Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: سندھ اور بلوچستان محض جغرافیائی خطے نہیں، دو قدیم اقوام کے وطن ہیں — ڈاکٹر نسیم بلوچ
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ سندھ اور بلوچستان محض جغرافیائی خطے نہیں، دو قدیم اقوام کے وطن ہیں — ڈاکٹر نسیم بلوچ
چیئرپرسن

سندھ اور بلوچستان محض جغرافیائی خطے نہیں، دو قدیم اقوام کے وطن ہیں — ڈاکٹر نسیم بلوچ

Dr. Naseem Baloch
Last updated: September 23, 2026 4:48 pm
Last updated: September 23, 2026
6 Min Read
Share
SHARE

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے جنیوا میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے سندھ اور بلوچستان محض نقشے پر موجود دو جغرافیائی خطے نہیں ہیں۔ یہ قدیم اقوام کے وطن ہیں، جن کی اپنی الگ تاریخیں، شناختیں، ثقافتیں اور امنگیں ہیں۔ جب ہم ان کے مستقبل کی بات کرتے ہیں تو ہم ان لاکھوں انسانوں کے مستقبل کی بات کر رہے ہوتے ہیں جو اپنے وطن میں عزت، تحفظ اور آزادی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے جنیوا میں ورلڈ سندھی کانگریس (ڈبلیو ایس سی) کے زیرِ اہتمام سندھ کے حوالے سے منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جہاں انھوں نے سندھ اور بلوچستان میں سیاسی اور انسانی حقوق کے مسائل پر گفتگو کی اور دونوں قوموں کے درمیان یکجہتی پر زور دیا۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے سب سے تکلیف دہ پہلوؤں میں سے ایک ان خاندانوں کا دکھ ہے جن کے پیارے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے ہیں۔ سندھی مائیں، بہنیں اور خاندان آج بھی اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے ہوئے ہیں، معلومات کی تلاش میں ہیں اور جواب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ بلوچوں کے لیے یہ درد اجنبی نہیں ہے۔ ہم نے ماؤں کو انتظار کرتے دیکھا ہے۔ ہم نے خاندانوں کو اپنے پیاروں کی تلاش کرتے دیکھا ہے۔ ہم نے نسلوں کو اپنے عزیزوں کے انجام سے بے خبر پروان چڑھتے دیکھا ہے۔ اسی لیے ایک سندھی ماں کا درد ہمارے لیے کوئی اجنبی چیز نہیں۔ ہم اسے پہچانتے ہیں، کیونکہ ہم نے اپنے معاشرے میں بھی اسی طرح کے مصائب دیکھے ہیں۔

انھوں نے خطے کو درپیش مذہبی انتہا پسندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ صوفیوں کی سرزمین کے طور پر بھی معروف ہے۔ اس کا ثقافتی ورثہ طویل عرصے سے روحانی روایات، رواداری، تکثیریت اور باہمی بقائے باہمی سے وابستہ رہا ہے۔ تاہم آج مذہبی انتہا پسندی اور مذہبی اقلیتوں کے عدم تحفظ کے حوالے سے خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جبری مذہبی تبدیلی اور کم عمر لڑکیوں کی جبری شادیوں سے متعلق واقعات نے انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی میں شدید تشویش پیدا کی ہے۔ ان مسائل کو محض الگ تھلگ واقعات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ انہیں ان کے وسیع تر سیاسی، سماجی اور ادارہ جاتی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بہت سے مسائل ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ بہت سے سندھی ہندوستان منتقل ہوئے۔ اسی دوران سندھ میں ہونے والی ہجرت نے سندھو دیش کے آبادیاتی، سیاسی اور معاشی منظرنامے کو تبدیل کر دیا۔ آج بھی مقامی سندھی اپنے ہی وطن میں سیاسی حاشیہ بندی، معاشی عدم تحفظ اور آبادیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر تقسیم نہ ہوئی ہوتی اور پاکستان قائم نہ ہوا ہوتا تو بلوچستان اور سندھو دیش آزاد اور خودمختار ممالک ہوتے۔

