بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے زیرِ اہتمام لندن میں ٹن ڈاؤننگ اسٹریٹ کے سامنے ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کے 17 سال مکمل ہونے پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس احتجاج کا مقصد برطانیہ کی حکومت، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور بین الاقوامی برادری کی توجہ مقبوضہ بلوچستان کی سیاسی و سماجی صورتحال، تحریکِ آزادی، جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزا کی پالیسی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی جانب مبذول کرانا تھا۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ نیشنل موومنٹ کے جونیئر جوائنٹ سیکریٹری حسن دوست نے کہا کہ پاکستانی فوج بلوچ سیاسی کارکنوں کے خلاف ’اجتماعی سزا‘ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ انھوں نے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور اسے فراہم کی جانے والی مالی معاونت پر نظرِ ثانی کریں۔
حسن دوست نے دنیا بھر میں مقیم بلوچ تارکینِ وطن سے اپیل کی کہ وہ تحریکِ آزادی میں اپنا کردار مزید فعال بنانے کے لیے بلوچ نیشنل موومنٹ میں شامل ہوں۔
دیگر مقررین نے ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی 17 سالہ طویل جبری گمشدگی اور مسلسل قید و اذیت کو انسانی حقوق کی بدترین پامالی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ مقبوضہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اب ریاستی پالیسی کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہزاروں بلوچ خاندان اس پالیسی سے متاثر ہوئے ہیں اور سیاسی کارکنوں کے اہلِ خانہ کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مقررین نے نشاندہی کی کہ بی این ایم کے چیئرمین کے والد، چچا اور دیگر قریبی رشتہ داروں کو بھی جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے، جو ایک پرامن سیاسی رہنما کے خاندان کو اجتماعی سزا دینے کی واضح مثال ہے۔
احتجاج کے شرکاء نے ڈاکٹر دین محمد بلوچ سمیت دیگر جبری لاپتہ افراد کی تصاویر، پوسٹرز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور ان کی فوری بازیابی، اجتماعی سزا کے خاتمے، انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے اور بلوچستان کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کی۔
پروگرام کی نظامت بی این ایم یو کے چیپٹر کے سیکریٹری کمبر بخشی بلوچ نے کی، جبکہ بی این ایم کے جونیئر سیکریٹری حسن دوست، سلیم الٰہی اور کفایت بلوچ نے خطاب کیا۔