Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: پروفیسر غمخوار حیات کا قتل بلوچ دانش پر حملہ ہے۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ پروفیسر غمخوار حیات کا قتل بلوچ دانش پر حملہ ہے۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ
چیئرپرسن

پروفیسر غمخوار حیات کا قتل بلوچ دانش پر حملہ ہے۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ

InfoSecBNM
Last updated: May 16, 2026 9:18 pm
Last updated: May 16, 2026
3 Min Read
Share
SHARE

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے محقق، شاعر، ادیب اور استاد پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اندوہناک سانحہ بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی اور اجتماعی سزا کا حصہ اور تسلسل ہے۔ ایسے ہی حملے میں پندرہ سال قبل ممتاز شاعر، محقق اور دانشور پروفیسر صبا دشتیاری کو ریاست نے ہدف بنا کر قتل کر دیا۔ ہم غمخوار حیات کو ان کی شہادت، قربانی اور ان کے ادبی عرق ریزی اور کاوشوں پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ آپ قریبا ڈیڑھ درجن کتابوں کے مصنف ہیں۔ یقینا یہ بلوچ قوم، بلوچی اور براہوئی زبان کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ ہمیں بحیثیت قوم یہ بات نہیں بھولنا چاہئے کہ اسی پاکستان نے بنگلہ دیش کے ایک ہزار سے زائد شاعر، ادیب، دانشور اور استاتذہ قتل کیے۔ صرف 14 دسمبر 1971 کو پاکستانی درندہ فوج نے 200 سے زیادہ نمایاں دانشوروں کو قتل کیا۔ آج وہی کربناک عمل بلوچستان میں دہرایا جارہا ہے، یہ قومی دانش کی قتل ہے۔

بی این ایم چئیر مین نے کہا کہ کئی برسوں سے بلوچ دانشوروں، اسٹوڈنٹس، اساتذہ، شاعروں اور ادیبوں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ بلوچ قومی آواز کو خاموش کیا جا سکے اور معاشرے کو ذہنی طور پر بانجھ اور پسماندہ رکھا جائے۔ پروفیسر غمخوار حیات کا قتل بلوچستان میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال اور ریاستی تشدد کا ایک اور المناک ثبوت ہے، جہاں قاتل مکمل استثنیٰ کے ساتھ اپنے جنگی جرائم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کے علمی، ادبی اور فکری سرمایہ کو ختم کرنے کے لیے قابض ریاست مختلف ہتھکنڈے آزما رہی ہے۔ اساتذہ، دانشور اور ادبی شخصیات کسی بھی قوم کی فکری بنیاد ہوتے ہیں اور ان پر حملے دراصل بلوچ قومی دانش، شناخت، تاریخ، زبان اور شعور پر حملے ہیں لیکن جبر، قتل اور خوف کے ذریعے سچائی کو دبایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی آزادی، انصاف اور قومی وقار کے لیے جدوجہد کرنے والی قوم کو خاموش کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ پروفیسر غمخوار حیات نے اپنی علمی و ادبی خدمات کے ذریعے بلوچ معاشرے میں شعور، مزاحمت اور قومی احساس کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا قتل نہ صرف براہوئی ادب بلکہ پوری بلوچ قوم کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

بی این ایم کے چیئرمین نے عالمی انسانی حقوق کے اداروں، اقوام متحدہ، ادبی تنظیموں، اور صحافتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں بلوچ دانشوروں اور عام شہریوں کے ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کا نوٹس لیں اور پاکستان کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائیں۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print
Leave a Comment Leave a Comment

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Reports and Statements

بلوچستان کے جبری گمشدگان کی خاموش فریاد، بی این ایم کی جنیوا میں تصویری نمائش

انھوں نے کہا کہ بی این ایم کی عالمی مہم اسی سوال کو اقوام متحدہ جیسے عالمی پلیٹ فارم تک…

پروگرامات
September 29, 2026

جنیوا میں بی این ایم کا احتجاج: بلوچستان میں جینے کا حق بھی چھین لیا گیا، مرنے کا وقار بھی

سندھی ، پشتون ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے نمائندگان کی شرکت سے یہ خطے کے محکوم اقوام کی مشترکہ…

احتجاج
September 27, 2026

شہباز شریف کی اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران بی این ایم کا احتجاج، ’آزاد بلوچستان‘ کے نعرے

بی این ایم نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بلوچستان کی صورتِ حال پر ’خاموشی ختم کرنے‘ اور ’فوری…

احتجاج
September 26, 2026

نیویارک میں بی این ایم کی ڈیجیٹل ٹرک مہم، بلوچستان کی صورتحال سے عالمی آگاہی کی کوشش

اس مہم کا مقصد شہر میں موجود بین الاقوامی نمائندوں، صحافیوں، شہریوں اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنے…

پروگرامات
September 26, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?