اگست ‘یومِ تجدیدِ عہدِ بلوچ ‘ کی مناسبت سے آواران ھنکین میں منعقدہ تقریب سے تلار ناز، میرک ، زبیر اور مسعود نے خطاب کیا۔ مقررین نے 11 اگست کو بلوچ قوم کے لیے ایک تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دن قوم کو اپنی چھینی گئی آزادی کے حصول اور ناانصافی کے خلاف مسلسل جدوجہد کا درس دیتا ہے۔ انھوں نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ غاصبانہ تسلط کے خاتمے، قومی شناخت کے تحفظ اور آزاد ریاست کے قیام تک بلوچ و قومی تحریک تمام تر قربانیوں کے ساتھ جاری رہے گی۔
تاریخی پس منظر کو اجاگر کرتے ہوئے مقررین نے بتایا کہ 13 نومبر 1839ء کو برطانیہ نے کلات پر حملہ کر کے بلوچستان کی طویل غلامی کی بنیاد رکھی تھی، مگر خانِ بلوچ میر محراب خان اور ان کے رفقاء نے قبضے کے خلاف لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور قومی خودمختاری کی شمع کو روشن رکھا۔ دہائیوں پر محیط مسلسل مزاحمت اور بے شمار قربانیوں کے نتیجے میں انگریزوں کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور بالآخر 11 اگست 1947 کو بلوچستان نے اپنی آزادی بحال کر لی۔ مقررین کے مطابق، خانِ بلوچ اور تمام شہداء کی یہ مقاومت آج بھی بلوچ قوم کے لیے فخر اور جدوجہد کا سرچشمہ ہے۔
تقریب کے دوران اس بات پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا کہ 11 اگست 1947 کو حاصل ہونے والی آزادی کے تھوڑے ہی عرصے بعد، 27 مارچ 1948ء کو پاکستان نے طاقت اور دھوکہ دہی کے زور پر بلوچستان پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور فوجی کارروائیوں جیسے مظالم کے باوجود بلوچ قوم نے اس تسلط کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ بلوچ قوم اور اس کی قیادت آج بھی اپنے وطن کی آزادی کی بحالی اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے نسل در نسل قربانیاں دینے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
مقررین نے ماضی کی قومی خامیوں کا جائزہ لینے اور جدید تقاضوں کے مطابق قوم کو منظم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ محض آزادی کا مطالبہ کافی نہیں، بلکہ مستقبل میں آزاد بلوچستان کے استحکام کے لیے تعلیم، دفاع اور عالمی پیشرفت کے شعبوں میں خود کو تیار کرنا ہوگا۔ دشمن کے اس پراپیگنڈے کو رد کرتے ہوئے کہ “بلوچستان آزاد ہو کر ترقی نہیں کر سکتا”، انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے پاس بہترین جغرافیائی موقع، طویل ساحل، بے شمار قدرتی وسائل، زرخیز تاریخ اور ثقافت موجود ہے، جس کی بدولت ایک آزاد، عادلانہ اور ترقی یافتہ ریاست کا قیام نہ صرف ممکن ہے بلکہ ناگزیر بھی ہے۔