بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی جانب سے شہید ڈاکٹر منان اور ان کے ساتھیوں کے یومِ شہادت کے موقع پر ایک نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس نشست میں بی این ایم آواران، زون کے اراکین نے شرکت کی۔ نشست سے بی این ایم کے جونیئر وائس چیئرمین استاد بابل لطیف، مرکزی کمیٹی کے رکن چیف اسلم، آواران زون کے نائب صدر تلار ناز اور زبیر نے خطاب کیا۔
واضح رہے کہ 31 جنوری 2016 کو مستونگ کے علاقے کلی دتو میں پاکستانی فوج نے حملہ کرکے شہید ڈاکٹر منان کو ان کے ساتھیوں بابو نوروز، حنیف، اشرف اور ساجد سمیت شہید کیا۔ شہید ڈاکٹر منان بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے سیکریٹری جنرل تھے۔
مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہید ڈاکٹر منان ایک رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ ایک قومی طبیب بھی تھے۔ وہ بلوچستان کے ہر کونے سے واقف تھے۔ انھوں نے نہایت نامساعد حالات میں بھی پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے شب و روز محنت کی۔ انھیں جہاں بھی پارٹی کے کام کے لیے بلایا جاتا، وہ وہاں پہنچ جاتے تھے۔
مقررین نے شہید ڈاکٹر منان کے سیاسی شعور اور صلاحیتوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوستوں کے کام کا ہمیشہ تنقیدی نگاہ سے جائزہ لیتے تھے۔ اگر کسی کمزوری کی نشاندہی کرتے تو دو ٹوک الفاظ میں کرتے۔ ان کے نزدیک تنقید سیاست کو توازن میں رکھنے کے لیے ضروری تھی، اور وہ تنقید کو نفرت نہیں سمجھتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہماری کمزوریاں تنظیم اور تحریک پر اثر انداز نہ ہوں۔
’’ شہید ڈاکٹر منان کی شہادت سے ایک بڑا خلا پیدا ہوا، لیکن ان کی قربانیوں سے پارٹی مزید مضبوط اور توانا ہوئی ہے۔ انھوں نے ثابت کیا کہ سب سے بڑی طاقت مشہور ہونا نہیں بلکہ اپنے مقصد سے وفادار ہونا ہے۔ ‘‘
انھوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر منان کو مطالعہ اور کتابوں سے گہری وابستگی تھی۔ وہ دوستوں کو ہمیشہ کتاب پڑھنے کی ترغیب دیتے اور کہتے تھے کہ کتابوں سے دوستی کریں، کیونکہ کتابیں ترقی کی ضامن ہوتی ہیں۔ وہ خود بھی باقاعدگی سے مطالعہ کرتے تھے اور ہمیشہ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہتے۔ خبریں سنتے، نوٹس لکھتے اور بلوچستان، خطے اور دنیا کے حالات سے باخبر رہتے تھے۔
مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر منان عہدے دار بننے سے پہلے بھی ایک رہنما کے طور پر کام کر رہے تھے۔ وہ بلوچ قوم کی ایک توانا آواز تھے۔ انھوں نے بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے پلیٹ فارم سے بلوچ قوم کو متحد کیا اور علم، فکر اور شعور کی ترغیب دی تاکہ پاکستان کے جبر اور غلامی کے خلاف مزاحمت کی جا سکے۔ پاکستانی ریاست نے انھیں اسی لیے نشانہ بنایا تاکہ ان کی سیاسی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔
انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستانی ریاست یہ سمجھتی ہے کہ قومی رہنماؤں کو شہید کرنے سے بلوچ تحریک رک جائے گی یا ختم ہو جائے گی، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ شہیدوں کی قربانیوں سے بلوچ قوم کی آنے والی نسلیں مزید بیدار اور باشعور ہوں گی اور ایک نہ ایک دن لازماً اپنی آزادی حاصل کریں گی۔