لگ بھگ دو دہائیاں گزرنے کے باوجود ڈاکٹر دین جان کا خاندان یہ نہیں جانتا کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ڈاکٹر دین جان ایک فرض شناس معالج اور قوم دوست رہنما ہیں، جنھیں پاکستانی فوج نے 28 جون 2009 کو ہسپتال سے حراست میں لینے کے بعد گزشتہ 17 سالوں سے جبری طور پر لاپتہ کر رکھا ہے۔
ان خیالات کا اظہار مقررین نے جرمنی کے شہر برلن میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ مظاہرہ الیگزینڈر پلاٹز کے مقام پر ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کے 17 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کیا گیا۔
مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ نے بلوچ قوم کی آزادی کے لیے پرامن جدوجہد کی، اور ان سمیت ہزاروں اسیران کی قربانیاں بلوچ قوم کے آزاد اور روشن مستقبل کے لیے ہیں۔
شرکاء نے بینرز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر ڈاکٹر دین محمد بلوچ اور دیگر بلوچ سیاسی کارکنوں کی تصاویر آویزاں تھیں۔ مظاہرین کے مطابق، یہ کارکنان پاکستانی فوج کی غیرقانونی حراست میں جبری لاپتہ ہیں۔ مقبوضہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے مسلسل جاری مسئلے کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لیے عوام میں معلوماتی پمفلٹ بھی تقسیم کیے گئے۔
مظاہرے سے بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این ایم ) کی سینٹرل کمیٹی کے رکن ھمل خان، بی این ایم جرمنی چیپٹر کے صدر اصغر علی اور مصطفیٰ شاہوانی نے خطاب کیا۔