Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: بلوچستان اجتماعی سزا کے نفسیاتی اور معاشرتی کرب سے گزر رہا ہے : بی این ایم کا جرمنی میں مظاہرہ
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ بلوچستان اجتماعی سزا کے نفسیاتی اور معاشرتی کرب سے گزر رہا ہے : بی این ایم کا جرمنی میں مظاہرہ
احتجاججرمنی چیپٹر

بلوچستان اجتماعی سزا کے نفسیاتی اور معاشرتی کرب سے گزر رہا ہے : بی این ایم کا جرمنی میں مظاہرہ

BNM Germany
Last updated: July 6, 2026 6:33 pm
Last updated: July 6, 2026
4 Min Read
Share
SHARE

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے جرمنی کے شہر بریمین میں مقبوضہ بلوچستان کی مجموعی صورتحال اور پاکستانی ریاست کے مظالم کو اجاگر کرنے کے لیے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے بی وائی سی کے رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ ، صبغت اللہ ، بیبو ، گلزادی ، بیبگر بلوچ اور سید بی بی شریف کی گرفتاریوں پر بھی بات کی اور بتایا کہ انسانی حقوق کے مذکورہ کارکنان کو بلوچستان میں انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر جعلی مقدمات اور جھوٹی عدالتی کارروائیوں کے ذریعے سزا دی گئی ہے۔

مقررین نے بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این ایم ) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے والد ، چچا اور ماموں کی جبری گمشدگی کو بھی اجاگر کیا جنھیں محض ڈاکٹر نسیم بلوچ کی سیاسی سرگرمیوں کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہے ، ان کا خاندان شدید ریاستی دباؤ کا شکار ہے یہاں تک کہ ان کی بہن سے طاقت کے زور پر پریس کانفرنس کروا کر ڈاکٹر نسیم بلوچ سے لاتعلقی کا بیان دلوایا گیا ہے۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ریاستِ پاکستان بلوچستان میں لوگوں کو بڑے پیمانے پر اجتماعی سزا کا نشانہ بنا رہی ہے۔ حراستی قتل اور جبری گمشدگیاں معمول بن چکی ہیں۔ قابض پاکستانی ریاست بلوچستان میں لوگوں کے گھروں کو مسمار کر کے انھیں جبری نقل مکانی پر مجبور کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جبری گمشدگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے یقینی کی صورتحال ایک گہرا نفسیاتی درد بن جاتی ہے۔ یہ صرف جبری لاپتہ فرد کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے خاندان کا کرب بن جاتا ہے۔ مائیں روزانہ کسی خبر کی منتظر رہتی ہیں، باپ شدید ذہنی دباؤ اور بے بسی میں زندگی گزارتے ہیں، جبکہ بچے خوف اور جذباتی عدم استحکام کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں۔ زندگی معمول پر نہیں رہتی، حتیٰ کہ روزمرہ کے کام بھی مشکل ہو جاتے ہیں۔

مقررین نے مزید کہا کہ محض کسی ایک فرد کی سیاسی سرگرمیوں اور وابستگیوں کی بنیاد پر اس کے خاندان کے دیگر افراد کو نہ صرف نفسیاتی، مالی اور معاشرتی طور پر نقصان پہنچایا جاتا ہے، بلکہ بعض صورتوں میں بلوچ سماج پر دباؤ بڑھانے اور خوف پھیلانے کے لیے انھیں قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔ جبری گمشدگان کے اکثر خاندان خاموشی اختیار کرتے ہیں، اس کے باوجود انھیں اپنے پیاروں کی لاشیں مل رہی ہیں جنھیں پاکستانی فوج حراست کے دوران قتل کر رہی ہے۔

انھوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے بلوچستان میں انسانی حقوق کی بحالی اور بلوچ قوم کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کرے۔ بلوچ قوم اپنی کھوئی ہوئی آزادی کی بحالی کی مستحق ہے۔

احتجاجی مظاہرے سے عمیر اور اکبر بلوچ نے خطاب کیا ارو بلوچستان کی گھمبیر صورتحال کے بارے میں پمفلٹس تقسیم کیے گئے۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print

Reports and Statements

بلوچستان کے جبری گمشدگان کی خاموش فریاد، بی این ایم کی جنیوا میں تصویری نمائش

انھوں نے کہا کہ بی این ایم کی عالمی مہم اسی سوال کو اقوام متحدہ جیسے عالمی پلیٹ فارم تک…

پروگرامات
September 29, 2026

جنیوا میں بی این ایم کا احتجاج: بلوچستان میں جینے کا حق بھی چھین لیا گیا، مرنے کا وقار بھی

سندھی ، پشتون ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے نمائندگان کی شرکت سے یہ خطے کے محکوم اقوام کی مشترکہ…

احتجاج
September 27, 2026

شہباز شریف کی اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران بی این ایم کا احتجاج، ’آزاد بلوچستان‘ کے نعرے

بی این ایم نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بلوچستان کی صورتِ حال پر ’خاموشی ختم کرنے‘ اور ’فوری…

احتجاج
September 26, 2026

نیویارک میں بی این ایم کی ڈیجیٹل ٹرک مہم، بلوچستان کی صورتحال سے عالمی آگاہی کی کوشش

اس مہم کا مقصد شہر میں موجود بین الاقوامی نمائندوں، صحافیوں، شہریوں اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنے…

پروگرامات
September 26, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?