Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: بلوچستان کے جبری گمشدگان کی خاموش فریاد، بی این ایم کی جنیوا میں تصویری نمائش
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ بلوچستان کے جبری گمشدگان کی خاموش فریاد، بی این ایم کی جنیوا میں تصویری نمائش
پروگرامات

بلوچستان کے جبری گمشدگان کی خاموش فریاد، بی این ایم کی جنیوا میں تصویری نمائش

Foreign Department
Last updated: September 29, 2026 4:04 pm
Last updated: September 29, 2026
4 Min Read
Share
SHARE

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزا اور انسانی حقوق کی صورتِ حال پر تصویری نمائش کا انعقاد کیا، جس میں جبری لاپتہ افراد اور ان کے خاندانوں کی مشکلات کو تصاویر کے ذریعے اجاگر کیا گیا۔

یہ نمائش بی این ایم کی 24 سے 26 ستمبر تک جاری رہنے والی تین روزہ جنیوا مہم کا حصہ تھی، جس میں کانفرنس، احتجاج اور ریلی بھی شامل تھے۔ بی این ایم کے مطابق، مہم کا مقصد بلوچستان کی صورتِ حال کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا اور جبری گمشدگیوں سے متعلق شواہد بین الاقوامی اداروں تک پہنچانا تھا۔

بی این ایم کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگی محض دعویٰ یا اعداد و شمار نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں سے جڑی ایک دردناک حقیقت ہے۔ ان کے مطابق، نمائش میں پیش کی گئی تصاویر ان خاندانوں کی نمائندگی کرتی ہیں جو برسوں سے اپنے پیاروں کی واپسی اور ان کے بارے میں جواب کے منتظر ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کے احتجاج، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے لانگ مارچ اور طویل بھوک ہڑتالوں کے باوجود عالمی سطح پر اس مسئلے پر مؤثر اقدام نہیں اٹھایا جاسکا۔ انھوں نے کہا کہ بی این ایم کی عالمی مہم اسی سوال کو اقوام متحدہ جیسے عالمی پلیٹ فارم تک دستاویز اور تصویری شواہد کی صورت میں پہنچانے کی کوشش ہے۔

انھوں نے کہا کہ ماما قدیر کے لانگ مارچ میں اپنے والدین کی تلاش کے لیے شریک ہونے والے کئی بچے آج جوان ہوچکے ہیں، جبکہ بعض خود بھی جبری گمشدگی اور ریاستی دباؤ کا سامنا کرچکے ہیں۔

ترجمان نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے والد کی جبری گمشدگی کے خلاف اس وقت آواز اٹھائی جب وہ کم سن بچی تھیں اور آج بلوچ حقوق کے لیے ایک معروف آواز بن چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھیں بلوچ حقوق کی جدوجہد کی پاداش میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑا اور جون 2026 میں انھیں ایک جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

ترجمان نے بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے خاندان کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق، ڈاکٹر نسیم بلوچ کے والد محمد بخش ساجدی اور چچا نعیم ساجدی اور ماموں انجینئر رفیق بلوچ کو 2 فروری 2026 کو ھب میں ان کے گھروں پر کارروائی کے دوران پاکستانی فوج نے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کیا اور ان کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس معاملے کو برطانوی پارلیمان کے ایک ارلی ڈے موشن میں بھی اٹھایا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ قوم ان تمام تر مشکلات کے باوجود اپنی سیاسی جدوجہد اور تحریکِ آزادی میں استقامت سے کھڑی ہے۔ یہ تصویری نمائش اس استقامت اور ان قربانیوں کا اظہار ہے جو بلوچ اپنی آزادی کے لیے دے رہا ہے۔

جنیوا میں ہونے والی اس نمائش کے ذریعے بی این ایم نے جبری گمشدگیوں کے متاثرین کی تصاویر کو عالمی اداروں اور بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش کیا اور مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے دیکھا جائے۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print

Reports and Statements

جنیوا میں بی این ایم کا احتجاج: بلوچستان میں جینے کا حق بھی چھین لیا گیا، مرنے کا وقار بھی

سندھی ، پشتون ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے نمائندگان کی شرکت سے یہ خطے کے محکوم اقوام کی مشترکہ…

احتجاج
September 27, 2026

شہباز شریف کی اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران بی این ایم کا احتجاج، ’آزاد بلوچستان‘ کے نعرے

بی این ایم نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بلوچستان کی صورتِ حال پر ’خاموشی ختم کرنے‘ اور ’فوری…

احتجاج
September 26, 2026

نیویارک میں بی این ایم کی ڈیجیٹل ٹرک مہم، بلوچستان کی صورتحال سے عالمی آگاہی کی کوشش

اس مہم کا مقصد شہر میں موجود بین الاقوامی نمائندوں، صحافیوں، شہریوں اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنے…

پروگرامات
September 26, 2026

جنیوا میں بی این ایم کی بارہویں بلوچستان انٹرنیشنل کانفرنس، انسانی حقوق، انصاف اور بلوچ سیاسی مستقبل پر گفتگو

کانفرنس کا عنوان تھا ’مقبوضہ بلوچستان دوراہے پر: انسانی حقوق، انصاف اور جدوجہدِ آزادی، چیئرمین زبیر بلوچ کی میراث کو…

پروگرامات
September 26, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?