Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • BNM Mashkai
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: مذہب کسی جدید تحریک کی بنیاد نہیں بن سکتی، ہماری تحریک قومی شناخت پر مبنی ہے۔ خلیل بلوچ
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© Foxiz News Network. Ruby Design Company. All Rights Reserved.
Home ★ Blog ★ مذہب کسی جدید تحریک کی بنیاد نہیں بن سکتی، ہماری تحریک قومی شناخت پر مبنی ہے۔ خلیل بلوچ
Uncategorized

مذہب کسی جدید تحریک کی بنیاد نہیں بن سکتی، ہماری تحریک قومی شناخت پر مبنی ہے۔ خلیل بلوچ

InfoSecBNM
Last updated: December 15, 2019 8:41 pm
Last updated: December 15, 2019
11 Min Read
Share
SHARE

چیئرمین خلیل بلوچ سے یہ انٹرویو نمرتا بجی آہوجہ نے ”دی ویک“ کیلئے کیا تھا جو دس دسمبر کو انگلش میں شائع ہوا ہے۔ یہ اس انٹرویو کا من و عن اردو ترجمہ ہے۔

بلوچوں کی جدوجہد آزادی اور پاکستان کی ہزاروں فوجی جوانوں کو علاقے میں تعینات کرنے سے بلوچستان کے اندر سے اس کے خلاف آواز اُٹھ رہا ہے، بلوچ اقوام متحدہ سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر انسانی حقوق کے معاملات اٹھا رہے ہیں۔

اخلاقی مدد کے لئے بلوچ ہندوستان کی طرف بھی دیکھ رہے ہیں۔ ان میں سب سے ممتاز بلوچ نیشنل موومنٹ جو ایک مرکزی دھارے میں شامل بلوچ پارٹی ہے، کا خلیل بلوچ چیئرمین ہیں۔ خلیل بلوچ کہتے ہیں کہ کشمیر اور بلوچستان کی جدوجہد کا موازنہ کرنے کی پاکستانی کوششیں غلط ہیں اور اسلام آباد کشمیر کے نام کو بلوچ عوام کے خلاف اپنے مظالم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا جواز پیش کرنے کے لئے استعمال کررہا ہے۔ وہ کہتے ہیں ”کشمیری گروہ مذہب کو اپنے مقصد کے لئے ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ مذہب کسی بھی جدید سیاسی تحریک کی اساس نہیں بن سکتا اور نہ ہی ہونا چاہئے۔”

سوال: بلوچوں کی جدوجہد کو بین الاقوامی توجہ کیوں نہیں مل رہی ہے؟

چیئرمین خلیل: پاکستان آزاد ریاست کے لئے بلوچ جدوجہد کو دبانے کے لئے فوجی طاقت کا استعمال کر رہا ہے۔ یہ جدوجہد 1948 سے بلوچستان کے پاکستان میں جبری انضمام سے موجود ہے۔ تاہم 2000 کے اوائل میں، اس جدوجہد کو ایک نئی قوت ملی اور پورے بلوچستان کے عوام اس میں شامل ہوئے ۔ اس کے رد عمل کے طور پر پاکستان نے طاقت کے ذریعے جدوجہد کی اس نئی لہر کو طاقت سے روکنے کے لئے اپنے ہزاروں فوجی اہلکاروں کو علاقے میں تعینات کیا۔ بلوچستان کے اندر سے پاکستانی مظالم کے خلاف آواز اٹھانا تقریبا ناممکن ہوگیا ہے۔ میڈیا ہاؤسز کو انسانی حقوق کی پامالیوں سے پردہ اٹھانے سے منع کیا گیا ہے۔ صحافیوں اور انسانی حقوق کے درجنوں کارکنوں کو فوج کے ذریعہ اغوا کرکے ہلاک کردیا ہے۔ اس وجہ سے ذرائع ابلاغ بلوچستان کے حالات سے غافل ہے۔

