بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) سے منسلک انسانی حقوق کی تنظیم پانک نے جولائی 2025 کی اپنی ماہانہ رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، تشدد اور شہریوں پر حملوں کے متعدد واقعات کو تفصیل اور شواہد کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج اور اس سے منسلک اداروں نے جولائی میں کم از کم 96 افراد کو جبری لاپتہ اور 19 افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق، جولائی میں ضلع کیچ سب سے زیادہ متاثر رہا جہاں 29 افراد جبری لاپتہ ہوئے۔ اس کے بعد شال میں 17 اور گوادر میں 9 کیس رپورٹ ہوئے۔ اسی طرح آواران میں 8، واشک میں 7، کراچی اور پنجگور میں 5، 5، نوشکے اور ڈیرہ غازی خان میں 3، 3، جبکہ ڈیرہ بگٹی، مستونگ اور لسبیلہ میں 2، 2 افراد جبری لاپتہ کیے گئے۔ اس کے علاوہ خضدار، کلات، چاغی اور اسلام آباد سے ایک، ایک کیس رپورٹ ہوا۔
رپورٹ میں تربت کے رہائشی آٹھ سالہ بچے شعیب خالد کی گرفتاری کا بھی ذکر ہے جسے انسانی حقوق کے کارکن گلزار دوست کے تقریر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ میں 10 جولائی کو فرنٹیئر کور (ایف سی) کے راکٹ حملے کا ذکر بھی شامل ہے، جو ضلع کیچ کے علاقے گورکوپ میں ایک کھیل کے میدان پر کیا گیا۔ اس حملے میں سات شہری زخمی ہوئے، جن میں سے علی غلام زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے، جبکہ شہاب دوستدل کوما میں ہے اور باقی شدید زخمی زیرِ علاج ہیں۔ مقامی آبادی نے ایف سی پر جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور آزاد و شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
پانک کی رپورٹ کے مطابق ماورائے عدالت قتل بدستور ایک سنگین مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ جولائی میں کم از کم 19 افراد کو قتل کیا گیا، جن میں شامل ہیں: کریم جان (مشکے، کنداڑی)، ھمل بلوچ (تمپ، گومازی)، غلام جان (آواران، پاھو)، عظمت رند (ڈیرہ مراد جمالی)، مجاہد بلوچ (خاران)، شاہ در مینگل (چاغی، نوکنڈی)، حمید بلوچ (آواران، کوٹو جھاؤ)، نذیر احمد (جھاؤ، آواران)، نور خان (جھاؤ، آواران)، قمبر اسلم ( خضدار)، مزار بلوچ (مشکے، کنداڑی)، ڈاکٹر عبدالمجید مینگل، عطاالرحمان مینگل اور ممتاز مینگل (وڈھ، خضدار)، علی غلام (کیچ، گورکوپ راکٹ حملہ) اور شاہ جہاں (پنجگور، چتکان)۔ اس کے علاوہ کلات کے علاقے کہوک سے تین مسخ شدہ لاشیں بھی برآمد ہوئیں جن کی شناخت تیزاب سے چہروں کو مسخ کیے جانے کے باعث ممکن نہ ہوسکی۔