ورلڈ سندھی کانگریس کے ڈاکٹر لاکھو لوھانا نے کہا ہے کہ بلوچستان کی مشکلات تقریباً ’’ 80 سال ‘‘ سے جاری ہیں اور اس خیال کو مسترد کیا کہ بلوچستان محض ایک سیاسی “چوراہے” پر کھڑا ہے۔بلوچ نیشنل موومنٹ کی جانب سے منعقدہ بلوچستان انٹرنیشنل کانفرنس کے 12ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بلوچستان اس کے بجائے ’’ آزادی اور نجات کی راہ پر گامزن ہے۔
سندھی قوم کے رہنما اور ورلڈ سندھی کانگریس کے سابق سینئر عہدیدار نے کہا کہ 27 مارچ 1948 کو غلامی، نوآبادیات، ظلم اور جبر کی ایک تاریک رات بلوچستان پر نازل ہوئی، جو آج تک ختم نہیں ہوئی۔ صرف ایک چیز ہوئی ہے: یہ مزید تاریک، مزید تاریک اور مزید تاریک ہوتی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر لاکھو لوھانا نے کہا کہ ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کے علاوہ گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران غربت اور غذائی قلت کے باعث کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انھوں نے بلوچستان کو سونے، تانبے، کوئلے، گیس، تیل اور دیگر معدنیات سے مالا مال خطہ قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے مقبوضہ خطوں میں گیس کا پہلا بڑا ذخیرہ سوئی میں دریافت ہوا، اسی لیے اسے سوئی گیس کہا گیا بقول پاکستانی ریاست ’’ پاکستان کا سب سے بڑا گیس ذخیرہ۔‘‘ ان کے دعوے کے مطابق اس کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ ختم ہو چکا ہے، جبکہ بلوچستان میں خواتین آج بھی پانی کے حصول کے لیے ننگے پاؤں کئی میل پیدل چلتی ہیں۔
’’ اس وقت بلوچستان میں غربت کی شرح بندوبست پاکستان میں سب سے زیادہ شرحوں میں شامل ہے۔ اس وقت غذائی قلت بھی بندوبست پاکستان میں سب سے زیادہ شرحوں میں شامل ہے۔ زچگی کے دوران اموات اور شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے۔ قابض ریاست پاکستان نے بلوچستان کے لوگوں کو حقیقی معنوں میں قرونِ وسطیٰ کے دور جیسے، غیر انسانی حالات میں رکھا ہوا ہے۔‘‘
انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا تھوڑا سا بھی ضمیر رکھنے والا کوئی شخص اس صورتِ حال کو جاری رہنے دے سکتا ہے، اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور اور عالمی برادری کا حوالہ دیا۔
’’ بلوچستان سے مزید کتنی لاشوں کو خون بہانا ہوگا، اس سے پہلے کہ وہ اس بات سے انکار نہ کر سکیں کہ مظالم ہو رہے ہیں اور انھیں یہ سب روکنا ہوگا؟ ‘‘
ان کے مطابق سندھ بھی ایک ایسے ہی اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ کارکنوں نے ایک بہت بڑی ذمہ داری” اپنے ذمے لی ہے اپنی قوم کو آزاد، اپنی مادرِ وطن کو آزاد دیکھنا۔
انھوں نے مزید کہا کہ دنیا “ایک بہت مشکل جگہ بن چکی ہے اور محکوم اقوام کو ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنا ہوگا۔
انہوں نے کانفرنس کے موضوع کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی گفتگو کا اختتام کیا ، انھوں نے کہا یہ عنوان، ’بلوچستان ایک چوراہے پر‘ میں اس سے اختلاف کی اجازت چاہوں گا۔ بلوچستان کسی چوراہے پر نہیں ہے۔ بلوچستان آزادی اور نجات کی راہ پر گامزن ہے۔ سندھ اور بلوچستان کو یہ سفر مل کر طے کرنا چاہیے۔