Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: بلوچستان کا بحران صرف انسانی حقوق کا نہیں بلکہ قومی سوال کا ہے ، ڈاکٹر نسیم بلوچ کا اقوامِ متحدہ کے ذیلی اجلاس میں خطاب
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ بلوچستان کا بحران صرف انسانی حقوق کا نہیں بلکہ قومی سوال کا ہے ، ڈاکٹر نسیم بلوچ کا اقوامِ متحدہ کے ذیلی اجلاس میں خطاب
پروگراماتچیئرپرسن

بلوچستان کا بحران صرف انسانی حقوق کا نہیں بلکہ قومی سوال کا ہے ، ڈاکٹر نسیم بلوچ کا اقوامِ متحدہ کے ذیلی اجلاس میں خطاب

Dr. Naseem Baloch
Last updated: July 2, 2026 7:22 pm
Last updated: July 2, 2026
10 Min Read
Share
SHARE

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62ویں اجلاس کے موقع پر جنیوا پریس کلب میں ’’ جبری مذہب تبدیلیاں اور اقلیتی خواتین ‘‘ کے عنوان سے ایک ذیلی اجلاس سے خطاب کیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ جبری مذہب تبدیلی کا مسئلہ محض مذہب تک محدود نہیں ہے۔

انھوں نے کہا یہ صرف مذہب پر ہونے والی بحث نہیں، بلکہ طاقت پر ہونے والی بحث ہے۔ یہ اس حقیقت کی عکاسی ہے کہ ایک عورت کے جسم کو جنگ کا میدان بنا دیا جاتا ہے۔ یہ ایک کم عمر لڑکی کو اس کے گھر، خاندان، زبان، عقیدے اور مستقبل سے محروم کرنے کی کہانی ہے، اور پھر اسے یہ کہنے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ ‘میں نے یہ اپنی مرضی سے کیا۔

اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے بی این ایم کے چیئرمین نے بلوچ خواتین کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مختلف مگر باہم مربوط نوعیت کے جبر کا شکار ہیں۔

انھوں نے کہا بلوچستان میں خواتین صرف صنفی تشدد کا شکار نہیں ہیں، بلکہ وہ قبضے، فوجی بالادستی ، جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزا اور ریاستی کنٹرول کے باعث بھی مسلسل اذیت کا سامنا کر رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بلوچ قوم کے لیے یہ بحران ’’ صرف انسانی حقوق کا بحران نہیں ‘‘ بلکہ ’’ ایک قومی مسئلہ ‘‘ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے بلوچستان پر اپنے قبضے کے بعد سے وہاں سیاسی، ثقافتی اور عسکری جبر کی ایک طویل مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔

جبری گمشدگیوں کے اثرات بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جدوجہد کرنے والے خاندانوں کی نمائندہ آواز بلوچ خواتین بن چکی ہیں۔

انھوں نے کہا جب کسی بلوچ مرد کو جبری طور پر لاپتہ کیا جاتا ہے تو برسوں تک پریس کلب کے باہر اس کی تصویر ہاتھ میں لے کر کون کھڑا رہتا ہے؟ اس کی ماں، اس کی بہن، اس کی بیوی، اس کی بیٹی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ریاست خاندانوں کو سیاسی دباؤ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صرف دو ہفتے قبل ان کی اپنی بہن کو ان کے خلاف ایک پریس کانفرنس کرنے پر مجبور کیا گیا۔اسے دباؤ کے تحت کیمروں کے سامنے بولنے پر مجبور کیا گیا، اس لیے نہیں کہ وہ ان باتوں پر یقین رکھتی تھی، بلکہ اس لیے کہ ریاست اسے میرے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتی تھی۔جب ایک ریاست خوف کے ذریعے کسی بہن کو اپنے بھائی کے خلاف بولنے پر مجبور کرے تو یہ رضامندی نہیں بلکہ جبر ہوتا ہے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ جبری مذہب تبدیلی، جبری بیانات، خاموشی پر مجبور کرنا اور سیاسی جبر، دراصل ایک ہی نظام کے مختلف رنگ ہیں۔

انھوں نے کہا یہی وہ منطق ہے جو جبری مذہب تبدیلی کو ممکن بناتی ہے۔ یہی منطق جبری بیانات، جبری خاموشی، جبری وفاداری اور جبری اطاعت کو جنم دیتی ہے۔ یہ آزادی پر طاقت کے غلبے کی منطق ہے۔

انھوں نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر بلوچ کارکنوں کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو ’’ انسانی حقوق کی محافظ‘‘ قرار دیا، جن کا واحد جرم صرف یہ پوچھنا تھا کہ “ہمارے لوگ کہاں ہیں؟”

انھوں نے کہا اس سوال کا جواب دینے کے بجائے ریاست نے انھیں سزا دی۔ جبری گمشدگیوں کا خاتمہ کرنے کے بجائے ان لوگوں کو سزا سنائی گئی جو ان کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ یہ فیصلہ انصاف نہیں بلکہ ایک ایسی خاتون کو خاموش کرانے کی کوشش ہے جس نے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔

