Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: پانک کی جنوری 2026 کی رپورٹ: 12 افراد ماورائے عدالت قتل، 82 جبری لاپتہ، 44 افراد تشدد کے بعد رہا
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ پانک کی جنوری 2026 کی رپورٹ: 12 افراد ماورائے عدالت قتل، 82 جبری لاپتہ، 44 افراد تشدد کے بعد رہا
پانک

پانک کی جنوری 2026 کی رپورٹ: 12 افراد ماورائے عدالت قتل، 82 جبری لاپتہ، 44 افراد تشدد کے بعد رہا

Paank
Last updated: February 19, 2026 1:58 pm
Last updated: February 19, 2026
4 Min Read
Share
SHARE

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے شعبۂ انسانی حقوق پانک نے جنوری 2026 کی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سال 2026 کا آغاز بھی بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے ہوا۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع سمیت کراچی (سندھ) میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے متعدد واقعات پیش آئے۔ مجموعی طور پر 82 افراد کی جبری گمشدگی کے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 44 افراد کو شدید ذہنی و جسمانی تشدد کے بعد رہا کیا گیا۔ اسی عرصے میں ماورائے عدالت قتل کے 12 مصدقہ واقعات سامنے آئے، جس سے بلوچستان میں خوف اور بے یقینی کی فضا مزید گہری ہوئی۔

ماورائے عدالت قتل ہونے والوں میں محمد انور، راھی عصا، ایاز (ولد دوست محمد)، ظریف (ولد فقیر محمد)، ظریف (ولد محمد یعقوب)، بالاچ (ولد حامد)، زوہیب احمد، ملا رزاق، عبدالمطلب، نعمان حیدر، طاہر بلوچ اور ملنگ (ولد زاھد ندیم) شامل ہیں۔ محمد انور، سکنہ کلی سفر علی، ضلع دوکی، کو جون 2025 میں حراست میں لیا گیا تھا اور جنوری 2026 میں ان کی لاش دوکی سے برآمد ہوئی۔ کمسن راھی عصا کو ھوشاپ بازار میں دن دہاڑے فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔ ایاز، سکنہ گیشکور (آواران) اور ظریف ولد فقیر محمد، سکنہ سیاہ کل، مالار (آواران) کی گولیوں سے چھلنی لاشیں آواران کے علاقے نوندڑہ سے برآمد ہوئیں۔ بالاچ، سکنہ تسپ (پنجگور) کو تسپ بازار میں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔ ظریف ولد محمد یعقوب، سکنہ ریک چاھی، کولواہ (آواران) کو اغوا کے دو گھنٹے بعد قتل کر دیا گیا۔ زوہیب احمد کو پنجگور میں اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ ملا رزاق، سکنہ نوانو زامران، کی لاش سیمسوری کور (ندی) سے برآمد ہوئی۔ عبدالمطلب، سکنہ کلی کمالو، سریاب (شال)، کو 11 جولائی 2025 کو گھر سے حراست میں لیا گیا اور 19 جنوری 2026 کو دشت مستونگ میں جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا۔ نعمان حیدر کو 19 نومبر 2025 کو مند (کیچ) سے حراست میں لیا گیا اور 21 جنوری 2026 کو ان کی لاش تمپ میں ملی۔ 21 سالہ مزدور طاہر بلوچ کو 21 جنوری 2026 کو کوشکلات، تمپ میں گولی مار کر قتل کیا گیا، جبکہ 20 سالہ ملنگ ولد زاہد ندیم کو حراست کے بعد جبری لاپتہ کیا گیا اور بعد ازاں ان کی لاش برآمد ہوئی۔

ضلعی اعداد و شمار کے مطابق کیچ میں 26، شال میں 16، گوادر میں 15، خاران میں 9، پنجگور میں 6، خضدار میں 4، لسبیلہ میں 2، کراچی میں 2 جبکہ ڈیرہ بگٹی اور نوشکے میں ایک، ایک کیس رپورٹ ہوا۔ متعدد واقعات میں گھروں پر چھاپوں، بغیر وارنٹ گرفتاریوں اور نامعلوم مقامات پر حراست میں رکھ کر تشدد کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

پانک کے مطابق یہ صورتحال بلوچستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی حالت کی عکاس ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے تسلسل نے ایک غیر تحریری قانون کی شکل اختیار کر لی ہے، جس کے خاتمے کے لیے شفاف اور خودمختار تحقیقات، ذمہ داران کا تعین اور مؤثر احتساب ناگزیر ہے، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور بلوچستان میں قانون کی بالادستی یقینی بنائی جا سکے۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print

Reports and Statements

بی این ایم کا سی سی اجلاس: اجتماعی سزا کے خلاف عالمی سفارتی مہم تیز کرنے کا اعلان

آج سخت ترین حالات کے باوجود بلوچ قوم اپنی قومی تحریک سے وابستگی پر قائم ہے اور مسلسل قربانیاں دے…

بیانات چیئرپرسن سیکریٹری جنرل مرکزی کمیٹی اجلاس
February 25, 2026

افغانستان پر پاکستان کے حملوں میں معصوم جانیں ضائع ہوئیں، بلوچ قوم افغانستان کے حقِ دفاع کی حمایت کرتی ہے- ترجمان بی این ایم

پاکستان کی فوجی طاقت نہ صرف خطے بلکہ خطے سے باہر کے ممالک کے لیے بھی ایک واضح خطرہ ہے۔…

بیانات ترجمان
February 23, 2026

پانک کی سال 2025 کی رپورٹ: پاکستانی فوج کے ہاتھوں بلوچستان میں 225 افراد ماورائے عدالت قتل اور 1355 جبری لاپتہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طلباء اور نوجوان پیشہ ور افراد پر حملے بلوچ معاشرے کی علمی اور سیاسی…

پانک
February 10, 2026

بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ، فوج کی شہری آبادیوں پر حملے اور اجتماعی سزاؤں کے خلاف جرمنی میں بی این ایم کا مظاہرہ

شرکاء نے بلوچستان کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، بلاجواز گرفتاریوں، سیاسی اختلاف…

احتجاج جرمنی چیپٹر
February 8, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Cleantalk Pixel
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?