بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے ترجمان نے کہا ہے کہ بی این ایم کے چیئرمین کے والد اور قریبی عزیزوں کی جبری گمشدگیاں کوئی منفرد یا الگ تھلگ واقعہ نہیں، بلکہ یہ اس منظم پالیسی کا حصہ ہیں جس کے تحت دہائیوں سے بلوچ قوم کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔ بلوچستان بھر میں سیاسی کارکنان کے اہلِ خانہ کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے اور جبری گمشدگیاں اس جبر کی ایک بنیادی اور مستقل شکل بن چکی ہیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ کئی برسوں سے بی این ایم اور دیگر سیاسی تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنان کے خاندان قابض ریاست کی جانب سے مسلسل دباؤ، جبر اور اجتماعی سزا کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد خوف و ہراس کے ذریعے سیاسی مزاحمت کو خاموش کرانا ہے، تاہم یہ ہتھکنڈے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بی این ایم کے رہنما اور کارکنان اس قسم کے حربوں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔ پاکستانی ریاست بلوچ تحریکِ آزادی کے حق میں بی این ایم کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں سے شدید خائف ہے۔ چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کی قیادت میں گزشتہ برسوں کے دوران بلوچ قومی مسئلے کو مؤثر انداز میں عالمی فورمز پر اجاگر کیا گیا ہے۔ بی این ایم کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں یورپی ممالک میں بلوچ قومی تحریک کو بڑھتی ہوئی توجہ حاصل ہو رہی ہے، جس کے ردعمل میں پاکستانی فوج بی این ایم کے رہنماؤں اور کارکنان کے اہلِ خانہ پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے خاندان کو نشانہ بنانا اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ بلوچستان میں پرامن سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکنان بھی ریاستی جبر اور اجتماعی سزا سے محفوظ نہیں۔ عالمی سطح پر مسلسل عدم جوابدہی نے پاکستانی فوج کو سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مزید بے خوف بنا دیا ہے۔ احتساب کے خوف کے بغیر عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ایسے منظم اقدامات کیے جا رہے ہیں جو بلوچ قوم کی نسل کشی کے مترادف ہیں، جن میں پاکستانی فوج کسی اخلاقی یا قانونی حد کا لحاظ نہیں رکھتی۔
ترجمان نے کہا کہ بی این ایم اس امر پر زور دیتی ہے کہ بلوچستان کو ایک مقبوضہ اور متنازعہ خطہ تسلیم کیا جائے، یہاں بلوچ قوم قابض قوت کے خلاف اپنے حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ شدید جبر اور طاقت کے بے دریغ استعمال کے باوجود پاکستان بلوچ تحریکِ آزادی کو دبانے میں ناکام رہا ہے۔ بلوچ سرمچاروں کے ہر حملے کے بعد پاکستانی فوج اپنا غصہ عام شہریوں پر نکالتی ہے، جبکہ پاکستانی سیاستدان فوج کو روکنے کے بجائے اس کے اقدامات کی سہولت کاری اور حمایت کرتے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بی این ایم پاکستان کے جبر کے سامنے خاموش نہیں رہے گی۔ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف 7 فروری کو جرمنی میں احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک منظم آن لائن میڈیا مہم بھی چلائی جائے گی، جس میں ویڈیو بیانات، دستاویزی فلمیں، پوسٹرز اور ڈیجیٹل پروگرامز شامل ہوں گے تاکہ قومی اور عالمی سطح پر شعور اجاگر کیا جا سکے۔
