Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: شہداء مرگاپ سیمینار : پارٹی قیادت نے قومی آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دی ہے۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ شہداء مرگاپ سیمینار : پارٹی قیادت نے قومی آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دی ہے۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ
نیدرلینڈز چیپٹر

شہداء مرگاپ سیمینار : پارٹی قیادت نے قومی آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دی ہے۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ

InfoSecBNM
Last updated: April 12, 2026 5:29 am
Last updated: April 12, 2026
7 Min Read
Share
SHARE

نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں بلوچ نیشنل موومنٹ نیدرلینڈز چیپٹر کی جانب سے شہدائے مرگاپ کی برسی پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں بی این ایم، ورلڈ سندھی کانگریس، پشتون تحفظ موومنٹ اور انسانی حقوق کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ بلوچ نیشنل موومنٹ ایک ایسی نظریاتی و سیاسی جماعت ہے جس کی بنیاد جدوجہد، قربانی اور مضبوط نظریے پر رکھی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ چیئرمین غلام محمد بلوچ اور ان کے رفقاء نے نہایت کٹھن حالات میں اس جماعت کی بنیاد رکھی اور اسے منظم کیا۔ اس دوران انہیں ریاستی جبر، سیاسی مخالفت اور اندرونی سازشوں کا سامنا کرنا پڑا مگر انہوں نے ہر دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہتے ہوئے سیاسی و نظریاتی مزاحمت کو مزید مضبوط بنایا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ قومی تحریک کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بلوچ قومی تحریک میں بی این ایم کی قیادت نے ہمیشہ خود قربانی دی ہے۔ شہید غلام محمد بلوچ، لالا منیر بلوچ اور شیر محمد بلوچ کی شہادت اسی جدوجہد کا تسلسل ہے۔

شہید غلام محمد بلوچ کو مسلسل ریاستی جبر کا سامنا رہا۔ ان کی جبری گمشدگی اور تشدد دراصل انہیں جدوجہد سے باز رکھنے کی کوشش تھی، مگر وہ تمام خطرات سے آگاہ ہونے کے باوجود اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے اور آخری لمحے تک اپنے نظریے پر قائم رہے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ بلوچ قوم میں آزادی کے حوالے سے شعور، اعتماد اور قربانی پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔ تاہم اس جدوجہد کو مؤثر اور منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے سیاسی کارکنوں کو اپنی ذمہ داریوں کا بھرپور احساس ہونا چاہیے۔ ہر کارکن کو سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ جدوجہد ایک قومی امانت ہے، جس کے لیے بلوچ قیادت نے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں اجتماعی سزا کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے، جس کے تحت پورے خاندانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گھروں پر چھاپے، گرفتاریاں اور جبری گمشدگیاں معمول بن چکی ہیں، جبکہ بزرگوں، خواتین اور بچوں کو بھی ہراسانی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جبری گمشدگیاں اور اجتماعی سزا جیسے اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ ہے کہ وہ بلوچستان کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور ان خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ شہید غلام محمد بلوچ، لالا منیر بلوچ اور شیر محمد بلوچ کی قربانیاں بلوچ قومی تحریک کا ایک روشن باب ہیں۔ ان کی جدوجہد نے بلوچ سیاست کو نئی سمت دی اور کارکنوں کو مزاحمت، نظریاتی وابستگی اور ثابت قدمی کا راستہ دکھایا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شہداء مرگاپ کی یاد میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے خارجہ سیکریٹری فہیم بلوچ، فارن ڈیپارٹمنٹ کے کوآرڈینیٹر نیاز بلوچ، ورلڈ سندھی کانگریس کے رہنما کامران جتوئی، بی این ایم نیدرلینڈز چیپٹر کے صدر مہیم عبدالرحیم، پی ٹی ایم وومن برانچ کی سرگرم کارکن محترمہ ژلی ولی، اور پانک کے میڈیا کوآرڈینیٹر جمال بلوچ نے مشترکہ طور پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہداء مرگاپ کی قربانیاں بلوچ قومی تحریک کی تاریخ کا ایک درخشاں اور ناقابلِ فراموش باب ہیں۔ ان عظیم قربانیوں نے نہ صرف بلوچ قوم کی جدوجہد کو نئی سمت دی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک واضح نظریاتی راستہ بھی متعین کیا۔

