بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو دس، دس سال قید کی سزا سنانا پاکستان میں عدالتی نظام کے سیاسی استعمال اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔ بلوچستان پر قبضے کے بعد سے پاکستان ایک سکیورٹی اسٹیٹ کے طور پر فوجی طاقت کے ذریعے اپنا تسلط قائم رکھے ہوئے ہے، جہاں فوج کو بے لگام اختیارات حاصل ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ ریاستی جبر، ناانصافی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف، بالخصوص بلوچ قوم کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو انصاف کے بجائے ریاستی انتقام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماضی میں سبین محمود کو قتل کیا گیا اور جبری گمشدگیوں کے خلاف بولنے پر حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ اب پاکستانی فوج عدالت، پارلیمان، پولیس، پریس کلبوں، بار کونسلوں اور دیگر ریاستی و نیم ریاستی اداروں کو اپنے انتقامی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ نے بلوچ سیاسی کارکنوں، جبری گمشدگیوں کے متاثرین اور مظلوم خاندانوں کی آواز بن کر انھیں قانونی معاونت فراہم کی۔ طویل قید کی یہ سزائیں ایسی تمام آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہیں جو ریاستی جبر کے آگے جھکنے سے انکار کرتی ہیں۔
بی این ایم اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دونوں کی زندگیوں کے تحفظ کا مطالبہ کرتی ہے بین الاقوامی ادارے ان کی رہائی اور ان سمیت دیگر سیاسی قیدیوں کے بنیادی قانونی و انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر مداخلت کریں۔