بی این ایم کے چیئرمین نے موجودہ صورتحال کا موازنہ بلوچستان کی تاریخی روایت سے کرتے ہوئے کہا کہ ہندو اور سکھ برادریاں طویل عرصے تک بلوچستان میں باعزت شہریوں کی حیثیت سے رہتی آئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تقسیمِ ہند کے دوران جب برصغیر کے مختلف علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد ہوا، بلوچستان بڑی حد تک اس سے محفوظ رہا کیونکہ ہمارا معاشرہ ’’ احترام، مہمان نوازی اور بقائے باہمی ‘‘ کی اقدار پر قائم تھا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں وقت گزرنے کے ساتھ مذہب کو ’’ ریاستی طاقت کے ایک آلے‘‘ میں تبدیل کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں مذہبی اقلیتوں، خواتین اور محکوم اقوام کے خلاف امتیازی سلوک کو فروغ ملا۔

بین الاقوامی برادری سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نسیم بلوچ نے مطالبہ کیا کہ ان باہم مربوط انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو جداگانہ واقعات کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک جامع مسئلے کے طور پر سمجھا جائے۔

انھوں نے اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے مطالبہ کیا کہ جبری مذہب تبدیلی اور جبری شادیوں کا خاتمہ کیا جائے، اقلیتی خواتین اور بچیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور تمام بلوچ سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، بلوچ خواتین اور خاندانوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں، جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزا، فوجی کارروائیوں اور خاندانوں کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

انھوں نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ بلوچ خواتین کو ’’ صرف مظلوم نہیں بلکہ مزاحمت، سچائی اور وقار کی قائدین ‘‘ کے طور پر تسلیم کیا جائے۔

انھوں نے خاندان کے افراد کو زبردستی عوامی بیانات دینے پر مجبور کرنے کو ’’ جبر کی بدترین شکلوں میں سے ایک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماعی سزا کے مترادف ہے۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ جب بچے خوف میں زندگی گزار رہے ہوں اور متاثرین کو دھمکیوں کا سامنا ہو تو کیا مذہبی آزادی یا رضامندی واقعی موجود ہو سکتی ہے؟ ان کے مطابق جبری مذہب تبدیلی ’’ شناخت، وقار، آزادیِ ضمیر، خاندانی زندگی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ‘‘ ہے۔

پاکستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ ہندو اور مسیحی لڑکیوں کو بارہا اغوا کیا گیا، زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا اور جبر کے ذریعے ان کی شادیاں کرائی گئیں، جبکہ ان کے خاندان اکثر انصاف حاصل کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ انھوں نے سندھ میں پیش آنے والے متعدد واقعات اور پنجاب میں مسیحی برادریوں پر ہونے والے حملوں، جن میں گوجرہ (2009)، جوزف کالونی (2013) اور جڑانوالہ (2023) شامل ہیں، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب ’’ مذہبی نفرت، ریاستی ناکامی اور استثنیٰ کی ایک وسیع تر ثقافت ‘‘ کا حصہ ہیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ خوف اور جبر کبھی بھی ایک منصفانہ معاشرے کی بنیاد نہیں بن سکتے۔

انھوں نے کہا کسی لڑکی کو اس کا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کر کے ایک آزاد معاشرہ تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔ نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کر کے ایک پرامن ریاست قائم نہیں کی جا سکتی۔ خواتین کو دھمکا کر خاموش کرنے سے انصاف پر مبنی نظام وجود میں نہیں آ سکتا۔ اور جہاں خوف کو قانون بنا دیا جائے وہاں انسانی وقار باقی نہیں رہ سکتا۔

انھوں نے آخر میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے اس وژن کا اعادہ کیا کہ مستقبل ایسا ہو ’’ جہاں ہر انسان کی عزت اس کی انسانیت کی بنیاد پر کی جائے، نہ کہ اس کے مذہب، جنس، زبان یا قومی شناخت کی بنیاد پر‘‘ ، اور ’’ ایسا بلوچستان جہاں خواتین آزاد ہوں، اقلیتیں محفوظ ہوں، مذہب ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہو اور قانون سب کو یکساں تحفظ فراہم کرے۔‘‘

یہ پروگرام گلوبل ہیومن رائٹس ڈیفنس اور CAP Liberté de Conscience کے مشترکہ تعاون سے منعقد کیا گیا، جس میں ارکانِ پارلیمان، انسانی حقوق کے کارکنوں اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی اور اقلیتی خواتین کو درپیش مسائل پر تبادلۂ خیال کیا۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print

Reports and Statements

بلوچستان کے جبری گمشدگان کی خاموش فریاد، بی این ایم کی جنیوا میں تصویری نمائش

انھوں نے کہا کہ بی این ایم کی عالمی مہم اسی سوال کو اقوام متحدہ جیسے عالمی پلیٹ فارم تک…

پروگرامات
September 29, 2026

جنیوا میں بی این ایم کا احتجاج: بلوچستان میں جینے کا حق بھی چھین لیا گیا، مرنے کا وقار بھی

سندھی ، پشتون ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے نمائندگان کی شرکت سے یہ خطے کے محکوم اقوام کی مشترکہ…

احتجاج
September 27, 2026

شہباز شریف کی اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران بی این ایم کا احتجاج، ’آزاد بلوچستان‘ کے نعرے

بی این ایم نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بلوچستان کی صورتِ حال پر ’خاموشی ختم کرنے‘ اور ’فوری…

احتجاج
September 26, 2026

نیویارک میں بی این ایم کی ڈیجیٹل ٹرک مہم، بلوچستان کی صورتحال سے عالمی آگاہی کی کوشش

اس مہم کا مقصد شہر میں موجود بین الاقوامی نمائندوں، صحافیوں، شہریوں اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنے…

پروگرامات
September 26, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?