انہوں نے کہا کہ شہداء مرگاپ نے جس جرات، استقامت اور نظریاتی وابستگی کا مظاہرہ کیا وہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ قومی آزادی کی تحریکیں قربانی، شعور اور مستقل مزاجی کے بغیر کامیاب نہیں ہوتیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ شہداء محض افراد نہیں بلکہ ایک مکمل نظریہ، مزاحمت کی علامت اور قومی بیداری کی نمائندگی کرتے ہیں، جن کی قربانیاں آج بھی بلوچ قوم کے اجتماعی شعور کو مضبوط کر رہی ہیں۔

مقررین نے کہا کہ بلوچ قومی تحریک کو درپیش چیلنجز کے باوجود شہداء کی جدوجہد کارکنوں کے لیے حوصلہ اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ کارکن محض جذباتی وابستگی تک محدود نہ رہیں بلکہ سیاسی شعور، تنظیمی نظم و ضبط اور عملی جدوجہد کو اپنی ترجیح بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اور منظم تحریک ہی اپنے مقاصد حاصل کر سکتی ہے، اور اس کے لیے ہر کارکن کو اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا۔

انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ جلاوطنی میں رہ کر جدوجہد کرنے والے کارکنوں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ بیرونِ ملک پلیٹ فارمز پر آواز اٹھانا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنا اور عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنا ایک اہم فریضہ ہے، جسے سنجیدگی اور تسلسل کے ساتھ انجام دینا ضروری ہے۔

شہداء مرگاپ کی یاد منانے کا مقصد صرف خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں بلکہ ان کے مشن کو سمجھ کر اسے عملی طور پر آگے بڑھانا ہے۔ خود احتسابی، نظریاتی وابستگی اور تنظیمی مضبوطی ہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی قومی تحریک کو کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔

انہوں نے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء مرگاپ کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور بلوچ قومی تحریک کو مزید منظم، مربوط اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کی آزادی حصول تک یہ جدوجہد جاری رہے گی، اور اس راستے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

جبکہ سیمینار کے فرائض بلوچ نیشنل موومنٹ نیدرلینڈز چیپٹر کے جنرل سیکرٹری دیدگ بلوچ اور ماہرہ بلوچ نے ادا کئے۔

Footages
https://thebnm.org/footages/24580/

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print
Leave a Comment Leave a Comment

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Reports and Statements

امریکہ: بی این ایم کی عالمی مہم جاری

بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کی عالمی مہم پاکستان کے جاری انسانیت سوز جرائم، بلوچ مخالف پالیسیوں، اور مقبوضہ بلوچستان میں…

Uncategorized
April 10, 2026

عالمی مہم کے سلسلے میں لندن میں احتجاجی مظاہرہ اور آگاہی مہم کا انعقاد

آٹھ اپریل 2026 کو بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) یوکے چیپٹر کے زیرِ اہتمام برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں…

احتجاج
April 10, 2026

بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) نے جنوبی کوریا میں بوسان کے مقام پر جاری بی این ایم عالمی مہم (10 مارچ تا 9 اپریل 2026) کے سلسلے میں ایک پُرامن احتجاج کا انعقاد کیا

اتوار، 5 اپریل 2026 کو، جنوبی کوریا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) نے بوسان میں کامیابی کے ساتھ ایک پُرامن…

احتجاج بیانات
April 6, 2026

ہماری قومی ہدف آزادی ہے، ہم ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ، چیئرمین بی این ایم

بلوچ نیشنل موومنٹ کی جانب سے اقوام متحدہ کے جنیوا میں سالانہ اجلاس کے دوران ایک بین الاقوامی کانفرنس بعنوان…

پروگرامات
April 2, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?