Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: سابق وائس چیئرمین ڈاکٹر خدابخش بلوچ کے خاندان کو مسلسل اجتماعی سزا دی جا رہی ہے ۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ سابق وائس چیئرمین ڈاکٹر خدابخش بلوچ کے خاندان کو مسلسل اجتماعی سزا دی جا رہی ہے ۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ
بیاناتچیئرپرسن

سابق وائس چیئرمین ڈاکٹر خدابخش بلوچ کے خاندان کو مسلسل اجتماعی سزا دی جا رہی ہے ۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ

InfoSecBNM
Last updated: September 8, 2026 11:42 pm
Last updated: September 8, 2026
4 Min Read
Share
SHARE

بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این ایم ) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا ہے کہ پارٹی کے سابق وائس چیئرمین ڈاکٹر خدابخش بلوچ کے خاندان کو برسوں سے منظم اور مسلسل اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے بڑے بھائی قادر بخش بلوچ کو تیسری مرتبہ جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا ہے۔ یہ محض ایک شخص کا اغوا نہیں بلکہ ایک پورے خاندان کو توڑنے، خوف زدہ کرنے اور خاموش کرانے کے لیے بار بار دہرایا جانے والا ریاستی جرم ہے۔

انھوں نے کہا کہ قادر بخش بلوچ اور ان کے بیٹوں کو ایک طویل عرصے سے پاکستانی ریاست کے ناقابلِ بیان ظلم و اذیت کا سامنا ہے۔ یہ تیسری مرتبہ ہے کہ خاندان کے سربراہ قادر بخش بلوچ کو جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا ہے۔ اس سے قبل انھیں اور ان کے دونوں بیٹوں کو پاکستانی فوج نے حراست میں لے کر عقوبت خانوں میں منتقل کیا، جہاں انھیں شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد رہا کیا گیا۔ لیکن ان کی رہائی بھی آزادی نہ تھی؛ انھیں مسلسل خوف، نگرانی اور دوبارہ اٹھائے جانے کے سائے میں زندہ رہنے پر مجبور رکھا گیا۔ آج ایک مرتبہ پھر قادر بخش بلوچ کو ان کے گھر، خاندان اور زندگی سے چھین لیا گیا ہے—اور ان کے پیچھے رہ جانے والے اہلِ خانہ کو ہر لمحہ اس اندیشے کے ساتھ زندہ رہنا پڑ رہا ہے کہ معلوم نہیں ان کا پیارا کس عقوبت خانے میں، کس حال میں اور کس اذیت سے گزر رہا ہوگا۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ پاکستانی ریاست نے اجتماعی سزا کو بلوچ قومی و سماجی زندگی پر مسلط ایک مستقل عذاب بنا دیا ہے۔ بلوچ وطن کے طول و عرض میں اب شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب کسی گھر ، محلے پر حملہ نہ ہو، کسی ماں کی گود نہ اجاڑی جائے، کسی بچے سے اس کا باپ اور کسی بہن سے اس کا بھائی نہ چھینا جائے۔ بلوچستان میں اب ایسے خاندان انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جو ریاستی جبر، جبری گمشدگی، تشدد، فوجی یلغار کی اذیت سے محفوظ رہے ہوں۔ یہاں انسان صرف لاپتہ نہیں کیے جاتے، ان کے ساتھ پورے خاندانوں کی نیند، سکون، مستقبل اور زندگی چھین لیا جاتا ہے۔ مائیں برسوں دروازوں کی آہٹ پر چونکتی ہیں، بچے اپنے باپ کے انتظار میں جوان ہوجاتے ہیں اور خاندان اپنے پیاروں کی موت و زیست کے درمیان معلق روزانہ موت جیسی کربناک تجربات سے گزر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بلوچ قوم جبر، تشدد اور ریاستی دہشت گردی کے ان تمام مرحلوں سے حوصلے کے ساتھ ضرور گزرے گی لیکن جو لوگ پاکستانی نوآبادیاتی درندگی کے ظالمانہ نظام کا کسی بھی سطح پر حصہ ہیں، جو سامنے یا پسِ پردہ ریاستی جرائم میں معاونت کر رہے ہیں اور جو قومی سیاست کے دعویدار ہونے کے باوجود بلوچ گھروں سے اٹھتی چیخوں پر خاموش ہیں، وہ تاریخ اور بلوچ قوم کے احتساب سے بچ نہیں سکیں گے۔ ریاستی طاقت انھیں وقتی تحفظ، عہدے اور مراعات تو دے سکتی ہے مگر بلوچ سماج کی یادداشت سے ان کے کردار کو مٹا نہیں سکتی۔ جس دن بلوچ قوم نے انھیں اجتماعی طور پر مسترد کردیا، اس دن ان کے پاس اپنے کردار، اپنی خاموشی اور اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے روئے زمین پر کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print
Leave a Comment Leave a Comment

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Reports and Statements

بی این ایم یوکے چیپٹر کی پانچویں کونسل ماما قدیر بلوچ کے نام، نسیم عباس صدر اور سلیم الٰہی جنرل سیکریٹری منتخب

انتخابی عمل کے نتیجے میں نسیم عباس صدر، کمبر بخشی نائب صدر، سلیم الٰہی جنرل سیکریٹری، کفایت بلوچ جوائنٹ سیکریٹری…

تنظیمی پروگرامات
October 13, 2026

جرمنی میں لوئر سیکسنی کی پارلیمان کے سامنے بی این ایم کا احتجاج، بلوچ قوم آزادی کی حق دار ہے

بلوچستان کا مسئلہ طاقت کے استعمال کے بجائے انسانی حقوق کے تحفظ، انصاف اور حقِ خودارادیت کو تسلیم کرکے حل…

احتجاج جرمنی چیپٹر
October 12, 2026

بلوچ اور سندھی اقوام کے لیے قومی آزادی، سیاسی ہم آہنگی اور عملی تعاون ناگزیر ہے، ڈاکٹر نسیم بلوچ

قومی آزادی کے بغیر جمہوریت، امن اور پائیدار مستقبل محض خوبصورت الفاظ اور دل بہلانے والے خواب بن کر رہ…

چیئرپرسن
October 11, 2026

سیئٹل میں بی این ایم کا احتجاج :بلوچ قوم کے حقوق کے تحفظ کے لیے امریکہ کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے

احتجاج کے دوران مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ قوم کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، تشدد اور…

احتجاج
October 1, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?