بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے نیدرلینڈز کے مختلف شہروں (ایندھوون، یوتریخت، دی ہیگ، ایمسٹرڈم اور زوولے) میں مقبوضہ بلوچستان، بلوچ قومی تحریکِ آزادی اور بلوچ قوم کو قابض پاکستان کی طرف سے درپیش مشکلات کے بارے میں تین روزہ آگاہی مہم چلائی۔
اس مہم میں ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی سترہ سالہ جبری گمشدگی، مقبوضہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے کارکنان کے خلاف پاکستان کے عدالتی کریک ڈاؤن، جعلی مقدمات میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کو عمر قید کی سزا، بالاچ قادر اور دیگر کے خلاف پاکستانی فوج کی جانب سے عدالتوں کو بطورِ آلہ جبر استعمال کر کے ان کی زندگی خطرے میں ڈالنے جیسے موضوعات کو اجاگر کیا گیا۔
ڈاکٹر دین محمد گزشتہ 17 سالوں سے پاکستانی فوج کی حراست میں جبری طور پر لاپتہ ہیں، اور ان کا خاندان طویل عرصے سے ان کی بازیابی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ان کی بیٹی اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی معروف کارکن سمی دین کو ایک مرتبہ پھر ہراساں کیا گیا۔ ان کے گھر پر پاکستانی فوج سے منسلک اہلکاروں نے چھاپے مارے اور اہلِ خانہ کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بی وائی سی کے رہنما ہیں، جنھیں ‘فیس لیس ٹرائل’ (خفیہ عدالتی کارروائی) کے ذریعے عمر قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
بلوچ نیشنل موومنٹ کی مذکورہ مہم میں اس صورتحال کو پمفلٹس کے ذریعے اجاگر کیا گیا اور مقامی لوگوں سے بات چیت کر کے انھیں بلوچستان کی حقیقی صورتحال بتائی گئی۔ بی این ایم کے ممبران نے یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے سامنے اپنا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ بلوچ ایک ایسی قوم ہے جن کی ثقافت ہندوستانی ثقافت سے الگ ہے، اور جس کی سرزمین (بلوچستان) کبھی بھی متحدہ ہندوستان کا حصہ نہیں رہی ہے۔ بلوچستان کی آزادی چھین کر پاکستان نے 1948 میں اس پر قبضہ کیا۔ اس قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستانی ریاست نے بلوچستان کو اپنی بدنامِ زمانہ فوج کے حوالے کر دیا ہے، جو وہاں انسانی حقوق کی ناقابلِ بیان خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کی آزادی کے بغیر وہاں انسانی حقوق کی بحالی، سماجی ترقی اور خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں۔ دنیا ہمارے حقِ حاکمیت کی حمایت کر کے اپنا انسانی فریضہ انجام دے۔