بی وائی سی کے رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو عمر قید، بی ایس او کے چیئرمین بالاچ قادر اور دیگر طلباء رہنماؤں و سیاسی کارکنان کے خلاف بے بنیاد عدالتی کارروائیوں کے خلاف جرمنی کے شہر ہنور میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
مظاہرے سے بی این ایم جرمنی چیپٹر کے صدر اصغر بلوچ، سابق صدر شر حسن، بی این ایم جرمنی کی سابق نائب صدر صفیہ بلوچ، بی آر پی کے رکن حماد کرد، پی ٹی ایم کے فیصل خان، بی این ایم کے رکن اکبر علی، سارہ عمیر، بی این ایم کی ہمدرد حرا بانو اور مراد بلوچ نے خطاب کیا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ 1948 میں مقبوضہ بلوچستان پر پاکستان کے بزورِ طاقت قبضے کے بعد سے ہی جبر کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ ان مظالم سے بلوچ قوم کی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچستان کو الگ تھلگ کر کے انصاف سے محروم رکھا گیا ہے۔
مقررین نے مزید کہا کہ ریاستِ پاکستان کی جانب سے بلوچ عوام کو ہر ممکن طریقے سے محروم کیا جا رہا ہے اور بعض عناصر کی پشت پناہی سے بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں کی جگہ کو مسلسل محدود کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ احتساب اور انسانی حقوق کا مطالبہ کرنے پر بی وائی سی کی قیادت اور کارکنوں کو قید کرنا بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں اور اسے حل کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ کردار ادا کریں۔