بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این) کے زیر اہتمام جنیوا پریس کلب میں منعقدہ 12ویں بلوچستان انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیم پانک کے میڈیا رابطہ کار جمال بلوچ نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق پانک کی دستاویزی رپورٹنگ کے اعداد و شمار پیش کیے۔
کانفرنس کو بی این ایم کے چیئرمین شہید زبیر بلوچ کی یاد سے منسوب کیا گیا تھا۔
جمال بلوچ نے کہا کہ بی این ایم کے ادارہ انسانی حقوق کی ماتحت تنظیم پانک نے گزشتہ برسوں کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جبری گمشدگیوں کے ہزاروں واقعات دستاویزی شکل میں محفوظ کیے ہیں۔ ان کے مطابق، گزشتہ چھ ماہ کے دوران جبری گمشدگیوں کے 485 واقعات پانک کو رپورٹ ہوئے اور دستاویزی ریکارڈ کا حصہ بنے۔
انھوں نے واضح کیا کہ یہ تعداد صرف ان واقعات پر مشتمل ہے جو پانک کو مختلف ذرائع سے رپورٹ ہوئے، اس لیے اسے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کی حتمی تعداد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق، متعدد واقعات رپورٹ نہیں ہو پاتے، بالخصوص ایسے حالات میں جب متاثرہ خاندانوں کو طور پر دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔
جمال بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگی کا ایک واقعہ صرف متاثرہ فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پورے خاندان پر مرتب ہوتے ہیں۔بعض خاندانوں نے اپنے پیاروں کی گمشدگی رپورٹ کرنے سے بھی گریز کیا، کیونکہ انہیں مزید افراد کو لاپتا کیے جانے یا دیگر نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔
انک کے میڈیا رابطہ کار نے بتایا کہ تنظیم کو گزشتہ چھ ماہ کے دوران 181 ماورائے عدالت ہلاکتوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، جن میں سے متعدد واقعات کی پانک نے تصدیق کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اور حالیہ عرصے میں خواتین اور بچوں کی جبری گمشدگیوں کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔گزشتہ چھ ماہ میں خواتین اور ان کے بچوں کی جبری گمشدگیوں کے 32 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
جمال بلوچ نے زیرِ حراست افراد کے حوالے سے بچوں پر تشدد اور دباؤ کے واقعات کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ پانک کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق بعض زیرِ حراست افراد نے بچوں کے سامنے تشدد کیے جانے اور اپنی مرضی کے خلاف بیانات دینے پر مجبور کیے جانے کی شکایات بیان کی ہیں۔
انھوں نے پاکستانی میڈیا پر بعض زیرِ حراست افراد کی پیشی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایسے مواقع پر بعض افراد کو پہلے سے تیار کردہ بیانات پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
جمال بلوچ نے پانک کے دستاویزی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے ریکارڈ کے مطابق بلوچستان میں اوسطاً ہر ماہ 81 افراد جبری طور پر لاپتاکیے جاتے ہیں، جبری گمشدگان میں سے اوسطاً 30 افراد ماورائے عدالت ہلاکتوں کا شکار ہوتے ہیں۔
انھوں نے بلوچستان میں ڈرون حملوں اور فضائی بمباری کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ گزشتہ ماہ ایسے حملوں میں چھ افراد مارے گئے، جن میں تین بچے شامل تھے۔ ایک حملے میں 285 کلوگرام وزنی بم استعمال کیا گیا۔جن میں شیرخوار بچوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔
جمال بلوچ نے بلوچستان کے سیاسی کارکنوں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی) کی قیادت کے خلاف کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے بتایا کہ پرامن سیاسی کارکنوں کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت اور قانونی کارروائیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بعض سیاسی کارکنوں کو پہلے جبری طور پر لاپتا کیے جانے اور بعد ازاں گرفتاری ظاہر کیے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان افراد کے خلاف عائد کیے گئے بعض الزامات پانک کی تحقیق کے مطابق بے بنیاد ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں سے قبل بعض اوقات میڈیا مہمات کے ذریعے ان کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو بلوچستان میں سیاسی آوازوں کو دبانے کے وسیع تر عمل کا حصہ ہے۔
جمال بلوچ نے عدالتی عمل پر بات کرتے ہوئے ایک حالیہ عدالتی بیان کا حوالہ بھی دیا، جس میں ایک جج نے میڈیا کے سامنے عدالتی دباؤ کا ذکر کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کے مقدمات کے تناظر میں عدالتی آزادی اور انصاف کے عمل پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔
اپنے خطاب میں جمال بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گفتگو اکثر جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں تک محدود ہو جاتی ہے، جبکہ ان کے مطابق مسئلہ اس سے کہیں وسیع ہے۔
انھوں نے کہا ہمارے لیے ترجیح صرف یہ بات کرنا ہے کہ ہمیں زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔ ہمارے لوگوں کو زندہ رہنے کا حق ہے۔ ہمیں آزادی چاہیے۔ ہمیں آزاد ہونے کا حق ہے۔ ہمیں اپنے اسکولوں میں ہونے کا حق ہے۔
انھوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تعداد اور نوعیت اس قدر وسیع ہے کہ ہر معاملے کو ایک ہی خطاب میں بیان کرنا ممکن نہیں، تاہم بلوچستان کے لوگوں کے زندہ رہنے، تعلیم حاصل کرنے، آزادی اور بنیادی حقوق کے حصول کو مرکزی انسانی حقوق کے مطالبات کے طور پر سامنے لانا ضروری ہے۔