بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این ایم ) کے سیکریٹری جنرل دل مراد بلوچ نے کہا کہ ڈاکٹر منان بلوچ، بابو نوروز بلوچ، شہید اشرف بلوچ، حنیف بلوچ اور ساجد بلوچ کی شہادت کے بعد بلوچ قومی تحریک میں جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ کبھی پر نہیں ہو سکتا۔ ان عظیم رہنماؤں اور کارکنوں کی قربانیاں بلوچ قوم کی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہیں جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے نیدرلینڈز میں ہوئے بی این ایم کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انھوں نے کہا کہ شہید بابو نوروز بلوچ ایک دانشور، فکری اور عظیم نظریاتی شخصیت تھے، بابو نوروز جیسے دوست صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی سوچ، جدوجہد اور قربانی نے بلوچ تحریک کو فکری گہرائی اور نظریاتی سمت عطا کی۔ ایسے عظیم شہداء کی کمی نہ صرف تحریک بلکہ پوری بلوچ قوم کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، مگر ان کا مشن، فکر اور جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔
انھوں نے کہا کہ آج اگر ہم یہاں اکٹھے ہیں اور بلوچ قومی تحریک میں سرگرم عمل ہیں تو یہ سب ڈاکٹر منان بلوچ کی قربانیوں کا تسلسل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مشکل اور کٹھن سالوں میں اگر ہمیں فکری طاقت، حوصلہ اور استقامت ملی ہے تو یہ ڈاکٹر منان بلوچ کی رہنمائی، فکر اور جدوجہد کا ثمر ہے۔ ڈاکٹر منان بلوچ نے نہ صرف ہمیں شعور دیا بلکہ قربانی کی ایسی مثال قائم کی جو آج بھی بلوچ قومی تحریک کے لیے مشعلِ راہ بنی ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر منان بلوچ کی دن رات کی انتھک محنت، مسلسل جدوجہد اور بے لوث کوششوں کے نتیجے میں آج بلوچ نیشنل موومنٹ دنیا کے سامنے ایک مضبوط اور عظیم سیاسی جماعت کی حیثیت سے موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر منان کی قربانیاں اور قیادت بی این ایم کی بنیاد ہیں، جن کی بدولت یہ جماعت آج بھی اپنے نظریے پر ثابت قدم ہے
انھوں نے کہا ڈاکٹر منان جان ایک ایسی دردمند اور بصیرت افروز شخصیت تھے جن کی پوری زندگی سیاست کے شعوری ارتقا، بلوچ معاشرے کی فکری تعمیر اور سیاسی کارکنوں کی نظریاتی و عملی تربیت کے لیے وقف رہی۔ وہ عام بلوچ کو سیاست کا محض تماشائی نہیں بلکہ فعال کردار سمجھتے تھے، اسی لیے انھوں نے لوگوں میں اعتماد، حوصلہ اور شعور پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی۔ سیاسی کارکنوں کے لیے وہ صرف ایک رہنما نہیں بلکہ ایک استاد اور مربی کی حیثیت رکھتے تھے، جو مشکل حالات میں بھی استقامت، اصول پسندی اور جدوجہد کا حوصلہ دیتے رہے۔ ان کی زندگی مقصد، خدمت اور مسلسل جدوجہد کی روشن مثال تھی۔
اب یہ ہم سب پر فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم ڈاکٹر منان بلوچ اور ان کے ساتھیوں کے مشن کو مکمل اخلاص، فکری پختگی اور غیر متزلزل حوصلے کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی جدوجہد، قربانیوں اور نظریات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں اور بلوچ قومی تحریک کو اسی شعور، نظم و ضبط اور استقامت کے ساتھ جاری رکھیں جس کی بنیاد انھوں نے رکھی تھی۔ یہی ان عظیم رہنماؤں اور شہداء کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہے اور یہی ہماری ذمہ داری بھی ہے۔