سوال: بلوچستان میں رہنے والے لوگوں کی موجودہ حالت کیا ہے؟

چیئرمین خلیل: بلوچستان میں فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی ہر طرح کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔ لوگوں کا لاپتہ کرنا اور نام نہاد قتل اور لاشوں کو مسخ کرنے کی پالیسی (kill-and-dump) بیرونی دنیا میں سب سے زیادہ جانا جاتا ہے۔ ان انتہائی بامعنی الفاظ سے ہمارا مراد یہ ہے کہ فوج بلوچ عوام کو اغوا کرتا ہے ، مہینوں اور سالوں تک خفیہ زندانوں میں رکھتا ہے، انہیں قتل کر کےان کی لاشوں کو بلوچستان کے بیابانوں میں پھینک دیتاہے ۔ اِن جبری گمشدگیوں اور قتل و غارت گری کے علاوہ پاکستانی فوج بلوچ دیہاتوں کو جلانے میں ملوث رہی ہے ، جس سے پوری آبادی نقل مکانی کرنے اور دوسرے علاقوں میں آباد ہونے پر مجبور ہے۔ بلوچستان میں ایسے سینکڑوں گاؤں ہیں جہاں جلی ہوئی جھونپڑیوں کی باقیات پاکستان کے مظالم کے گواہ ہیں۔ درجنوں اسکولوں اور کالجوں کو عارضی فوجی کیمپوں میں تبدیل کردیا گیا ہے جو بلوچ نوجوانوں کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم رکھتے ہیں۔

سوال : بلوچ قوم اپنے مفادات کو ہندوستان کے ساتھ ہم آہنگ کیوں محسوس کرتے ہیں؟

چیئرمین خلیل: میں ہی نہیں ، ہر باشعور فرد اور دنیا کا ہر پر امن ملک ہمارے خطے خصوصا کشمیر ، ہندوستان کے دوسرے علاقوں، افغانستان اور ایران میں پاکستان کی مذہبی دہشت گردی کی سرپرستی کے بارے میں فکرمند ہے۔ پاکستان پچھلے تیس سالوں سے نہ صرف اپنے ہمسایہ ممالک کو غیر مستحکم کرنے بلکہ لبرل بلوچ معاشرے کو بھی ایک بنیاد پرست معاشرہ بنانے کیلئے مذہبی پراکسیوں کا استعمال کیا ہے۔ بلوچ مذہبی پراکسیوں سے اتنا ہی خوفزدہ ہیں جتنا بھارت ہے۔ یہ عسکریت پسند اسلامی تنظیمیں جو ہندوستان میں امن کو سبوتاژ کررہی ہیں اور پاکستان فوج کے ساتھ یہ عسکریت پسند اسلامی تنظیمیں بھی لاپتہ افراد اور بلوچ عوام کے ماورائے عدالت قتل کے ارتکاب میں تعاون کر رہی ہیں۔

سوال : پاکستان کے سویلین حکومت کا ان مسائل کو حل کرنے میں کیا کردار ہے؟

چیئرمین خلیل: یہ فوج ہے جو پاکستان کے امور کو چلاتی ہے ، خاص طور پر اس کی خارجہ پالیسی۔ حکومت خواہ اس کی سربراہ عمران خان ہو یا نواز شریف یا کوئی اور ہو اس طرح کے معاملات میں اُن کا کوئی کردار نہیں ہے۔ عالمی برادری کو [بلوچ معاملات میں] مداخلت کرنی چاہئے۔ میں توقع کرتا ہوں کہ ہندوستان کی حکومت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ناطے ایک آزاد بلوچستان کے لئے ہونے والے بلوچوں کی جدوجہد میں بلوچوں کی مدد کرے گی۔ مجھے توقع ہے کہ ہندوستان کی حمایت قلیل مدتی سیاسی مفادات پر مبنی نہیں ہوگی بلکہ بھارت کی حمایت اس خطے میں امن و استحکام لانے اور پوری آبادی کے خلاف مظالم کو ختم کرنے کے لئے انسانی بنیادوں پر مبنی ہونا چاہئے۔

سوال: کیا 2015 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے بلوچستان، گلگت اور پاکستانی کشمیر کے حوالے سے اپنے یوم آزادی کی تقریر میں بات کرنے کے بعد سےکوئی تبدیلی آئی ہے؟

چیئرمین خلیل: نہیں۔ مودی صاحب کا بیان محض ایک بیان ہی رہا ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا کبھی کبھار کے بیانات کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، یہ بیانات نہ ہندوستان کے لئے فائدہ مند ہیں اور نہ ہی بلوچوں کے لئے۔ کاش مودی صاحب کو جلد ہی احساس ہوجائے کہ اگر وہ بلوچ مقصد کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو انہیں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کے بلوچ زمین وسائل سے مالا مال ہے ہمیں خدشہ ہے کہ بلوچ ان کے تمام بنیادی حقوق سے محروم رہیں گے اور ہمیں تشویش ہے کہ بلوچ اپنے ہی وطن میں اقلیت میں تبدیل ہو رہے ہیں۔

سوال: چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق آپ کے خدشات کیا ہیں؟

