بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کا ضلع نوشکے گزشتہ کئی ماہ سے پاکستانی فوج کے محاصرے میں ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستانی فوج نے کم از کم 9 افراد کو قتل اور درجنوں کو جبری لاپتہ کر دیا ہے، جبکہ مقامی بازار میں کرفیو کے دوران ڈکیتیاں بھی کی گئیں۔
ترجمان نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ بلوچستان میں پاکستانی فوج نے شہریوں سے نقل و حرکت کی آزادی چھین کر بلوچ وطن کو ایک ‘کھلی جیل’ میں تبدیل کر دیا ہے۔ نوشکے بھی ان اضلاع میں شامل ہے جو مہینوں سے سخت فوجی محاصرے میں ہیں۔ اس محاصرے کے باعث نہ صرف علاقے کے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں، بلکہ ٹرانسپورٹ کا نظام بھی مکمل طور پر تعطل کا شکار ہے۔ علاقے میں ادویات اور اشیائے خوردونوش کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، جس سے سب سے زیادہ بچے، بزرگ اور بیمار افراد متاثر ہو رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستانی فوج نے کرفیو کی آڑ میں بازار میں دکانوں کے تالے توڑ کر لوٹ مار کی اور شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچایا۔ مسافر اور مال بردار گاڑیوں کے شہر میں داخلے اور انخلا پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، حتیٰ کہ مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے والی ایمبولینسز کو بھی روکا جا رہا ہے۔ یہ بلوچستان میں پاکستانی ریاست کی جانب سے دی جانے والی اجتماعی سزا کی بدترین شکل ہے۔
بی این ایم کے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستانی فوج بلوچ قومی تحریک کے سامنے شکست سے دوچار ہے۔ بلوچ جدوجہدِ آزادی کی شدت سے خائف پاکستانی فوج نفسیاتی طور پر ٹوٹ چکی ہے اور اپنا مورال کھو بیٹھی ہے۔ اپنے گرے ہوئے مورال کی بحالی کے لیے قابض فوج اب جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لے رہی ہے۔ عام شہریوں کو نشانہ بنا کر اسے بلوچ قومی تحریک کے خلاف اپنی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچ قوم کو ان مظالم کے خلاف ڈٹ کر ہمت دکھانا ہوگی۔ آزادی بلوچ قوم کا مقدر ہے، اور پاکستانی فوج بلوچستان کے محاذ پر عبرت ناک شکست سے دوچار ہونے کے قریب ہے۔