بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کی عالمی مہم پاکستان کے جاری انسانیت سوز جرائم، بلوچ مخالف پالیسیوں، اور مقبوضہ بلوچستان میں بلوچ قوم کے خلاف اس کی وحشیانہ اجتماعی سزا کو بے نقاب کرنے کے لیے مسلسل جاری ہے۔
آج بی این ایم کے امریکہ چیپٹر نے عوامی مقامات پر پمفلٹس تقسیم کیے تاکہ لوگوں میں آگاہی پیدا کی جا سکے اور مقبوضہ بلوچستان کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے بارے میں درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔ اکیسویں صدی میں بھی یہ ناانصافیاں جمہوری دنیا اور عالمی برادری کے سامنے ہو رہی ہیں، جو پاکستان کے غیر قانونی قبضے کا نتیجہ ہیں۔ پاکستان مسلسل منظم جرائم کے ذریعے بلوچستان پر اپنا قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے، جن میں بلوچ عوام کے خلاف اجتماعی سزا شامل ہے۔
پاکستان نے بلوچ مردوں اور عورتوں، دانشوروں، پروفیسروں، وکلاء، ڈاکٹروں، اساتذہ، انسانی حقوق کے کارکنوں، کسانوں، چرواہوں اور طلبہ کے خلاف وسیع پیمانے پر تشدد کیا ہے۔ حتیٰ کہ کم عمر بچے، جن میں سات سال کے بچے بھی شامل ہیں، بھی اس ظلم سے محفوظ نہیں رہے۔ ہزاروں بلوچ افراد جبری گمشدگیوں کا شکار بنائے گئے ہیں اور اس وقت پاکستان کی مسلح افواج کی غیر قانونی حراست میں نامعلوم عقوبت خانوں میں رکھے گئے ہیں۔
بلوچ سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کے اہل خانہ بھی پاکستان کی جاری بلوچ مخالف اجتماعی سزا کی پالیسیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ 2 فروری 2026 کو بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے ضعیف والد محمد بخش ساجدی بلوچ، ان کے بھائی مسٹر نعیم ساجدی بلوچ اور ایک کسان انجنئیر رفیق بلوچ کو حب شہر سے پاکستانی فورسز نے زبردستی اغوا کر لیا۔ تاحال ان کی خیریت کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
29 مئی 2025 کو ایک معذور لڑکی مس ماہ جبین بلوچ کو سول ہسپتال کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔ مسٹر لطیف بلوچ، جو ایک لکھاری اور معروف صحافی تھے اور ڈاکٹر نسیم بلوچ کے کزن تھے، کو ضلع آواران کے علاقے مشکے میں پاکستانی فورسز نے قتل کر دیا۔
مقبوضہ بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے پُرامن رہنماؤں کو بھی، جو انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں اور مظلوم عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔ انہیں بغیر کسی رابطے کے حراست میں رکھا گیا ہے اور نامعلوم ججوں کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ انہیں اپنے وکلاء سے مشاورت کا حق بھی نہیں دیا جا رہا، جو بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف یہ جرائم پاکستان آرمی کی ہدایات پر کیے جا رہے ہیں۔
بلوچستان ایک ایسا خطہ ہے جو پاکستان کے غیر قانونی قبضے کے تحت مختلف اقسام کے مظالم کا شکار رہا ہے۔ ساحلی علاقوں اور قدرتی وسائل سے مالا مال سرزمین پر رہنے والے لوگوں کو بندوق کے زور پر بے دخل کیا جا رہا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ہزاروں افراد کو نام نہاد فوجی آپریشنز کے دوران قتل کیا گیا ہے، جن کا مقصد بلوچ قومی وسائل پر قبضہ اور ان کا استحصال ہے۔
آج امریکہ میں بی این ایم کے کارکنوں نے پمفلٹس تقسیم کیے تاکہ دنیا کی ایک بڑی جمہوریت کے عوام کو مقبوضہ بلوچستان کے عوام کے دکھ اور تکلیف سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس مہم کا مقصد ریاست پاکستان کا اصل چہرہ بے نقاب کرنا ہے، جو گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے انسانیت کے خلاف جرائم اور جابرانہ پالیسیوں میں ملوث ہے۔
اس آگاہی مہم کے تحت امریکہ کی مختلف ریاستوں اور تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں جاری ہیں، جن میں واشنگٹن ڈی سی، ریاست میساچوسٹس (خصوصاً بوسٹن)، کیمبرج، ہارورڈ یونیورسٹی، میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، فریمنگھم، مڈل سیکس کاؤنٹی کا شہر والتھم، ریاست ورجینیا (بشمول دارالحکومت رچمنڈ)، ووڈ برج، لارٹن اور الیگزینڈریا شامل ہیں
Footages:
https://thebnm.org/footages/24526/