Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: افغانستان پر حملہ کی بنیادی وجہ ڈیورنڈ لائن اور افغان اقتدار اعلیٰ پر سودا بازی سے انکار ہے۔ دل مراد بلوچ
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ افغانستان پر حملہ کی بنیادی وجہ ڈیورنڈ لائن اور افغان اقتدار اعلیٰ پر سودا بازی سے انکار ہے۔ دل مراد بلوچ
بیاناتسیکریٹری جنرل

افغانستان پر حملہ کی بنیادی وجہ ڈیورنڈ لائن اور افغان اقتدار اعلیٰ پر سودا بازی سے انکار ہے۔ دل مراد بلوچ

InfoSecBNM
Last updated: March 18, 2026 8:01 pm
Last updated: March 18, 2026
4 Min Read
Share
SHARE

بلوچ نیشنل موومنٹ کے سیکریٹری جنرل دل مراد نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کابل ہسپتال پر بمباری انتہائی شرمناک اور انسانیت سوز ہے۔ افغان سرزمین پر پاکستانی فوجی جارحیت افغانستان کی آزادی پر براہِ راست حملہ، سنگین جنگی جرائم اور قابلِ مذمت ہے۔ بلوچ نیشنل موومنٹ جنگ کی اس مشکل گھڑی میں غیور افغان قوم کے ساتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم اور افغانستان کے عوام کے درمیان رشتہ محض ہمسائیگی کا نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ ہے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم مشکل کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کے دست و بازو بنے ہیں۔ ہم روایات کے امین ہیں اور آج بھی بلوچ اپنے برادر اور غیور ہمسایہ کے ساتھ ہیں۔

دل مراد بلوچ نے کہا کہ پاکستان اپنی عسکری طاقت کی زعم میں یہ بھول بیٹھا ہے کہ اس نے اس افغانستان پر حملہ کردیا ہے جس نے سوویت یونین اور حال ہی میں دنیا کی سپر پاور امریکہ اور دنیا کی سب سے بڑی فوجی اتحاد نیٹو کو شکست دی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان حملوں کی ابتدا چند بے بنیاد عذر کی بنیاد پر کی، لیکن دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کا مسئلہ ڈیورنڈ لائن اور آزاد و خودمختار افغانستان یا افغان اقتدار اعلیٰ ہے۔ ڈیورنڈ لائن قیام پاکستان سے پہلے کا مسئلہ ہے جس کے تین بڑے فریق ہیں یعنی پاکستان، افغانستان اور بلوچ۔ اسے کوئی بھی ایک فریق اپنی منشا یا مفاد کے مطابق حل نہیں کر سکتا۔ افغانستان میں مختلف طرز حکومتیں آئیں، بادشاہت، کمیونزم، مذہبی اور صدارتی نظام تک، ہزاروں اختلافات کے باوجود تمام حکومتیں ڈیورنڈ لائن کے نقطے پر متفق تھیں۔ اس لیے یہ مسئلہ زندہ رہا۔

ابھی بھی بیس سالوں تک پاکستان کرایہ دار کی طرح استعمال ہو کر بھی امریکہ و نیٹو سے منظور نظر کے ذریعے ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ حل نہیں کر سکا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قومی وجودی مسائل حکومت نہیں بلکہ قوم حل کرتی ہے، اور کوئی بھی قوم اپنی موجودگی کا ایک حصہ کسی دشمن قصائی کے ہاتھوں از خود کاٹنے کی اجازت نہیں دیتی، اور یہی افغان قوم کر رہا ہے۔

دل مراد بلوچ نے کہا کہ پاکستان کا دوسرا بڑا مسئلہ آزاد و خودمختار افغانستان ہے۔ سوویت یونین کے خلاف مغربی اتحاد کا حصہ بننے کا فیصلہ ہو یا امریکہ و نیٹو کے ساتھ، پاکستان ایک جانب کرایے کے پیسے سے اپنی معیشت چلاتا رہا اور دوسری طرف افغانستان کو تباہ و برباد کرنے میں شامل رہا تاکہ افغانستان بطور ریاست مستحکم ہو کر آزادانہ طور پر اپنی قومی تقدیر اور قومی مفادات کی تعمیر نہ کر سکے۔ عشروں تک پاکستان نے افغانستان کو اسٹریٹیجک ڈپتھ کے طور پر اپنے عسکری ایجنڈے میں سرفہرست رکھا تاکہ نام نہاد ڈیورنڈ لائن سے کوئی خطرہ نہ ہو اور افغانستان کی بالادستی پنجابی مفادات کے زیرنگین ہو۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان نے پاکستان کی یہ دونوں عزائم خاک میں ملا دیے ہیں۔ آج کا افغانستان نہ پاکستانی اسٹریٹیجک ڈپتھ کا حامی ہے اور نہ ہی ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتا ہے۔ اس لیے پاکستان خطے کی کشیدگی اور مغرب کے مہرے کی حیثیت سے مواقع سے فائدہ اٹھا کر افغانستان پر حملہ آور ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہتھیار پھینکنا پنجابی کے حصے میں آیا ہے، افغانستان کے نہیں، اور یہ تاریخ کسی بھی وقت دہرائی جا سکتی ہے۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print
Leave a Comment Leave a Comment

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Reports and Statements

بی این ایم کا عالمی مہم کا تسلسل، اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں جبری گمشدگیوں اور اجتماعی سزا کو اجاگر کیا گیا۔

بی این ایم کا عالمی مہم کا تسلسل، اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں جبری گمشدگیوں اور…

بیانات پروگرامات
March 18, 2026

بی این ایم کا سی سی اجلاس: اجتماعی سزا کے خلاف عالمی سفارتی مہم تیز کرنے کا اعلان

آج سخت ترین حالات کے باوجود بلوچ قوم اپنی قومی تحریک سے وابستگی پر قائم ہے اور مسلسل قربانیاں دے…

بیانات چیئرپرسن سیکریٹری جنرل مرکزی کمیٹی اجلاس
February 25, 2026

افغانستان پر پاکستان کے حملوں میں معصوم جانیں ضائع ہوئیں، بلوچ قوم افغانستان کے حقِ دفاع کی حمایت کرتی ہے- ترجمان بی این ایم

پاکستان کی فوجی طاقت نہ صرف خطے بلکہ خطے سے باہر کے ممالک کے لیے بھی ایک واضح خطرہ ہے۔…

بیانات ترجمان
February 23, 2026

پانک کی جنوری 2026 کی رپورٹ: 12 افراد ماورائے عدالت قتل، 82 جبری لاپتہ، 44 افراد تشدد کے بعد رہا

پانک کے مطابق یہ صورتحال بلوچستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی حالت کی عکاس ہے۔

پانک
February 19, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Cleantalk Pixel
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?