Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ، فوج کی شہری آبادیوں پر حملے اور اجتماعی سزاؤں کے خلاف جرمنی میں بی این ایم کا مظاہرہ
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ، فوج کی شہری آبادیوں پر حملے اور اجتماعی سزاؤں کے خلاف جرمنی میں بی این ایم کا مظاہرہ
احتجاججرمنی چیپٹر

بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ، فوج کی شہری آبادیوں پر حملے اور اجتماعی سزاؤں کے خلاف جرمنی میں بی این ایم کا مظاہرہ

BNM Germany
Last updated: February 8, 2026 3:59 pm
Last updated: February 8, 2026
5 Min Read
Share
SHARE

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے جرمنی کے شہر ٹریئر میں واقع پورٹا نیگرا پلاٹس پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا، جس کا مقصد بلوچستان میں جاری منظم اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔

احتجاجی مظاہرے میں انسانی حقوق کے کارکنان اور بلوچ قوم کے حامیوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے بلوچستان کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، بلاجواز گرفتاریوں، سیاسی اختلاف رائے اور انسانی حقوق کے کارکنان کے خلاف ریاستی جبر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ مظاہرین نے کہا کہ یہ سب اقدامات پاکستانی ریاست کی جانب سے منظم طریقے سے کیے جا رہے ہیں۔

احتجاج کے دوران پلے کارڈز، بینرز اور تقاریر کے ذریعے عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا سے اپیل کی گئی کہ وہ بلوچستان کی صورتحال پر خاموشی توڑیں۔ مقررین نے کہا کہ دہائیوں سے جاری اور انسانی حقوق کی مستند پامالیوں کے باوجود بلوچ عوام کی تکالیف عالمی فورمز پر مسلسل نظرانداز کی جا رہی ہیں۔

اس موقع پر بی این ایم کے کارکنان نے جرمن اور انگریزی زبان میں پمفلٹس بھی تقسیم کیے۔

مظاہرے میں خواتین، بچوں اور جبری لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ پر ان مظالم کے گہرے اثرات کو اجاگر کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ جبری لاپتہ افراد کے خاندان، خصوصاً مائیں اور بچے، برسوں سے پُرامن جدوجہد کے ذریعے انصاف اور اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جنھیں انصاف کی بجائے اجتماعی سزا کا سامنا ہے۔

لقمان بلوچ، وجاہت بلوچ، آصف بلوچ، مجیب عبداللہ، شارق بلوچ اور حبیب بلوچ سمیت مقررین نے بلوچستان کے عوام کو درپیش جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور اجتماعی سزاؤں کی سخت مذمت کی۔

مقررین نے پاکستانی فوج کی کارروائیوں پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ پاکستانی فوج بلوچستان میں شہریوں کے خلاف طاقت استعمال کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں گوادر، مستونگ اور کیچ میں درجنوں افراد کو براہِ راست فوج نے نشانہ بنا کر قتل کیا، جبکہ ڈرون حملوں میں بھی شہری مارے جا رہے ہیں۔ مظاہرین نے کہا کہ یہ حالات عالمی برادری پر ذمہ داری عائد کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کو دفاعی و اقتصادی امداد ، دفاعی شراکت داری اور ہتھیاروں کی فروخت جیسے معاملات پر نظرثانی کرے۔

مظاہرین نے اجتماعی سزا کی بدترین شکل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق اور سیاسی کارکنان کے اہلِ خانہ بھی جبری گمشدگیوں کا شکار ہیں۔ تازہ ترین مثال بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے والد محمد بخش ساجدی، چچا نعیم ساجدی اور ماموں رفیق بلوچ کی جبری گمشدگیاں ہیں۔ مظاہرین کے مطابق یہ گرفتاریاں بی این ایم کے چیئرمین کو تحریک اور سیاسی سرگرمیوں سے دستبردار کروانے کے لیے کی گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر نسیم کا خاندان مسلسل پاکستانی جبر کا شکار رہا ہے۔ ان کے قریبی رشتہ دار سالوں تک جبری گمشدگیوں کا شکار رہے اور ان کے ایک رشتہ دار کو گھر میں گھس کر ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ حالیہ دنوں میں بی این ایم کے دیگر رہنما اور کارکنان کے اہلِ خانہ کو بھی ہراساں کیا گیا ہے۔

مقررین نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بی این ایم کے رہنما اور کارکنان پاکستانی فوج کے ان ہتھکنڈوں سے ہرگز مرعوب نہیں ہوں گے۔

انہوں نے معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بلوچستان میں اجتماعی سزا صرف بلوچ سیاسی کارکنان کے لواحقین تک محدود نہیں بلکہ ان کے وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنان کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو اس لیے پابند سلاسل رکھا گیا کہ وہ بلوچستان میں ہونے والے مظالم پر بات کرتے اور جبری گمشدہ افراد کے کیسز کی وکالت کرتے ہیں۔

مظاہرین نے اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہراویں۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print

Reports and Statements

بی این ایم کا سی سی اجلاس: اجتماعی سزا کے خلاف عالمی سفارتی مہم تیز کرنے کا اعلان

آج سخت ترین حالات کے باوجود بلوچ قوم اپنی قومی تحریک سے وابستگی پر قائم ہے اور مسلسل قربانیاں دے…

بیانات چیئرپرسن سیکریٹری جنرل مرکزی کمیٹی اجلاس
February 25, 2026

افغانستان پر پاکستان کے حملوں میں معصوم جانیں ضائع ہوئیں، بلوچ قوم افغانستان کے حقِ دفاع کی حمایت کرتی ہے- ترجمان بی این ایم

پاکستان کی فوجی طاقت نہ صرف خطے بلکہ خطے سے باہر کے ممالک کے لیے بھی ایک واضح خطرہ ہے۔…

بیانات ترجمان
February 23, 2026

پانک کی جنوری 2026 کی رپورٹ: 12 افراد ماورائے عدالت قتل، 82 جبری لاپتہ، 44 افراد تشدد کے بعد رہا

پانک کے مطابق یہ صورتحال بلوچستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی حالت کی عکاس ہے۔

پانک
February 19, 2026

پانک کی سال 2025 کی رپورٹ: پاکستانی فوج کے ہاتھوں بلوچستان میں 225 افراد ماورائے عدالت قتل اور 1355 جبری لاپتہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طلباء اور نوجوان پیشہ ور افراد پر حملے بلوچ معاشرے کی علمی اور سیاسی…

پانک
February 10, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Cleantalk Pixel
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?