جنیوا: بی این ایم کے خارجہ سیکریٹری فہیم بلوچ نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اکسٹہویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں، تشدد اور ماورائے عدالت قتل جاری ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو ہراسانی کا سامنا ہے۔ انہوں نے آزادانہ تحقیقات، احتساب اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
ان کی تقریر کا مکمل متن درج ذیل ہے:
محترم چیئرمین، خواتین و حضرات،
میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کی جانب آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹس کے مطابق اس خطے میں جبری گمشدگیاں، تشدد اور ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری ہے۔ بہت سے افراد کو سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں حراست میں لیا جاتا ہے، وہ طویل عرصے تک لاپتہ رہتے ہیں، اور بعض اوقات بعد میں ان کی لاشیں ملتی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس طرزِ عمل کو “قتل کرو اور پھینک دو” پالیسی قرار دیا ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اپنی رپورٹس میں جبری گمشدگیوں کے تسلسل کی نشاندہی کی ہے۔ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ جب اپنے پیاروں کی تلاش میں نکلتے ہیں تو انہیں اکثر دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر بھی اٹھایا جا چکا ہے۔ برطانیہ نے بلوچستان میں اجتماعی قبروں کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور انسانی حقوق کے مسائل پر پاکستان سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ نے اپنی سالانہ انسانی حقوق کی رپورٹ میں قتل، جبری گمشدگیوں اور تشدد کے واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک، بشمول نیدرلینڈز، نے بھی ان خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ مزید برآں، اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ماہرین نے پاکستان سے ان معاملات کی تحقیقات کرنے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ہم اس معزز کونسل سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ وہ آزادانہ تحقیقات کی حمایت کرے، احتساب کو یقینی بنائے، اور بلوچستان کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
شکریہ۔
#BNM #BNMGlobalCampaign #StopBalochGenocide #EndEnforcedDisappearances #HRC61