بلوچ خواتین اور خطے کی دیگر محکوم اقوام کی خواتین کی جدوجہد میں کریمہ بلوچ کا عکس و عمل نمایاں طور پر شامل ہے۔ جس بہادری سے انھوں نے بلوچ مزاحمت کی قیادت کی، اس نے نہ صرف بلوچ خواتین کو متاثر کیا بلکہ خطے کی دیگر محکوم اقوام بھی اس سے متاثر ہوئیں۔
ان خیالات کا اظہار بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے جونیئر جوائنٹ سیکریٹری حسن دوست بلوچ نے بانک کریمہ کی یاد میں شہید انور ایڈووکیٹ زون (کیچ، گوادر) کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انھوں نے کہا کہ بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے ساتھی بانک کریمہ کی جدوجہد کے وارث ہیں اور اسے آگے بڑھا رہے ہیں۔ ریاستِ پاکستان کا منصوبہ بلوچ نوجوانوں کو پہاڑوں میں دھکیل کر شہروں کو مزاحمت اور قومی سیاست سے لاتعلق کرنے کا تھا، مگر واجہ غلام محمد اور بانک کریمہ جیسی شخصیات کی بدولت بلوچ قوم کی یہ جدوجہد سیاسی شعور کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ بانک کریمہ کے پیروکاروں نے ہر قسم کے مصائب اور مشکلات کا سامنا کیا۔ آج ہم قبائلی اور خاندانی مفادات سے بالاتر ہو کر جدوجہد کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کارکنان قومی تحریک کا سرمایہ ہیں، انھیں اپنی زندگی اور تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ اگر آزادی کی تحریک میں سروں کی قربانی ناگزیر ہوئی تو ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، لیکن جدوجہد کے دوران ہمیں اپنے نقصانات کو کم سے کم رکھنے کی بھی کوشش کرنی ہوگی۔
انھوں نے اپنی تقریر کے اختتام پر شرکاء کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ بانک کریمہ کی جدوجہد کمزور نہیں ہوئی۔ آج خواتین کی مزاحمت میں کردار ماضی سے کہیں زیادہ ہے، جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بانک کریمہ کی جدوجہد ثمر آور ثابت ہو رہی ہے۔ آج پاکستانی فوج بلوچ خواتین کو اغوا کر کے لاپتہ کر رہی ہے، جو ہمارے لیے انتہائی تکلیف دہ صورتحال ہے، لیکن تشدد میں اضافہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ جدوجہد جاری ہے، جسے روکنے کے لیے ریاست تشدد کا سہارا لے رہی ہے۔ بلوچ خواتین کی تحریک مضبوط ہوئی ہے، اور اسی استحکام کے باعث ریاست کے جبر اور پاگل پن میں اضافہ ہوا ہے۔
انھوں نے بانک کریمہ کے قتل کی تحقیقات میں کینیڈین حکام کے رویے کو مایوس کن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک عالمی شخصیت کی موت پر قابلِ اطمینان تحقیقات کرنے کے بجائے اس کیس کو بغیر کسی مفصل رپورٹ کے داخلِ دفتر کر دیا گیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یا تو ان پر پاکستان کا دباؤ تھا، یا ریکوڈک جیسے منافع بخش منصوبوں میں ان کی کمپنیوں کی شراکت اس کی وجہ بنی۔ اس طرزِ عمل سے کینیڈین حکام کی غیرسنجیدگی واضح ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں عالمی طاقتوں کے سہارے کے بجائے اپنی طاقت پر انحصار کرنا چاہیے۔ جب ہمارے پاس طاقت ہوگی تو دنیا بھی ہماری بات سننے پر مجبور ہوگی۔
حسن دوست بلوچ نے کہا کہ ہمیں ٹیکنالوجی اور جدید ایجادات کو سمجھ کر اپنی جدوجہد کو ان کے مطابق ہم آہنگ کرنا چاہیے۔ ریاستی کریک ڈاؤن میں جن لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس کے پسِ پشت عوامل اور اس سے بچاؤ کے اقدامات پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ تاہم ہم اس حقیقت سے بھی واقف ہیں کہ پاکستان اجتماعی سزا کے طور پر بلوچ خواتین کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ بلوچ قوم کو ظلم و جبر کے ذریعے تحریکِ آزادی سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ بیرونِ وطن بلوچ ڈائسپورا کی تعداد اس قدر نہیں کہ ہم بیرونِ ملک پاکستان کے خلاف دوسرے ممالک پر مؤثر دباؤ ڈال سکیں۔ دنیا پاکستان کو ایک ریاست کے طور پر دیکھتی ہے، جبکہ بلوچ ایک محکوم قوم ہے۔ اس کے باوجود، گزشتہ چند برسوں میں بی این ایم کی سفارت کاری میں ماضی کے مقابلے میں کامیابیوں کا تناسب زیادہ رہا ہے۔ بی این ایم کی ڈائسپورا میں موجودگی کا عرصہ طویل نہیں، اس سے قبل بھی بلوچ بیرونِ ملک موجود تھے، لیکن بی این ایم کے کارکنان نے ڈائسپورا میں بلوچ قومی سیاست کو زیادہ فعال اور منظم کیا ہے۔
پروگرام کی نظامت کے فرائض بی این ایم شہید انور ایڈووکیٹ زون کے سیکریٹری جیھند بلوچ نے انجام دیے۔
