بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے جنیوا میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے سندھ اور بلوچستان محض نقشے پر موجود دو جغرافیائی خطے نہیں ہیں۔ یہ قدیم اقوام کے وطن ہیں، جن کی اپنی الگ تاریخیں، شناختیں، ثقافتیں اور امنگیں ہیں۔ جب ہم ان کے مستقبل کی بات کرتے ہیں تو ہم ان لاکھوں انسانوں کے مستقبل کی بات کر رہے ہوتے ہیں جو اپنے وطن میں عزت، تحفظ اور آزادی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے جنیوا میں ورلڈ سندھی کانگریس (ڈبلیو ایس سی) کے زیرِ اہتمام سندھ کے حوالے سے منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جہاں انھوں نے سندھ اور بلوچستان میں سیاسی اور انسانی حقوق کے مسائل پر گفتگو کی اور دونوں قوموں کے درمیان یکجہتی پر زور دیا۔
انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے سب سے تکلیف دہ پہلوؤں میں سے ایک ان خاندانوں کا دکھ ہے جن کے پیارے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے ہیں۔ سندھی مائیں، بہنیں اور خاندان آج بھی اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے ہوئے ہیں، معلومات کی تلاش میں ہیں اور جواب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ بلوچوں کے لیے یہ درد اجنبی نہیں ہے۔ ہم نے ماؤں کو انتظار کرتے دیکھا ہے۔ ہم نے خاندانوں کو اپنے پیاروں کی تلاش کرتے دیکھا ہے۔ ہم نے نسلوں کو اپنے عزیزوں کے انجام سے بے خبر پروان چڑھتے دیکھا ہے۔ اسی لیے ایک سندھی ماں کا درد ہمارے لیے کوئی اجنبی چیز نہیں۔ ہم اسے پہچانتے ہیں، کیونکہ ہم نے اپنے معاشرے میں بھی اسی طرح کے مصائب دیکھے ہیں۔
انھوں نے خطے کو درپیش مذہبی انتہا پسندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ صوفیوں کی سرزمین کے طور پر بھی معروف ہے۔ اس کا ثقافتی ورثہ طویل عرصے سے روحانی روایات، رواداری، تکثیریت اور باہمی بقائے باہمی سے وابستہ رہا ہے۔ تاہم آج مذہبی انتہا پسندی اور مذہبی اقلیتوں کے عدم تحفظ کے حوالے سے خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جبری مذہبی تبدیلی اور کم عمر لڑکیوں کی جبری شادیوں سے متعلق واقعات نے انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی میں شدید تشویش پیدا کی ہے۔ ان مسائل کو محض الگ تھلگ واقعات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ انہیں ان کے وسیع تر سیاسی، سماجی اور ادارہ جاتی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بہت سے مسائل ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔
انھوں نے کہا کہ بہت سے سندھی ہندوستان منتقل ہوئے۔ اسی دوران سندھ میں ہونے والی ہجرت نے سندھو دیش کے آبادیاتی، سیاسی اور معاشی منظرنامے کو تبدیل کر دیا۔ آج بھی مقامی سندھی اپنے ہی وطن میں سیاسی حاشیہ بندی، معاشی عدم تحفظ اور آبادیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر تقسیم نہ ہوئی ہوتی اور پاکستان قائم نہ ہوا ہوتا تو بلوچستان اور سندھو دیش آزاد اور خودمختار ممالک ہوتے۔
انھوں نے قومی سیاسی کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک سبق ہے جسے ہماری تحریکوں کو سمجھنا ہوگا۔ قومی جدوجہد صرف جذبات پر منحصر نہیں ہو سکتی۔ درد کسی قوم کو بیدار کر سکتا ہے، لیکن سیاسی بصیرت کو اس کی رہنمائی کرنی ہوتی ہے۔ نعرے لوگوں کو متحرک کر سکتے ہیں، لیکن تحریک کو مستقل سیاسی عمل میں تبدیل کرنے کے لیے تنظیم ضروری ہے۔ بین الاقوامی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اتحاد بدل رہے ہیں، عالمی ادارے ارتقا پذیر ہیں اور اثر و رسوخ کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں۔ اس ماحول میں بلوچ اور سندھی عوام کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کی آواز سنی جائے۔ ہماری تاریخ، ہمارے شکوے اور ہماری سیاسی امنگوں کو احتیاط کے ساتھ دستاویزی شکل دینی ہوگی اور واضح انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ ہمیں بین الاقوامی اداروں، سول سوسائٹی، پارلیمان کے ارکان، ماہرینِ تعلیم، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ اور مکالمہ کرنا ہوگا۔ جس قدر واضح طور پر عالمی برادری ہماری تاریخ اور موجودہ حقائق کو سمجھے گی، اتنی ہی بامعنی بین الاقوامی گفتگو ممکن ہو سکے گی۔
انھوں نے سندھی اور بلوچ اقوام کے درمیان تعلق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچ اور سندھی جدوجہد کی اپنی اپنی تاریخیں، اپنے سیاسی حالات اور مزاحمت کی اپنی اپنی شکلیں ہیں۔ لیکن ہمارے تجربات کے درمیان ایک گہرا تعلق بھی موجود ہے۔ ہم ہمسائے ہیں۔ ہماری تاریخیں صدیوں سے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ہماری اقوام نے بہت سی یکساں سیاسی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ اور آج ہمیں ایسے سوالات کا سامنا ہے جو ایک دوسرے سے گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں: شناخت، سیاسی حقوق، وسائل پر اختیار، وقار، تحفظ اور اپنے مستقبل کی تشکیل کا حق۔
انھوں نے دونوں اقوام کو مشترکہ جدوجہد کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ آنے والی نسلوں کو صرف ہمارے مصائب کی یاد ہی ورثے میں نہ ملے، بلکہ انھیں ایسا مستقبل تعمیر کرنے کا حوصلہ بھی ملے جو وقار، آزادی اور انصاف پر مبنی ہو۔