چیئرمین خلیل: چین پاکستان اقتصادی راہداری بلوچستان کے لئے ایک سامراجی منصوبہ ہے ، چین کا کردار اسی طرح ہے جس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی کا ہندوستان میں تھا۔ بلوچستان کا سارا ساحلی پٹی چین کے حوالے کردیا گیا ہے اور اسے چینی حکام کے زیر اقتدار ایک خود مختار زون میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ اس ساحلی خطے میں ہزاروں چینی اور پاکستان کے دوسرے حصوں سے لوگوں کی آمد جاری ہے۔ وہ اگلے پانچ دس سالوں میں بلوچوں کو اقلیت میں بدل دیں گے۔ ہم اس کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہیں۔

سوال : پاکستان نے دعوی کیا ہے کہ بھارتی شہری کلبھوشن جادھو جاسوس تھا۔ اس بارے میں آپکی رائے کیا ہے؟

چیئرمین خلیل: میں یقین سے دعویٰ کرسکتا ہو کہ کلبھوشن جادھو بلوچستان سے گرفتار نہیں ہوا۔

پاکستان پر ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا الزام ہے۔ اس بارے میں آپ کے خیالات کیا ہیں

چیئرمین خلیل: پاکستان نے بار بار بھارت میں دہشت گردی کے حملے کرنے والے جیش محمد کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کیا ہے۔ ایسی صورتحال میں بھارت کے پاس جیش محمد کےتربیتی کیمپوں کو ختم کرنے کے لئے فضائی حملے کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں بچا ہے۔ پاکستان کا دہشت گردی کی تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کی عزم کی کمی کی وجہ سے امریکہ بھی پاکستان کے اندر ڈرون حملے کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔

سوال: کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے متعلق پاکستان کے الزامات کتنے سچ ہیں؟

چیئرمین خلیل: میرے خیال میں کشمیر کا بلوچستان سے موازنہ کرنا درست نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی بھارت بلوچستان میں مظالم کی بات کرتا ہے تو پاکستان حکومت بلوچ عوام کے خلاف اپنے مظالم کو جواز پیش کرنے کے لئے کشمیر کے نام کا استعمال کرتی ہے۔ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو چھپانے کے لئے کشمیر کا نام استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ کشمیری گروہ مذہب کو اپنے مقصد کے لئے ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ بلوچ تحریک ہماری قومی شناخت پر مبنی ہے۔ مذہب کسی بھی جدید سیاسی تحریک کی اساس نہیں بن سکتا اور نہ ہی ہونا چاہئے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہندوستانی عوام یہ جان لیں کہ اگر وہ اس مسئلے کو نظرانداز کرتے ہیں تو یہ ان کو نقصان دیتا رہے گا۔ اُنہیں اس خطے کو ہمیشہ کے کئے پر امن بنانے کیلئے بلوچوں کی مدد کرنی چاہئے۔

چیئرمین خلیل بلوچ سے یہ انٹرویو نمرتا بجی آہوجہ نے ”دی ویک“ کیلئے کیا تھا جو دس دسمبر کو انگلش میں شائع ہوا ہے۔ یہ اس انٹرویو کا من و عن اردو ترجمہ ہے۔ انگلش کیلئے آپ ذیل میں دی گئی ”دی ویک“ کی لنک پر کلک کریں۔

https://www.theweek.in/news/world/2019/12/10/kulbhushan-jadhav-was-not-arrested-from-balochistan.amp.html?__twitter_impression=true

Namrata Biji Ahuja, a senior special correspondent, covers the home ministry, internal security and Everything possible under the beat. Likes to dig deep into issues and finds policy making exciting because that’s from where the news begins.

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print
ByInfoSecBNM
Follow:
The Information and Cultural Secretary of BNM is the party's spokesperson and is responsible for the party's publicity and issuing of statements.
Leave a Comment Leave a Comment

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Reports and Statements

Karima Baloch’s Struggle Is Reflected in the Resistance of Oppressed Nations Across the Region— Hassan Dost Baloch

The bravery with which she led the Baloch resistance not only inspired Baloch women but also left a profound impact…

Kech Gwader Zone Programs
December 28, 2025

Paank November 2025 Report: 20 Extrajudicial Killings, 95 Baloch Forcibly Disappeared

The report states that these incidents reflect a systematic pattern of state repression, including arbitrary arrests, custodial torture, enforced disappearances,…

Paank
December 28, 2025

BNM Holds Memorial Reference in Memory of Mama Qadeer: His Struggle Highlighted Enforced Disappearances Globally

Mama Qadeer Baloch was like a shining lamp in the Baloch homeland, whose light illuminated the entire world.

BNM Mashkai Programs
December 28, 2025

BNM: A Continuous Struggle

A special article on the occasion of BNM’s 38th Founding Day

Articles Spokesperson
December 24, 2025

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Cleantalk Pixel
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?