Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: بلوچستان ’چوراہے پر نہیں بلکہ آزادی کی راہ پر ہے‘، سندھی رہنما لاکھو لوھانہ کا بی این ایم کے بلوچستان کانفرنس سے خطاب
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ بلوچستان ’چوراہے پر نہیں بلکہ آزادی کی راہ پر ہے‘، سندھی رہنما لاکھو لوھانہ کا بی این ایم کے بلوچستان کانفرنس سے خطاب
پروگرامات

بلوچستان ’چوراہے پر نہیں بلکہ آزادی کی راہ پر ہے‘، سندھی رہنما لاکھو لوھانہ کا بی این ایم کے بلوچستان کانفرنس سے خطاب

Foreign Department
Last updated: September 24, 2026 11:13 pm
Last updated: September 24, 2026
4 Min Read
Share
SHARE

ورلڈ سندھی کانگریس کے ڈاکٹر لاکھو لوھانا نے کہا ہے کہ بلوچستان کی مشکلات تقریباً ’’ 80 سال ‘‘ سے جاری ہیں اور اس خیال کو مسترد کیا کہ بلوچستان محض ایک سیاسی “چوراہے” پر کھڑا ہے۔بلوچ نیشنل موومنٹ کی جانب سے منعقدہ بلوچستان انٹرنیشنل کانفرنس کے 12ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بلوچستان اس کے بجائے ’’ آزادی اور نجات کی راہ پر گامزن ہے۔

سندھی قوم کے رہنما اور ورلڈ سندھی کانگریس کے سابق سینئر عہدیدار نے کہا کہ 27 مارچ 1948 کو غلامی، نوآبادیات، ظلم اور جبر کی ایک تاریک رات بلوچستان پر نازل ہوئی، جو آج تک ختم نہیں ہوئی۔ صرف ایک چیز ہوئی ہے: یہ مزید تاریک، مزید تاریک اور مزید تاریک ہوتی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر لاکھو لوھانا نے کہا کہ ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کے علاوہ گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران غربت اور غذائی قلت کے باعث کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انھوں نے بلوچستان کو سونے، تانبے، کوئلے، گیس، تیل اور دیگر معدنیات سے مالا مال خطہ قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے مقبوضہ خطوں میں گیس کا پہلا بڑا ذخیرہ سوئی میں دریافت ہوا، اسی لیے اسے سوئی گیس کہا گیا بقول پاکستانی ریاست ’’ پاکستان کا سب سے بڑا گیس ذخیرہ۔‘‘ ان کے دعوے کے مطابق اس کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ ختم ہو چکا ہے، جبکہ بلوچستان میں خواتین آج بھی پانی کے حصول کے لیے ننگے پاؤں کئی میل پیدل چلتی ہیں۔

’’ اس وقت بلوچستان میں غربت کی شرح بندوبست پاکستان میں سب سے زیادہ شرحوں میں شامل ہے۔ اس وقت غذائی قلت بھی بندوبست پاکستان میں سب سے زیادہ شرحوں میں شامل ہے۔ زچگی کے دوران اموات اور شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے۔ قابض ریاست پاکستان نے بلوچستان کے لوگوں کو حقیقی معنوں میں قرونِ وسطیٰ کے دور جیسے، غیر انسانی حالات میں رکھا ہوا ہے۔‘‘

انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا تھوڑا سا بھی ضمیر رکھنے والا کوئی شخص اس صورتِ حال کو جاری رہنے دے سکتا ہے، اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور اور عالمی برادری کا حوالہ دیا۔

’’ بلوچستان سے مزید کتنی لاشوں کو خون بہانا ہوگا، اس سے پہلے کہ وہ اس بات سے انکار نہ کر سکیں کہ مظالم ہو رہے ہیں اور انھیں یہ سب روکنا ہوگا؟ ‘‘

ان کے مطابق سندھ بھی ایک ایسے ہی اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ کارکنوں نے ایک بہت بڑی ذمہ داری” اپنے ذمے لی ہے اپنی قوم کو آزاد، اپنی مادرِ وطن کو آزاد دیکھنا۔

انھوں نے مزید کہا کہ دنیا “ایک بہت مشکل جگہ بن چکی ہے اور محکوم اقوام کو ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنا ہوگا۔

انہوں نے کانفرنس کے موضوع کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی گفتگو کا اختتام کیا ، انھوں نے کہا یہ عنوان، ’بلوچستان ایک چوراہے پر‘ میں اس سے اختلاف کی اجازت چاہوں گا۔ بلوچستان کسی چوراہے پر نہیں ہے۔ بلوچستان آزادی اور نجات کی راہ پر گامزن ہے۔ سندھ اور بلوچستان کو یہ سفر مل کر طے کرنا چاہیے۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print

Reports and Statements

بلوچستان کے جبری گمشدگان کی خاموش فریاد، بی این ایم کی جنیوا میں تصویری نمائش

انھوں نے کہا کہ بی این ایم کی عالمی مہم اسی سوال کو اقوام متحدہ جیسے عالمی پلیٹ فارم تک…

پروگرامات
September 29, 2026

جنیوا میں بی این ایم کا احتجاج: بلوچستان میں جینے کا حق بھی چھین لیا گیا، مرنے کا وقار بھی

سندھی ، پشتون ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے نمائندگان کی شرکت سے یہ خطے کے محکوم اقوام کی مشترکہ…

احتجاج
September 27, 2026

شہباز شریف کی اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران بی این ایم کا احتجاج، ’آزاد بلوچستان‘ کے نعرے

بی این ایم نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بلوچستان کی صورتِ حال پر ’خاموشی ختم کرنے‘ اور ’فوری…

احتجاج
September 26, 2026

نیویارک میں بی این ایم کی ڈیجیٹل ٹرک مہم، بلوچستان کی صورتحال سے عالمی آگاہی کی کوشش

اس مہم کا مقصد شہر میں موجود بین الاقوامی نمائندوں، صحافیوں، شہریوں اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنے…

پروگرامات
September 26, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?