Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: ریاست پاکستان ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو ڈھونگ عدالتی نظام کے ذریعے سزا دینا چاہتی ہے: ترجمان بی این ایم
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ ریاست پاکستان ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو ڈھونگ عدالتی نظام کے ذریعے سزا دینا چاہتی ہے: ترجمان بی این ایم
بیاناتترجمان

ریاست پاکستان ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو ڈھونگ عدالتی نظام کے ذریعے سزا دینا چاہتی ہے: ترجمان بی این ایم

Qazi Rehan
Last updated: June 14, 2026 4:53 pm
Last updated: June 14, 2026
4 Min Read
Share
SHARE

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے ترجمان نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو ڈھونگ عدالتی کارروائی کے ذریعے سزا دینے کی ریاستی کوششوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی اسیر رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو ریاستِ پاکستان ایک فرضی عدالتی عمل کے ذریعے سزا دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ پاکستان کا عدالتی نظام بھی فوجی حکام کے تابع محض ایک کٹھ پتلی ہے، ماہ رنگ بلوچ اور ان کے رفقا کے مقدمات کی سماعت ہدا جیل (شال) میں قائم غیر منصفانہ ’فیس لیس کورٹ‘ (Faceless Court) کے ذریعے کی جا رہی ہے، جو کہ عدالتی انصاف کے نام پر ریاست کا ایک بھونڈا مذاق ہے۔

ترجمان نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کرنے پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ بلوچ، بیبگر بلوچ، بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ پر 51 فرضی مقدمات قائم کیے گئے، جو ان کی پرامن سیاسی سرگرمیوں اور اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش ہے۔ ان رہنماؤں کو 22 مارچ 2025 کو گرفتار کیا گیا تھا اور آج (14 جون) انھیں جیل میں بند ہوئے ایک سال، دو مہینے اور 23 دن ہو چکے ہیں۔ یہ گرفتاریاں بلوچ قومی حقوق سے ریاستِ پاکستان کے مسلسل انکار اور جبر و استبداد کے تسلسل کا حصہ ہیں۔ بلوچ سیاسی کارکنان نے بدترین حالات اور مسلسل ریاستی مظالم کے باوجود پرامن اور سیاسی راستے کا انتخاب کیا ہے، لیکن ریاست اپنے جابرانہ نظام کے بل بوتے پر تمام اداروں کو بلوچ قوم کی سیاسی آواز دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

بی این ایم کے ترجمان نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں عدالتیں انصاف کو یقینی بنانے اور طاقتور قوتوں کی جانب سے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے قائم کی جاتی ہیں، لیکن پاکستان نے انصاف کے نام پر ’فیس لیس کورٹ‘ جیسا تماشا کھڑا کر رکھا ہے۔ اس کالے قانون کے تحت ملزمان سے جج، وکلا، گواہان اور تفتیشی افسران تک کے نام اور شناخت خفیہ رکھی جاتی ہے۔ اس غیر آئینی عمل کے خلاف ڈاکٹر ماہ رنگ، ان کے ساتھیوں اور وکلا کا احتجاج بالکل برحق ہے۔ عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ پاکستانی حکام کو ریاستی اداروں کو بطورِ آلۂ جبر استعمال کرنے سے روکیں۔ بی وائی سی کے اسیر رہنما دہشت گرد نہیں بلکہ پرامن سیاسی کارکنان ہیں، جنھیں ریاست پاکستان لاقانونیت، ناانصافی اور انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔

انھوں نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ بلوچ قوم کی نظر میں پاکستان بطورِ ریاست اپنی اخلاقی ساکھ کھو چکا ہے۔ ہمیں عدالتوں سمیت پاکستان کے کسی بھی ادارے سے کوئی امید نہیں ہے، کیونکہ بلوچستان میں تمام ادارے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے تابع ہیں اور اسی کے ڈکٹیشن پر کام کرتے ہیں۔ ریاست کی پالیسیوں میں اب کوئی ابہام نہیں رہا کہ وہ بلوچ نسل کشی کے ایجنڈے پر گامزن ہے۔ ہمیں شدید خدشہ ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ بھی وہی غیر انسانی سلوک دہرایا جائے گا جو ماضی میں دیگر بلوچ رہنماؤں کے ساتھ کیا جا چکا ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کے سیاسی و انسانی حقوق کے تحفظ اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی بحالی کے لیے بلوچ قوم بین الاقوامی برادری سے فوری اور موثر مداخلت کی اپیل کرتی ہے۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print

Reports and Statements

بی این ایم یوکے چیپٹر کی پانچویں کونسل ماما قدیر بلوچ کے نام، نسیم عباس صدر اور سلیم الٰہی جنرل سیکریٹری منتخب

انتخابی عمل کے نتیجے میں نسیم عباس صدر، کمبر بخشی نائب صدر، سلیم الٰہی جنرل سیکریٹری، کفایت بلوچ جوائنٹ سیکریٹری…

تنظیمی پروگرامات
October 13, 2026

جرمنی میں لوئر سیکسنی کی پارلیمان کے سامنے بی این ایم کا احتجاج، بلوچ قوم آزادی کی حق دار ہے

بلوچستان کا مسئلہ طاقت کے استعمال کے بجائے انسانی حقوق کے تحفظ، انصاف اور حقِ خودارادیت کو تسلیم کرکے حل…

احتجاج جرمنی چیپٹر
October 12, 2026

بلوچ اور سندھی اقوام کے لیے قومی آزادی، سیاسی ہم آہنگی اور عملی تعاون ناگزیر ہے، ڈاکٹر نسیم بلوچ

قومی آزادی کے بغیر جمہوریت، امن اور پائیدار مستقبل محض خوبصورت الفاظ اور دل بہلانے والے خواب بن کر رہ…

چیئرپرسن
October 11, 2026

سیئٹل میں بی این ایم کا احتجاج :بلوچ قوم کے حقوق کے تحفظ کے لیے امریکہ کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے

احتجاج کے دوران مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ قوم کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، تشدد اور…

احتجاج
October 1, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?