— رانا ٹی وی پر ڈاکٹر نسیم بلوچ کے ساتھ انٹرویو
نوٹ:
بلوچستان کی موجودہ صورتحال اور بلوچ قومی جدوجہد کے حوالے سے افغانستان کے رانا ٹی وی کے میرویس ستانکزی نے بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو کیا۔
یہ انٹرویو 1 فروری 2026 کو رانا ٹی وی کے سیٹلائٹ چینل اور یوٹیوب پر نشر کیا گیا۔ بعد ازاں اسے بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این ایم) کے انفارمیشن، آئی ٹی اور کلچرل ڈیپارٹمنٹ نے تحریری شکل میں منتقل کیا۔
جس کا یہ اردو ترجمہ ہے۔
آپ مکمل انٹرویو درج ذیل لنک پر دیکھ اور سن سکتے ہیں:
میرویس ستانکزی :
1948 سے بلوچ عوام اپنے حقوق اور آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ جدوجہد اتنے طویل عرصے سے کیوں جاری ہے؟
ڈاکٹر نسیم بلوچ:
یہ جدوجہد نہ کل شروع ہوئی ہے اور نہ ہی عارضی نوعیت کی ہے۔ اس کا آغاز 27 مارچ 1948 کو ہوا، جس دن پاکستان نے فوجی کارروائی کے ذریعے بلوچستان پر جبری قبضہ کیا۔
بلوچستان نے 11 اگست 1947 کو اپنی آزادی کا اعلان کر دیا تھا، لیکن پاکستان نے فوج بھیج کر بلوچ قوم کی مرضی کے خلاف اس ملک کو ضم کر لیا۔ اسی دن سے مزاحمت شروع ہوئی، جو آج تک جاری ہے۔
سات دہائیوں سے زائد عرصے میں یہ مزاحمت مختلف شکلیں اختیار کرتی رہی ہے، وقت اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالتی رہی ہے، لیکن اس کا بنیادی مقصد ہمیشہ ایک ہی رہا ہے: جبری قبضے کا خاتمہ اور آزادی کا حصول۔
میرویس ستانکزی :
پاکستان دعویٰ کرتا ہے کہ بلوچستان میں حالیہ واقعات دہشت گردی ہیں۔ آپ اس الزام کا کیا جواب دیتے ہیں؟
ڈاکٹر نسیم بلوچ :
ہم چاہتے ہیں کہ دنیا دہشت گردی اور آزادی کی تحریک کے درمیان واضح فرق کو سمجھے۔
بلوچ جدوجہد دہشت گردی نہیں ہے۔ یہ ایک مقامی قوم کی جائز تحریک ہے جو نوآبادیاتی قبضے کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے۔ پاکستان اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ہماری مزاحمت کو دہشت گردی قرار دیتا ہے۔
کبھی بھارت پر الزام لگایا جاتا ہے، کبھی افغانستان پر، کبھی ایران پر—یہ ایک پرانی پروپیگنڈا حکمتِ عملی ہے۔ حقیقت سادہ ہے: پاکستان ایک حقیقی آزادی کی تحریک کو غلط رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
میرویس ستانکزی :
پھر خطے میں دہشت گردی کا ذمہ دار کون ہے؟
ڈاکٹر نسیم بلوچ :
اگر ہم ایمانداری سے بات کریں تو دہشت گردی پاکستان کی پالیسیوں کی پیداوار ہے۔
ہم نے افغانستان، کشمیر ، خود پاکستان کے اندر اور سرحد پار دہشت گردی دیکھی ہے۔ پاکستان نے پڑوسی ممالک پر حملے کیے ہیں اور حتیٰ کہ سرحدوں کے پار بلوچ پناہ گزینوں کو بھی قتل کیا ہے۔
بلوچوں نے کبھی کسی دوسرے ملک میں جنگ نہیں لڑی۔ ہماری جدوجہد مکمل طور پر بلوچستان تک محدود ہے۔ ہماری سیاست، مزاحمت اور قربانیاں ہماری اپنی سرزمین سے جڑی ہوئی ہیں۔
میرویس ستانکزی :
کیا پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کے حل کا کوئی امکان ہے؟
ڈاکٹر نسیم بلوچ:
پاکستان ایک قابلِ اعتماد ریاست نہیں ہے۔ پاکستان پر اعتماد کرنا اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔
تاریخ اس کی گواہ ہے۔ 1950 کی دہائی میں نواب نوروز خان کو قرآن پر حلف دے کر مذاکرات کے لیے بلایا گیا۔ وہ مکالمے پر یقین کرتے ہوئے پہاڑوں سے نیچے آئے، مگر پاکستان نے انھیں قید کر لیا۔ ان کے ساتھیوں کو پھانسی دے دی گئی اور وہ خود 90 برس کی عمر میں جیل میں وفات پا گئے۔
یہ کوئی واحد واقعہ نہیں تھا۔ اس طرح کی غداریاں بار بار دہرائی گئی ہیں۔ اسی لیے بین الاقوامی ضمانت کے بغیر مذاکرات بے معنی ہیں۔
میرویس ستانکزی :
کن حالات میں مذاکرات ممکن ہو سکتے ہیں؟
ڈاکٹر نسیم بلوچ :
اگر اقوامِ متحدہ یا کوئی بین الاقوامی ضامن مداخلت کرے اور بلوچستان سے پاکستانی افواج کے انخلا کو یقینی بنائے، تب ہی کوئی سیاسی عمل شروع ہو سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق مقبوضہ اقوام کو حقِ خودارادیت حاصل ہے۔ اگر کوئی غیر جانبدار ضامن سامنے آئے تو بلوچ قوم پرامن طور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
میرویس ستانکزی :
پاکستان کہتا ہے کہ بلوچ حقوق پارلیمانی سیاست کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ طریقہ ناکام کیوں ہوا؟
ڈاکٹر نسیم بلوچ:
ہماری قیادت نے دہائیوں تک پاکستان کی پارلیمنٹ اور اداروں کو آزمایا—اور وہ ناکام ثابت ہوئے۔
آج بھی بلوچ پارلیمنٹیرین کھلے عام اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان کے سیاسی نظام میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ چاہے اختر مینگل ہوں یا ڈاکٹر مالک، سب اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔
یہ نظام بلوچوں کو جبر کے سوا کچھ نہیں دیتا۔
میرویس ستانکزی :
بلوچستان میں انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟
ڈاکٹر نسیم بلوچ:
صورتحال تباہ کن ہے۔
صرف 2025 میں، ہمارے انسانی حقوق کے شعبے پانک نے جبری گمشدگیوں کے ایک ہزار سے زائد کیسز دستاویزی شکل میں ریکارڈ کیے—یعنی روزانہ اوسطاً چار سے پانچ افراد۔
اسی سال دو سو سے زائد ماورائے عدالت قتل ہوئے۔ پنجگور، خضدار، ڈیرہ بگٹی اور توتک میں اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں۔ صرف توتک میں 169 لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں سے اکثر کی شناخت نہیں ہو سکی۔
یہ کسی بھی صورت نسل کشی سے کم نہیں۔
میرویس ستانکزی :
بلوچ مزاحمت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی وجہ کیا ہے؟
ڈاکٹر نسیم بلوچ:
جب جبر انتہا کو پہنچ جائے تو وہ لوگ بھی متحرک ہو جاتے ہیں جو روایتی طور پر تنازعات سے دور رہتے ہیں۔
بلوچ خواتین—مائیں، بہنیں، بیویاں—سڑکوں پر اس لیے نکلیں کہ ان کے پیاروں کو لاپتہ یا قتل کر دیا گیا۔ کریمہ بلوچ، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ جیسی شخصیات اس بیداری کی علامت ہیں۔
ان میں سے بہت سی خواتین متاثرہ خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس کے باوجود، پرامن جدوجہد کو بھی گرفتاریوں اور قید کا سامنا کرنا پڑا۔ جب ہر جمہوری راستہ بند کر دیا جائے تو لوگ سخت مزاحمت کی طرف دھکیل دیے جاتے ہیں۔
میرویس ستانکزی :
اب تک عالمی برادری نے کیا کردار ادا کیا ہے؟
ڈاکٹر نسیم بلوچ:
عالمی برادری کے اقدامات ناکافی ہیں۔
عالمی توجہ ایک بحران سے دوسرے بحران کی طرف منتقل ہو جاتی ہے—فلسطین، شام، یوکرین—جبکہ بلوچستان میڈیا بلیک آؤٹ کا شکار رہتا ہے۔
ہم نے یہ مسائل اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور عالمی انسانی حقوق کے فورمز پر اٹھائے ہیں۔ کچھ بیانات آتے ہیں، کچھ خطوط لکھے جاتے ہیں—لیکن حقیقی دباؤ موجود نہیں۔