انھوں نے قومی سیاسی کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک سبق ہے جسے ہماری تحریکوں کو سمجھنا ہوگا۔ قومی جدوجہد صرف جذبات پر منحصر نہیں ہو سکتی۔ درد کسی قوم کو بیدار کر سکتا ہے، لیکن سیاسی بصیرت کو اس کی رہنمائی کرنی ہوتی ہے۔ نعرے لوگوں کو متحرک کر سکتے ہیں، لیکن تحریک کو مستقل سیاسی عمل میں تبدیل کرنے کے لیے تنظیم ضروری ہے۔ بین الاقوامی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اتحاد بدل رہے ہیں، عالمی ادارے ارتقا پذیر ہیں اور اثر و رسوخ کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں۔ اس ماحول میں بلوچ اور سندھی عوام کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کی آواز سنی جائے۔ ہماری تاریخ، ہمارے شکوے اور ہماری سیاسی امنگوں کو احتیاط کے ساتھ دستاویزی شکل دینی ہوگی اور واضح انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ ہمیں بین الاقوامی اداروں، سول سوسائٹی، پارلیمان کے ارکان، ماہرینِ تعلیم، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ اور مکالمہ کرنا ہوگا۔ جس قدر واضح طور پر عالمی برادری ہماری تاریخ اور موجودہ حقائق کو سمجھے گی، اتنی ہی بامعنی بین الاقوامی گفتگو ممکن ہو سکے گی۔

انھوں نے سندھی اور بلوچ اقوام کے درمیان تعلق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچ اور سندھی جدوجہد کی اپنی اپنی تاریخیں، اپنے سیاسی حالات اور مزاحمت کی اپنی اپنی شکلیں ہیں۔ لیکن ہمارے تجربات کے درمیان ایک گہرا تعلق بھی موجود ہے۔ ہم ہمسائے ہیں۔ ہماری تاریخیں صدیوں سے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ہماری اقوام نے بہت سی یکساں سیاسی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ اور آج ہمیں ایسے سوالات کا سامنا ہے جو ایک دوسرے سے گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں: شناخت، سیاسی حقوق، وسائل پر اختیار، وقار، تحفظ اور اپنے مستقبل کی تشکیل کا حق۔

انھوں نے دونوں اقوام کو مشترکہ جدوجہد کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ آنے والی نسلوں کو صرف ہمارے مصائب کی یاد ہی ورثے میں نہ ملے، بلکہ انھیں ایسا مستقبل تعمیر کرنے کا حوصلہ بھی ملے جو وقار، آزادی اور انصاف پر مبنی ہو۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print
Leave a Comment Leave a Comment

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Reports and Statements

بلوچستان کے جبری گمشدگان کی خاموش فریاد، بی این ایم کی جنیوا میں تصویری نمائش

انھوں نے کہا کہ بی این ایم کی عالمی مہم اسی سوال کو اقوام متحدہ جیسے عالمی پلیٹ فارم تک…

پروگرامات
September 29, 2026

جنیوا میں بی این ایم کا احتجاج: بلوچستان میں جینے کا حق بھی چھین لیا گیا، مرنے کا وقار بھی

سندھی ، پشتون ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے نمائندگان کی شرکت سے یہ خطے کے محکوم اقوام کی مشترکہ…

احتجاج
September 27, 2026

شہباز شریف کی اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران بی این ایم کا احتجاج، ’آزاد بلوچستان‘ کے نعرے

بی این ایم نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بلوچستان کی صورتِ حال پر ’خاموشی ختم کرنے‘ اور ’فوری…

احتجاج
September 26, 2026

نیویارک میں بی این ایم کی ڈیجیٹل ٹرک مہم، بلوچستان کی صورتحال سے عالمی آگاہی کی کوشش

اس مہم کا مقصد شہر میں موجود بین الاقوامی نمائندوں، صحافیوں، شہریوں اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنے…

پروگرامات
September 26, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?