انھوں نے پاکستانی حکام کے حالیہ بیانات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیرِ دفاع اور دیگر حکام کی جانب سے بلوچستان میں مزید فوج تعینات کرنے سے متعلق بیانات نے اس خدشے کو مزید بڑھا دیا ہے کہ پہلے سے سنگین صورتحال مزید خراب کی جائے گی۔ پاکستانی حکام اور کٹھ پتلی وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی اپنے بیانات کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ریاستی طاقت کا استعمال محدود اور جائز رہا ہے، جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، شہری علاقوں پر ڈرون حملے، بمباری، سیاسی ، سماجی اور علمی سرگرمیوں پر پابندیاں اور سیاسی رہنماؤں و کارکنان کی بلاجواز گرفتاریاں معمول بن چکی ہیں۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ مزید فوجی کارروائیوں اور کھلی اجتماعی سزا کی دھمکیوں سے یہ خدشات جنم لے رہے ہیں کہ بلوچ معاشرے کو مزید سخت پابندیوں اور جبر میں جکڑ دیا جائے گا۔
حالیہ واقعات کی مثال دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ 2 فروری کی علی الصبح پاکستانی فوج نے ھب، بلوچستان میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے چیئرمین کے اہلِ خانہ کو نشانہ بنایا۔ گرفتاری کے بعد چیئرمین کے والد محمد بخش ساجدی، ان کے چچا نعیم ساجدی اور ماموں انجینئر رفیق بلوچ کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔
گوادر میں پاکستانی فوج نے بھاری ہتھیاروں سے ایک رہائشی گھر پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 12 افراد کی موت ہوئی۔ شناخت ہونے والے مقتولین میں نور محمد زھری ولد ملا جورک اور ان کے بیٹے یاسمین شامل ہیں۔
پل آباد، تربت میں پاکستانی فوج کی جانب سے شہری آبادی پر مارٹر گولے داغے گئے، جس کے نتیجے میں 15 سالہ انس بلوچ ولد ابراہیم جان سے گئے۔
گزشتہ چار دنوں سے بلوچستان بھر میں انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہے، جس کے باعث بیشتر علاقوں کا دنیا سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے اور پاکستانی فوج کی کارروائیوں میں عام شہریوں کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق معلومات کے حصول میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق ضلع نوشکی میں پاکستانی فوج نے درجنوں ڈرون حملے کیے، جن میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ 2 فروری کو جمالدینی میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں تین سالہ بچی دیدگ بنت عبداللہ منان جان سے گئی۔
ترجمان نے کہا کہ بی این ایم عالمی برادری سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بلوچستان کی صورتحال پر فوری اور سنجیدہ توجہ دے۔ پاکستان جان بوجھ کر عالمی برادری کو گمراہ کر رہا ہے تاکہ بلوچ قوم کے خلاف جاری نسل کشی کو چھپایا جا سکے۔ بلوچستان کے ساحل، زمین اور فطری وسائل پر قبضے کے لیے پاکستان بلوچ عوام کے حقِ حاکمیت کو مسترد کر رہا ہے اور ان کی قومی شناخت کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اپنے قبضے کو دوام دے سکے۔
انھوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی برادری کے دوہرے معیارات اس خطے کے بحران کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔ بی این ایم مطالبہ کرتی ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر جوابدہ ٹھہرایا جائے اور پاکستان کے ساتھ تجارتی شراکت داری، بالخصوص بلوچستان سے متعلق منصوبوں میں سرمایہ کاری پر نظرثانی کی جائے۔ عالمی مداخلت اور انسانی حقوق کے تحفظ میں تاخیر اس انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دے گی۔
ترجمان نے کہا کہ حالیہ واقعات کے خلاف بی این ایم اپنی سیاسی، احتجاجی اور میڈیا سرگرمیوں کو مزید وسعت دے گی۔ بلوچستان کی صورتحال کو اجاگر کرنے کے لیے مربوط اور مسلسل احتجاجی مظاہروں اور میڈیا مہمات کا آغاز کیا جائے گا۔ ریاست جتنی زیادہ طاقت استعمال کرے گی، بی این ایم کا انقلابی کیڈر اتنے ہی مضبوط عزم اور استقامت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ بی این ایم کا انفارمیشن، آئی ٹی اور کلچرل ڈیپارٹمنٹ ہفتہ وار مستقل آن لائن پروگراموں کے ذریعے بلوچستان کے مسائل کو اجاگر کرتا رہے گا۔ تمام چیپٹرز اور زونز کو بہتر میڈیا منیجمنٹ کے لیے مشاورت میں شامل کیا جائے گا تاکہ بلوچ عوام کی آواز دنیا تک زیادہ واضح اور مؤثر انداز میں پہنچائی جا سکے۔