By using this site, you agree to the Privacy Policy and Terms of Use.
Accept
Customize
بلوچ نیشنل موومنٹ

بلوچ نیشنل موومنٹ

آزادی ، انصاف اور برابری
Notification
Sign In
بلوچ نیشنل موومنٹ بلوچ نیشنل موومنٹ
Font ResizerAa
Sign In
Customize

Updates

latest reports and statements

یورپی پارلیمنٹ میں کانفرنس: پاکستان کی جی ایس پی پلس حیثیت کا جائزہ، بی این ایم وفد کی شرکت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شواہد پیش

پانک رپورٹ اکتوبر 2025: بلوچستان میں پاکستان کے فضائی حملوں میں 6 شہری ہلاک، 20 ماورائے عدالت قتل، 87 افراد جبری لاپتہ

شہادت آرزو نہیں، مقصد بلوچ گلزمین اور بلوچ قوم کی بقا ہے، جس کے لیے قربانی ناگزیر ہے – بی این ایم کی تقریب میں قاضی ریحان، بابا جی آر اور جیھند بلوچ کا خطاب

3

Find us on socials Media

20kFollowersLike
33kFollowersFollow
100kSubscribersSubscribe
TelegramFollow
WhatsAppFollow
RSS FeedFollow
پانک

پانک جنوری 2024 کی رپورٹ : 11 افراد ماورائے عدالت قتل ، 39 افراد جبری لاپتہ کیے گئے

یہ صورتحال انسانی حقوق اور سلامتی کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیتی ہے۔

پانک
Last updated: 6 فروری, 2024 6:19 شام
By پانک
Share
SHARE
پانک جنوری 2024 کی رپورٹ ۔ اردو ڈاؤن لوڈ

پانک جنوری 2024 کی رپورٹ ۔انگلش

ڈاؤن لوڈ

بلوچ نیشنل موومنٹ کے انسانی حقوق کے ادارے پانک نے جنوری 2024 کی ماہانہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق رواں سال میں بھی بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور بلوچ قوم کے خلاف ریاست پاکستان کے مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔

جنوری 2024 کو پاکستانی فوج نے 11 افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا جبکہ 39 افراد گرفتاری کے بعد لاپتہ کیے گئے۔ 28 افراد بازیاب ہوئے جو بغیر کسی عدالتی کارروائی کے پاکستانی فوج کے اذیت خانوں میں قید تھے۔

گذشتہ جنوری کو شال سے 2 ، کیچ سے 19 ، آواران سے 2 ، ڈیرہ بگٹی سے 9، نصیرآباد سے 1، کچی سے 2 ، گوادر سے 2 اور خاران سے 2 افراد کو ماورائے عدالت گرفتاری کے بعد جبری لاپتہ کیا گیا۔

پانک کی رپورٹ میں 21 جنوری کی رات کو مغربی بلوچستان میں پاکستانی فوج کے فضائی حملوں میں بلو چ مہاجرین کے قتل کا ذکرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس حملے میں قتل کیے جانے والے افراد میں اکثریت بچوں کی تھی جبکہ ایک مرد سیاسی کارکن اور دو گھریلو خواتین بھی ان حملوں میں قتل کیے گئے۔

رپورٹ حکومت پاکستان کے اس دعوے کو مسترد کرتی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ان حملوں میں بلوچ سرمچاروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج کے مغربی بلوچستان کے علاقے شم سر سراوان میں ہوئے حملوں میں بی این ایم کے رکن علی دوست عرف چیئرمین دوستا محمد اپنی اہلیہ اور تین بچوں سمیت قتل ہوئے جبکہ نجمہ بلوچ اپنے کمسن بھانجے ماھکان ، ماہ زیب اور بھتیجا فرھاد سمیت قتل ہوئے۔

پانک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال انسانی حقوق اور سلامتی کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیتی ہے۔

TAGGED:پانک ماہانہ رپورٹس
Share This Article
Facebook Copy Link Print
Byپانک
بی این ایم کا انسانی حقوق سے متعلق ادارہ۔

Suggested Reads

پانک

پانک فروری 2025 کی رپورٹ: بلوچستان میں 18 افراد قتل، 134 جبری طور پر لاپتہ

پانک

10 ستمبر, 2024

پانک

پانک رپورٹ: نومبر 2024 میں بلوچستان میں پاکستانی فوج نے 98 افراد کو جبری گمشدہ اور 12 کو ماورائے عدالت قتل کیا

پانکشعبہ جات

جھاؤ – ریاستی مظالم اور اجتماعی سزا پر پانک رپورٹ

پانک

پانک کی رپورٹ: بلوچستان میں انسانی حقوق کا بحران جاری — مارچ میں 181 جبری گمشدگیاں، 12 ماورائے عدالت قتل

پانک

پانک اگست 2023 کی رپورٹ : پاکستان پر معاشی دباؤ میں اضافہ بلوچستان میں وسائل کے استحصال کو فروغ دے گا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے کا خدشہ

پانک

پانک رپورٹ اکتوبر 2025: بلوچستان میں پاکستان کے فضائی حملوں میں 6 شہری ہلاک، 20 ماورائے عدالت قتل، 87 افراد جبری لاپتہ

پانک

پانک اپریل 2024 کی رپورٹ : 37 افراد جبری لاپتہ ، 2 ماورائے عدالت قتل اور 21 اذیت گاہوں سے رہا

Show More
  • Paank - HR Department
  • BNM Footages
  • The Baloch Martyrs

©2024 Baloch National Movement (BNM) . Free to use, with all rights reserved for visual content.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?