صحافی شاہد قاضی نے کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف جبر اور سیاسی کشمکش کا تسلسل ہے، جبکہ دوسری طرف انصاف، مکالمے اور بلوچ قوم کے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق کا راستہ موجود ہے۔
انہوں نے یہ بات بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این ایم) کے زیر اہتمام جنیوا میں منعقدہ 12ویں بلوچستان انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کانفرنس کو بی این ایم کے شہید رہنماء چیئرمین زبیر بلوچ کی جدوجہد اور فکر سے منسوب کیا گیا تھا۔
شاہد قاضی، جو ان میوٹڈ وائس کے میزبان اور ماضی میں این بی سی نیوز اور آئی ٹی وی سے وابستہ صحافی رہے ہیں، نے اپنے خطاب میں کہا طویل عرصے سے بلوچستان کے مسئلے کو صرف سکیورٹی کے تناظر میں پیش کیا جاتا رہا ہے، جبکہ اس کے انسانی اور سیاسی پہلوؤں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے کہا جب طلبہ احتجاج کرتے ہیں تو انھیں خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔ جب بلوچ خاندان اپنے لاپتا پیاروں کے بارے میں معلومات کا مطالبہ کرتے ہیں تو انھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جب بلوچ طلبہ اپنی آواز بلند کرتے ہیں تو انھیں اغوا اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب کارکن انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں تو انھیں دشمنوں کا ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ’’ایک پوری قوم‘‘ کو محض سکیورٹی کا مسئلہ قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا ایک ماں کا غم یا اپنے لاپتا بیٹے کو تلاش کرنے والے باپ کی جدوجہد قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دی جا سکتی ہے؟
ان کے بقول یہ سکیورٹی کے سوالات نہیں، انسانی حقوق کے سوالات ہیں۔
شاہد قاضی نے کہا کہ جبری گمشدگی صرف ایک انسان کی زندگی کو متاثر نہیں کرتی بلکہ پورے خاندان کو مسلسل بے یقینی اور اذیت میں مبتلا کر دیتی ہے۔
انھوں نے کہا موت ناقابلِ برداشت غم لاتی ہے، لیکن جبری گمشدگی بے یقینی لاتی ہے۔ ایک ماں انتظار کرتی ہے، ایک باپ تلاش کرتا ہے، ایک بہن دروازے کی طرف دیکھتی رہتی ہے، اور ایک بچہ بڑا ہوتے ہوئے یہ سوچتا رہتا ہے کہ اس کا والد گھر کب واپس آئے گا۔
انھوں نے اسے ’’پورے خاندان کی خوشی اور سکون کی گمشدگی‘‘ قرار دیا۔
شاہد قاضی نے کہا کہ ہر خاندان اپنے پیارے کے بارے میں جواب کا حق رکھتا ہے، ہر زیرِ حراست شخص قانونی تقاضوں کے مطابق منصفانہ کارروائی کا حق دار ہے، ہر الزام کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور ہر متاثرہ شخص کو انصاف ملنا چاہیے۔
بلوچستان کے فطری وسائل کا ذکر کرتے ہوئے شاہد قاضی نے کہا کہ یہ خطہ معدنیات، گیس اور ایک انتہائی اہم ساحلی پٹی سے مالا مال ہے، لیکن اس کے باوجود بلوچستان کے عوام غربت اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا ترقی کے نام پر ان کے وسائل نکالے جاتے ہیں، لیکن ان کی زندگیوں میں بہتری نظر نہیں آتی۔
انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں پیدا ہونے والی گیس بھی وہاں کے کئی شہروں تک مناسب طور پر نہیں پہنچتی اور اپنے آبائی شہر ژوب کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے بنیادی سہولیات کے مسائل کی نشاندہی کی۔
