پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین نے کہا ہے کہ ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ، بیبگر بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ سمیت کئی افراد بلوچوں کے انسانی حقوق کی پرامن وکالت کی پاداش میں جیل میں ہیں۔
وہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے زیرِ اہتمام جنیوا پریس کلب میں منعقدہ بارہویں بلوچستان انٹرنیشنل کانفرنس سے آن لائن خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس کو بی این ایم کے شہید چیئرمین زبیر بلوچ کی یاد سے منسوب کیا گیا تھا۔
منظور پشتین کے مطابق ان کارکنوں کا ’کوئی اور جرم نہیں‘ سوائے اس کے کہ انھوں نے پرامن طریقے سے آواز اٹھائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستِ پاکستان نے انھیں قید کیا اور عمر قید کی سزائیں دیں۔
انھوں نے بتایا کہ کہ بلوچ نوجوان روزانہ کی بنیاد پر لاپتا کیے جا رہے ہیں اور بلوچستان میں فضائی کارروائیوں سے گھروں میں موجود بچے اور خواتین بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔
منظور پشتین نے پاکستان کو ’پنجابی استعمار‘ قرار دیا اور کہا کہ بلوچستان کی گیس، معدنیات اور سونے پر قبضہ کر کے پنجاب کی صنعتیں چلائی جا رہی ہیں۔ وسائل کی لوٹ مار پر بات کرنے والے نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دے کر قید یا لاپتا کیا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ریاست بلوچستان کو بلوچوں کی سرزمین ماننے کے لیے تیار نہیں اور اپنے تسلط کو آئینی شکل دینے کی کوشش کرتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پختون بھی اسی قسم کے حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس دو لاکھ سے زائد متاثرین کا ڈیٹا ہے، ہزاروں ہلاک اور ہزاروں لاپتا ہیں۔ پچھلے دو سال میں ڈرون اور ہیلی کاپٹر حملوں میں خواتین اور بچے بھی نشانہ بنے۔
انھوں نے مزید کہا کہ 2025 اور 2026 میں خیبر پختونخوا میں فوجی ڈرون حملوں میں 72 ایسے بچے مارے گئے جن کی عمر ایک سال یا اس سے کم تھی۔
منظور پشتین نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود پاکستان کو اس لیے نظرانداز کیا جاتا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’خوشامد‘ کرتا ہے۔ ان کے الفاظ میں ’ایک انسان کی خوشامد کو لاکھوں انسانوں کے قتل سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔‘
انھوں نے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاشی رعایت سے حاصل وسائل سے وہ ہیلی کاپٹر اور جنگی طیارے چل رہے ہیں جن سے دیہاتوں پر کارروائیاں ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ثبوت پیش کرنے کے باوجود یورپ نے یہ حیثیت برقرار رکھی اور جرمنی نے اس کی حمایت کی۔
انھوں نے یورپ سے مطالبہ کیا کہ اگر بڑا اقدام ممکن نہیں تو کم از کم ایسی ریاست کو مزید فنڈز اور اسلحہ نہ دیا جائے جس پر زیادتیوں کے الزامات ہیں۔
انھوں نے بلوچ، پی ٹی ایم کے پشتون کارکنوں، سندھیوں اور کشمیریوں سے کہا کہ یورپ میں عوام میں پمفلٹ تقسیم کیے جائیں اور سوال کیا جائے کہ ٹیکس اس ملک کو کیوں دیا جائے جس پر سنگین الزامات ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفاتر کے سامنے احتجاج کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں احتجاج پر پابندیاں ہیں، اس لیے لوگ جنیوا آتے ہیں۔
آخر میں انھوں نے بی این ایم کے پروگرام کو سراہا اور پی ٹی ایم، بی این ایم اور دیگر تنظیموں کے اتحاد کو جاری رکھنے کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بھی فضائی بمباری سے اکثر بچے اور خواتین ہلاک ہو رہے ہیں۔