آٹھ اپریل 2026 کو بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) یوکے چیپٹر کے زیرِ اہتمام برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں وزیرِاعظم ہاؤس کے سامنے بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزاؤں اور بلوچ نسل کشی کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ اور آگاہی مہم کا انعقاد کیا گیا۔
اس احتجاج میں بی این ایم کے اراکین کے علاوہ بڑی تعداد میں بلوچ ڈائسپورہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ یہ سرگرمی بی این ایم کی جاری عالمی مہم #BNMGlobalCampaign کا حصہ تھی، جو 10 مارچ سے 9 اپریل تک جاری رہنے والے ایک ماہ پر مشتمل پروگرام کا حصہ ہے۔ اس مہم کے دوران عالمی سطح پر مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں جنیوا میں اکسٹھویں انسانی حقوق اجلاس کے موقع پر بی این ایم کی گیارہویں عالمی کانفرنس اور دیگر پروگرامز، جنوبی کوریا، جرمنی، نیدرلینڈز اور برطانیہ میں مختلف سرگرمیاں، اور 9 اپریل کو شہدائے مرگاپ کے دن کی مناسبت سے تقریبات شامل ہیں۔
لندن میں احتجاجی مظاہرے کے بعد ایک منظم آگاہی مہم کا آغاز کیا گیا، جس کے دوران بی این ایم کے کارکنان نے مختلف ٹیموں کی صورت میں لندن کے اہم سیاسی، نشریاتی اور سیاحتی مقامات پر پمفلٹس تقسیم کیے اور عوام کو بلوچستان کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ ان مقامات میں وزیرِاعظم ہاؤس، برطانوی پارلیمنٹ، بی بی سی کے مرکزی دفتر سمیت دیگر اہم عوامی مقامات شامل تھے۔
احتجاج کے دوران بی این ایم کے مرکزی رہنما حسن دوست بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یہ سمجھنے کی غلطی کر رہا ہے کہ بلوچ نسل کشی کے ذریعے بلوچ قومی تحریک کو دبایا جا سکتا ہے، حالانکہ یہ تحریک تاریخی طور پر 1839 سے جاری ہے، جب برطانوی افواج نے ریاست قلات پر حملہ کیا اور خان محراب خان نے اس کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے شہادت قبول کی اور قومی آزادی کی جدوجہد کا آغاز ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تحریک مختلف ادوار میں مختلف شکلوں میں جاری رہی ہے، جبکہ پاکستان 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد وجود میں آیا۔ بلوچ قوم نے کبھی بھی غلامی قبول نہیں کی، اور موجودہ دور میں اس تحریک میں ایک نئی فکری اور سائنسی جہت پیدا ہو چکی ہے۔
انہوں نے 2009 میں بلوچ قومی رہنما اور بی این ایم کی قیادت کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد تحریک میں مزید شدت آئی ہے، اور آج بلوچ قوم اپنی آزادی کے حصول کے قریب تر ہو چکی ہے۔ اور بلوچستان میں جاری ریاستی اقدامات دراصل پاکستان کی ناکامی اور شکست کا واضح ثبوت ہیں۔
مظاہرے میں شریک دیگر مقررین میں عابد عبداللہ , جاسم بلوچ اور احمد عبدالحمید نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان میں جاری صورتحال پر عالمی توجہ مبذول کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