اپنی قربانی سے پاکستان کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ دل مراد بلوچ

پانک جولائی 2025 کی رپورٹ: بلوچستان میں 19 افراد ماورائے عدالت قتل، 96 جبری طور پر لاپتہ

بلوچ نے اپنی آزادی کھوئی ہے وقار نہیں، ہم آزاد تھے ، ہمیں آزاد ہونا چاہیے۔ بی این ایم یوم تجدید عہد کے پروگرامات

Find us on socials Media

20kFollowersLike
33kFollowersFollow
100kSubscribersSubscribe
TelegramFollow
WhatsAppFollow
RSS FeedFollow
پانک

دسمبر میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ : 38 جبری لاپتہ ، ایک کی لاش برآمد، ھورماڑا میں پرامن مظاہرے کے دوران پولیس تشدد سے ایک ہلاک

پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی سرپرستی میں قائم ڈیتھ اسکواڈز نے بلوچستان کوایک وسیع قید خانے میں تبدیل کرکے بلوچ عوام سے زندگی کا حق چھینا ہے۔

پانک
Last updated: 6 جنوری, 2023 12:54 شام
By پانک
Share
SHARE
پانک ماہانہ رپورٹ ، دسمبر 2022 ۔ اردو ڈاؤن لوڈ

پانک ماہانہ رپورٹ ، دسمبر 2022 ۔ انگریزی

ڈاؤن لوڈ

شال: انسانی حقوق کے ادارے پانک کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال کے آخری مہینے میں 38 افراد کو جبری لاپتہ کیا گیا جبکہ جبری لاپتہ عمران بابو کو پاکستانی فوج نے ضلع آواران کے گاؤں بانی کولواہ سے گرفتاری کے بعد دوران حراست قتل کرکے بزداد کے مقام پر ان کی مسخ شدہ لاش پھینک دی، ھورماڑا ضلع گوادر میں پرامن مظاہرے میں شریک دوست محمد ولد دوشمبے پولیس تشدد سے ہلاک ہوئے جبکہ تجابان ضلع کیچ میں پاکستانی فوج نے آبادی پر مارٹر گولے فائر کیے جس سے ایک خاتون زخمی ہوئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے گوادر میں پرامن دھرنے کو ختم کرنے کے لیے فورسز نے طاقت کا استعمال کیا اور لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بزرگ سیاسی رہنماء حسین واڈیلہ سمیت کئی مظاہرین کو گرفتار کرکے دیگر شہروں میں منتقل کیا گیا ۔دھرنے میں شامل خواتین کو بھی تشددکا نشانہ بنایاگیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان بلوچوں کو پرامن مظاہروں کی بھی اجازت دینے کو آمادہ نہیں۔

پانک کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی سرپرستی میں قائم ڈیتھ اسکواڈز نے بلوچستان کوایک وسیع قید خانے میں تبدیل کرکے بلوچ عوام سے زندگی کا حق چھینا ہے۔قومی حقوق اپنی جگہ بنیادی شہری حقوق بھی سلب کیے جاچکے ہیں اور قومی پارٹیوں پر قدغن ہے۔

پانک کے مطابق بلوچستان میں ریاستی سرپرستی میں نام نہاد سرداروں نے اپنی نجی جیلیں تشکیل دی ہیں جہاں لوگوں کو قید کرکے ان سے جبری مشقت لیا جارہا ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

TAGGED:انسانی حقوق کی ماہانہ صورتحال
Share This Article
Facebook Copy Link Print
Byپانک
بی این ایم کا انسانی حقوق سے متعلق ادارہ۔

Suggested Reads

پانکشعبہ جات

پانک فروری 2024 کی رپورٹ : 33 افراد جبری لاپتہ ، 28 ٹارچر سیلز سے رہا ، 5 افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا

پانک

سال 2022 میں پاکستانی فوج نے بلوچستان میں 195 قتل اور 629 افراد جبری لاپتہ کیے-پانک

پانک

پانک کی دسمبر 2024 کی رپورٹ ، بلوچستان میں پاکستانی فورسز نے 22 افراد کو جبری لاپتہ اور پانچ کو ماورائے عدالت قتل کیا

پانک

پانک اگست 2023 کی رپورٹ : پاکستان پر معاشی دباؤ میں اضافہ بلوچستان میں وسائل کے استحصال کو فروغ دے گا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے کا خدشہ

پانک

10 ستمبر, 2024

پانک

پانک ، مئی 2024 کی رپورٹ : بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال مزید خراب ہوچکی ہے

پانکشعبہ جات

پانک کی اکتوبر 2023 کی رپورٹ : بلوچستان میں دو افراد کا حراستی قتل اور 34 جبری لاپتہ

پانک

پانک رپورٹ : ستمبر میں پاکستانی فورسز نے بلوچستان میں 41 افراد کو جبری لاپتہ اور 3 کو ماورائے عدالت قتل کیا

Show More
  • Paank - HR Department
  • BNM Footages
  • The Baloch Martyrs

©2024 Baloch National Movement (BNM) . Free to use, with all rights reserved for visual content.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?