بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے محقق، شاعر، ادیب اور استاد پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اندوہناک سانحہ بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی اور اجتماعی سزا کا حصہ اور تسلسل ہے۔ ایسے ہی حملے میں پندرہ سال قبل ممتاز شاعر، محقق اور دانشور پروفیسر صبا دشتیاری کو ریاست نے ہدف بنا کر قتل کر دیا۔ ہم غمخوار حیات کو ان کی شہادت، قربانی اور ان کے ادبی عرق ریزی اور کاوشوں پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ آپ قریبا ڈیڑھ درجن کتابوں کے مصنف ہیں۔ یقینا یہ بلوچ قوم، بلوچی اور براہوئی زبان کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ ہمیں بحیثیت قوم یہ بات نہیں بھولنا چاہئے کہ اسی پاکستان نے بنگلہ دیش کے ایک ہزار سے زائد شاعر، ادیب، دانشور اور استاتذہ قتل کیے۔ صرف 14 دسمبر 1971 کو پاکستانی درندہ فوج نے 200 سے زیادہ نمایاں دانشوروں کو قتل کیا۔ آج وہی کربناک عمل بلوچستان میں دہرایا جارہا ہے، یہ قومی دانش کی قتل ہے۔
بی این ایم چئیر مین نے کہا کہ کئی برسوں سے بلوچ دانشوروں، اسٹوڈنٹس، اساتذہ، شاعروں اور ادیبوں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ بلوچ قومی آواز کو خاموش کیا جا سکے اور معاشرے کو ذہنی طور پر بانجھ اور پسماندہ رکھا جائے۔ پروفیسر غمخوار حیات کا قتل بلوچستان میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال اور ریاستی تشدد کا ایک اور المناک ثبوت ہے، جہاں قاتل مکمل استثنیٰ کے ساتھ اپنے جنگی جرائم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کے علمی، ادبی اور فکری سرمایہ کو ختم کرنے کے لیے قابض ریاست مختلف ہتھکنڈے آزما رہی ہے۔ اساتذہ، دانشور اور ادبی شخصیات کسی بھی قوم کی فکری بنیاد ہوتے ہیں اور ان پر حملے دراصل بلوچ قومی دانش، شناخت، تاریخ، زبان اور شعور پر حملے ہیں لیکن جبر، قتل اور خوف کے ذریعے سچائی کو دبایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی آزادی، انصاف اور قومی وقار کے لیے جدوجہد کرنے والی قوم کو خاموش کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ پروفیسر غمخوار حیات نے اپنی علمی و ادبی خدمات کے ذریعے بلوچ معاشرے میں شعور، مزاحمت اور قومی احساس کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا قتل نہ صرف براہوئی ادب بلکہ پوری بلوچ قوم کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
بی این ایم کے چیئرمین نے عالمی انسانی حقوق کے اداروں، اقوام متحدہ، ادبی تنظیموں، اور صحافتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں بلوچ دانشوروں اور عام شہریوں کے ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کا نوٹس لیں اور پاکستان کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائیں۔