By using this site, you agree to the Privacy Policy and Terms of Use.
Accept
Customize
بلوچ نیشنل موومنٹ

بلوچ نیشنل موومنٹ

آزادی ، انصاف اور برابری
Notification
Sign In
بلوچ نیشنل موومنٹ بلوچ نیشنل موومنٹ
Font ResizerAa
Sign In
Customize

Updates

latest reports and statements

نواب اکبرخان نے اپنی قربانی سے پاکستان کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ دل مراد بلوچ

پانک جولائی 2025 کی رپورٹ: بلوچستان میں 19 افراد ماورائے عدالت قتل، 96 جبری طور پر لاپتہ

بلوچ نے اپنی آزادی کھوئی ہے وقار نہیں، ہم آزاد تھے ، ہمیں آزاد ہونا چاہیے۔ بی این ایم یوم تجدید عہد کے پروگرامات

Find us on socials Media

20kFollowersLike
33kFollowersFollow
100kSubscribersSubscribe
TelegramFollow
WhatsAppFollow
RSS FeedFollow
پانک

پانک جنوری 2024 کی رپورٹ : 11 افراد ماورائے عدالت قتل ، 39 افراد جبری لاپتہ کیے گئے

یہ صورتحال انسانی حقوق اور سلامتی کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیتی ہے۔

پانک
Last updated: 6 فروری, 2024 6:19 شام
By پانک
Share
SHARE
پانک جنوری 2024 کی رپورٹ ۔ اردو ڈاؤن لوڈ

پانک جنوری 2024 کی رپورٹ ۔انگلش

ڈاؤن لوڈ

بلوچ نیشنل موومنٹ کے انسانی حقوق کے ادارے پانک نے جنوری 2024 کی ماہانہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق رواں سال میں بھی بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور بلوچ قوم کے خلاف ریاست پاکستان کے مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔

جنوری 2024 کو پاکستانی فوج نے 11 افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا جبکہ 39 افراد گرفتاری کے بعد لاپتہ کیے گئے۔ 28 افراد بازیاب ہوئے جو بغیر کسی عدالتی کارروائی کے پاکستانی فوج کے اذیت خانوں میں قید تھے۔

گذشتہ جنوری کو شال سے 2 ، کیچ سے 19 ، آواران سے 2 ، ڈیرہ بگٹی سے 9، نصیرآباد سے 1، کچی سے 2 ، گوادر سے 2 اور خاران سے 2 افراد کو ماورائے عدالت گرفتاری کے بعد جبری لاپتہ کیا گیا۔

پانک کی رپورٹ میں 21 جنوری کی رات کو مغربی بلوچستان میں پاکستانی فوج کے فضائی حملوں میں بلو چ مہاجرین کے قتل کا ذکرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس حملے میں قتل کیے جانے والے افراد میں اکثریت بچوں کی تھی جبکہ ایک مرد سیاسی کارکن اور دو گھریلو خواتین بھی ان حملوں میں قتل کیے گئے۔

رپورٹ حکومت پاکستان کے اس دعوے کو مسترد کرتی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ان حملوں میں بلوچ سرمچاروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج کے مغربی بلوچستان کے علاقے شم سر سراوان میں ہوئے حملوں میں بی این ایم کے رکن علی دوست عرف چیئرمین دوستا محمد اپنی اہلیہ اور تین بچوں سمیت قتل ہوئے جبکہ نجمہ بلوچ اپنے کمسن بھانجے ماھکان ، ماہ زیب اور بھتیجا فرھاد سمیت قتل ہوئے۔

پانک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال انسانی حقوق اور سلامتی کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیتی ہے۔

TAGGED:پانک ماہانہ رپورٹس
Share This Article
Facebook Copy Link Print
Byپانک
بی این ایم کا انسانی حقوق سے متعلق ادارہ۔

Suggested Reads

پانک

پانک رپورٹ: نومبر 2024 میں بلوچستان میں پاکستانی فوج نے 98 افراد کو جبری گمشدہ اور 12 کو ماورائے عدالت قتل کیا

پانک

پانک فروری 2023 کی رپورٹ :بلوچستان میں دو خواتین سمیت 39 افراد جبری لاپتہ ، ایک شخص کو فوج نے قتل کردیا

پانک

پانک رپورٹ مئی 2023: 25 افراد جبری لاپتہ، 12 کو تشدد کرکے چھوڑ دیا گیا اور فوج کی بلیک میلنگ سے تنگ خاتون کی خودکشی

پانک

دسمبر میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ : 38 جبری لاپتہ ، ایک کی لاش برآمد، ھورماڑا میں پرامن مظاہرے کے دوران پولیس تشدد سے ایک ہلاک

پانکشعبہ جات

پانک کی اکتوبر 2023 کی رپورٹ : بلوچستان میں دو افراد کا حراستی قتل اور 34 جبری لاپتہ

پانک

10 ستمبر, 2024

پانکشعبہ جات

جھاؤ – ریاستی مظالم اور اجتماعی سزا پر پانک رپورٹ

پانک

سال 2022 میں پاکستانی فوج نے بلوچستان میں 195 قتل اور 629 افراد جبری لاپتہ کیے-پانک

Show More
  • Paank - HR Department
  • BNM Footages
  • The Baloch Martyrs

©2024 Baloch National Movement (BNM) . Free to use, with all rights reserved for visual content.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?