میرویس ستانکزی :
آپ دنیا کو بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
ڈاکٹر نسیم بلوچ:
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ظلم کے خلاف سخت اقدامات کریں گے اور اسے مستقبل میں جاری نہیں رہنے دیں گے۔ آپ کے پلیٹ فارم کے ذریعے ہم دنیا، دوستوں اور تمام انسانوں تک یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ اگر عالمی برادری نے مداخلت نہ کی تو پاکستان ایک بے رحم اور قانون سے بالاتر ریاست کے طور پر اپنا رویہ جاری رکھے گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی فوج اور اس کے پراکسیز بنگلہ دیش میں تقریباً تیس لاکھ افراد کے قتل کے ذمہ دار تھے۔ اگر اس صورتحال کو اب نہ روکا گیا تو پاکستان 1970 کی دہائی کی طرح وہی سانحہ بلوچستان میں دہرانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اگر آج نہیں تو کل۔ جب تک اجتماعی قتل کو روکا نہیں جاتا، تشدد کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور مزید خونریزی کا باعث بنے گا۔
میرویس ستانکزی :
اس صورتحال میں سیاسی جماعتوں اور عالمی برادری کے کردار کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹر نسیم بلوچ:
سیاسی جماعتوں اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ تاریخ کے دہرائے جانے سے پہلے مداخلت کریں۔ خاموشی اور بے عملی صرف ظلم کو جاری رکھنے کا موقع دیتی ہے۔ بین الاقوامی دباؤ کے بغیر پاکستان خود کو جواب دہی سے آزاد سمجھتا رہے گا۔
میرویس ستانکزی :
پاکستان اکثر اپنی فوجی طاقت پر زور دیتا ہے۔ آپ اس کا کیا جواب دیتے ہیں؟
ڈاکٹر نسیم بلوچ:
پاکستان دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے پاس دنیا کی سب سے بڑی افواج میں سے ایک ہے۔ لیکن جب ہم ایک فوج کا موازنہ ایک قوم سے کرتے ہیں تو حقیقت واضح ہو جاتی ہے: بلوچستان ایک قوم ہے، اور ایک قوم کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
جس طرح ایک قوم کو تباہ نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح اس کی تحریک کو بھی کچلا نہیں جا سکتا۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ بلوچستان کو آزاد ہونے میں کتنے دن یا سال لگیں گے، لیکن مختلف پلیٹ فارمز پر بلوچ قوم کے اٹھائے گئے اقدامات اور ہماری جدوجہد کی کثیرالجہتی نوعیت کو پاکستان کی فوجی طاقت نہیں روک سکتی۔
تاریخ ثابت کرتی ہے کہ جہاں بھی افواج نے اقوام کو دبانے کی کوشش کی، وہ بالآخر ناکام ہوئیں۔ ویتنام اور افغانستان میں امریکہ کی مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں۔ طاقت کے ذریعے کسی قوم کو شکست دینا ناممکن ہے۔ آج ہم مسلسل آزادی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہم اپنے مقصد کے قریب تر ہو رہے ہیں۔ آج کی جدوجہد ہمارے بچوں کے لیے راستہ آسان بنائے گی اور انھیں اس ہدف کے حصول کے قریب لے آئے گی۔
میرویس ستانکزی :
اکثر پاکستانیوں اور بلوچوں کے درمیان تصادم کی بات کی جاتی ہے۔ آج یہ تصویر کتنی درست ہے؟
ڈاکٹر نسیم بلوچ:
یہ تصویر اب درست نہیں رہی۔ یہ نہ بلوچوں اور کسی دوسری قوم کے درمیان تنازعہ ہے اور نہ ہی نسلی تصادم۔ پاکستان کے اندر دیگر اقوام بھی انہی مسائل کا سامنا کر رہی ہیں جن کا سامنا بلوچ عوام کو ہے۔ انھوں نے بھی شہری حقوق کی تحریکیں شروع کی ہیں، جیسے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم)۔
یہ تحریکیں حقوق، انصاف اور وقار کا مطالبہ کرتی ہیں، اور کئی حوالوں سے ان کی جدوجہد بلوچ عوام کی جدوجہد سے ہم آہنگ ہے۔
میرویس ستانکزی :
آپ کے خیال میں دیگر اقوام اور بلوچ عوام مشترکہ اہداف کے لیے کیسے تعاون کر سکتے ہیں؟
ڈاکٹر نسیم بلوچ :
باہمی تعاون مشترکہ دکھ اور انصاف، وقار اور بنیادی حقوق کے مشترکہ مطالبات کو تسلیم کرنے سے ممکن ہے۔ شہری حقوق کی تحریکیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عام لوگ ان مشترکہ جدوجہد کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
میرویس ستانکزی :
بلوچستان اور ہمسایہ خطوں کے درمیان تاریخی تعلقات کی وضاحت کریں گے؟
ڈاکٹر نسیم بلوچ:
بلوچ اور افغان عوام کے درمیان تعلق صدیوں پر محیط ہے۔ یہ کوئی نیا رشتہ نہیں۔ سترھویں صدی میں بلوچستان ایک ملک اور ایک وفاق کے طور پر موجود تھا، اور افغانستان بھی صدیوں سے ایک ملک رہا ہے۔
جب برطانوی اور پرتگالی جیسے نوآبادیاتی طاقتیں خطے میں آئیں، اور جب بلوچستان میں بلوچوں پر ظلم ہوا تو انھوں نے افغانستان میں پناہ لی۔ اسی طرح جب افغانوں پر ظلم ہوا تو انھوں نے بلوچستان میں پناہ حاصل کی۔ یہ رشتہ سینکڑوں سال سے قائم ہے۔
ہم آج بھی اس تعلق کا احترام کرتے ہیں اور اسے برقرار رکھتے ہیں۔ پشتونوں اور بلوچوں نے تاریخی طور پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ وہ قابلِ اعتماد ہمسائے ہیں اور مشترکہ روایات رکھتے ہیں۔ آج پی ٹی ایم جیسی تحریکیں ان مشترکہ جدوجہد پر کھل کر بات کرتی ہیں۔ ہم ان کے ساتھ، یورپ میں اپنے دوستوں کے ساتھ اور بلوچستان میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔ بیرونِ ملک سرگرمیوں کے دوران ہم ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔
میرویس ستانکزی :
پاکستان ترقیاتی منصوبوں، خاص طور پر سی پیک، کو بلوچستان کا حل قرار دیتا ہے۔ آپ کا ردِعمل کیا ہے؟
ڈاکٹر نسیم بلوچ:
پاکستان کہتا ہے کہ وہ بلوچستان کی ترقی چاہتا ہے اور یہ دلیل دیتا ہے کہ جیسے ہی نام نہاد سیکیورٹی مسائل حل ہوں گے، خوشحالی آئے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ بلوچستان کو محفوظ اور ترقی یافتہ بنانا چاہتے ہیں۔ مگر یہ نام نہاد ترقی ایک ہی منصوبے سے جڑی ہوئی ہے: چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)۔ بلوچستان نے اس منصوبے کی مسلسل مخالفت کی ہے۔
سی پیک محض ایک مذاق ہے۔ اس کی پوری بنیاد گوادر سے شروع ہوتی ہے۔ گوادر بندرگاہ کے بغیر سی پیک کی کوئی حیثیت نہیں۔ لیکن آج گوادر کی صورتحال دیکھیں—صاف پینے کے پانی تک رسائی نہیں۔ ایسے حالات میں کیسی ترقی؟
گوادر سی پیک کا مرکز ہے، مگر بندرگاہ عملاً چینی کنٹرول میں ہے، جبکہ مقامی لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اسی دوران حکام گوادر کو ایک محدود علاقہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں—باڑ لگانا، داخلے کے راستے محدود کرنا، اور چیک پوسٹوں و نگرانی کے ذریعے لوگوں کو قابو میں رکھنا۔ یہ سب اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست کو بلوچستان کے عوام پر اعتماد نہیں۔