انھوں نے انٹرنیٹ کی ناقص سہولت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بلوچستان کے مرکزی شہر شال میں سکیورٹی کے نام پر انٹرنیٹ کنکشن بعض اوقات بغیر پیشگی اطلاع کے طویل عرصے تک بند کر دیے جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا معدنی وسائل کا استحصال ترقی نہیں کہلا سکتا۔ اگر بلوچستان کے عوام کے وقار کو نظرانداز کیا جائے تو کوئی بندرگاہ خوشحالی کی علامت نہیں بن سکتی۔
ان کے مطابق نصاف کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں، سچ کے بغیر مفاہمت ممکن نہیں، اور جب احتساب نہ ہو تو اعتماد قائم نہیں ہو سکتا۔
شاہد قاضی نے انسانی حقوق کو سیاسی، مذہبی یا نسلی تقسیم سے بالاتر قرار دیتے ہوئے کہا انسانی حقوق کی کوئی سیاسی جماعت نہیں، کوئی مذہب نہیں، کوئی نسل یا وردی نہیں۔ انسانی حقوق یا تو سب کے لیے ہیں یا پھر ان کی کوئی معنویت نہیں۔
انھوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان سے متعلق سامنے آنے والے ’’ قابلِ اعتبار الزامات ‘‘ کو سنا جائے، ان کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں اور مبصرین، صحافیوں، متاثرہ خاندانوں اور سیاسی آوازوں کو خوف کے بغیر اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔
انہوں نے کہا ہم کسی سے یہ مطالبہ نہیں کر رہے کہ وہ ہماری باتیں آنکھیں بند کرکے تسلیم کر لے۔ ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے: سنیں، تحقیق کریں اور تصدیق کریں۔ کیونکہ سچ کو شفافیت سے خوف نہیں ہوتا۔
انھوں نے عالمی برادری سے دوہرے معیار سے گریز کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر یورپ میں کسی شخص کی جبری گمشدگی اہم ہے تو بلوچستان میں بھی اسے اتنی ہی اہمیت ملنی چاہیے؛ اگر جنیوا میں آزادیِ اظہار اہم ہے تو شال میں بھی یہ حق اہم ہونا چاہیے؛ اور اگر دنیا کے کسی اور خطے میں سیاسی قیدیوں کے لیے انصاف ضروری ہے تو بلوچستان کے سیاسی قیدی بھی انصاف کے مستحق ہیں۔
انہوں نے کہا ایک اور سانحے کا انتظار نہ کریں۔ اس وقت کا انتظار نہ کریں جب ایک اور نسل صرف تنازع کی یادوں کے ساتھ پروان چڑھے۔
شاہد قاضی نے کہا کہ کانفرنس کا شہید چیئرمین زبیر بلوچ کو خراجِ عقیدت پیش کرنا محض ان کا نام یاد کرنے تک محدود نہیں بلکہ ان اصولوں کو زندہ رکھنے کا عمل ہے جن کے لیے وہ کھڑے رہے۔ان کے مطابق ان اصولوں میں انسانی وقار، انصاف اور سیاسی حقوق شامل ہیں۔
انھوں نے کہا تاریخ سیاسی رہنماؤں کو صرف ان عہدوں کی وجہ سے یاد نہیں رکھتی جو انھوں نے سنبھالے۔ انھیں اس لیے یاد رکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے وجود سے بڑی کسی جدوجہد کے لیے کھڑے ہوئے۔
شاہد قاضی نے کہا کہ بلوچستان کے لیے جدوجہد کرنے والے لوگ ’’غلبہ نہیں بلکہ وقار‘‘ چاہتے ہیں اور ایسا مستقبل چاہتے ہیں جہاں بلوچستان کے لوگ خوف کے بغیر اپنے سیاسی مستقبل اور اپنے سیاسی وقار کا تعین خود کر سکیں۔
انھوں نے جبری طور پر لاپتا افراد کے خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’فراموش نہیں کیے گئے‘‘۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا ’’خوف آپ کو قیدی بنا دے گا، جبکہ امید آپ کو آزاد کرے گی۔‘‘