Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: ماہ رنگ ، بیبو ، گلزادی ، بیبگر اور صبغت اللہ بے گناہ جیل کاٹ رہے ہیں ، منظور پشتین کا بی این ایم کے بلوچستان کانفرنس سے خطاب
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ ماہ رنگ ، بیبو ، گلزادی ، بیبگر اور صبغت اللہ بے گناہ جیل کاٹ رہے ہیں ، منظور پشتین کا بی این ایم کے بلوچستان کانفرنس سے خطاب
پروگرامات

ماہ رنگ ، بیبو ، گلزادی ، بیبگر اور صبغت اللہ بے گناہ جیل کاٹ رہے ہیں ، منظور پشتین کا بی این ایم کے بلوچستان کانفرنس سے خطاب

Foreign Department
Last updated: September 25, 2026 12:34 am
Last updated: September 25, 2026
4 Min Read
Share
SHARE

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین نے کہا ہے کہ ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ، بیبگر بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ سمیت کئی افراد بلوچوں کے انسانی حقوق کی پرامن وکالت کی پاداش میں جیل میں ہیں۔

وہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے زیرِ اہتمام جنیوا پریس کلب میں منعقدہ بارہویں بلوچستان انٹرنیشنل کانفرنس سے آن لائن خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس کو بی این ایم کے شہید چیئرمین زبیر بلوچ کی یاد سے منسوب کیا گیا تھا۔

منظور پشتین کے مطابق ان کارکنوں کا ’کوئی اور جرم نہیں‘ سوائے اس کے کہ انھوں نے پرامن طریقے سے آواز اٹھائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستِ پاکستان نے انھیں قید کیا اور عمر قید کی سزائیں دیں۔

انھوں نے بتایا کہ کہ بلوچ نوجوان روزانہ کی بنیاد پر لاپتا کیے جا رہے ہیں اور بلوچستان میں فضائی کارروائیوں سے گھروں میں موجود بچے اور خواتین بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔

منظور پشتین نے پاکستان کو ’پنجابی استعمار‘ قرار دیا اور کہا کہ بلوچستان کی گیس، معدنیات اور سونے پر قبضہ کر کے پنجاب کی صنعتیں چلائی جا رہی ہیں۔ وسائل کی لوٹ مار پر بات کرنے والے نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دے کر قید یا لاپتا کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ریاست بلوچستان کو بلوچوں کی سرزمین ماننے کے لیے تیار نہیں اور اپنے تسلط کو آئینی شکل دینے کی کوشش کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پختون بھی اسی قسم کے حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس دو لاکھ سے زائد متاثرین کا ڈیٹا ہے، ہزاروں ہلاک اور ہزاروں لاپتا ہیں۔ پچھلے دو سال میں ڈرون اور ہیلی کاپٹر حملوں میں خواتین اور بچے بھی نشانہ بنے۔

انھوں نے مزید کہا کہ 2025 اور 2026 میں خیبر پختونخوا میں فوجی ڈرون حملوں میں 72 ایسے بچے مارے گئے جن کی عمر ایک سال یا اس سے کم تھی۔

منظور پشتین نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود پاکستان کو اس لیے نظرانداز کیا جاتا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’خوشامد‘ کرتا ہے۔ ان کے الفاظ میں ’ایک انسان کی خوشامد کو لاکھوں انسانوں کے قتل سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔‘

انھوں نے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاشی رعایت سے حاصل وسائل سے وہ ہیلی کاپٹر اور جنگی طیارے چل رہے ہیں جن سے دیہاتوں پر کارروائیاں ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ثبوت پیش کرنے کے باوجود یورپ نے یہ حیثیت برقرار رکھی اور جرمنی نے اس کی حمایت کی۔

انھوں نے یورپ سے مطالبہ کیا کہ اگر بڑا اقدام ممکن نہیں تو کم از کم ایسی ریاست کو مزید فنڈز اور اسلحہ نہ دیا جائے جس پر زیادتیوں کے الزامات ہیں۔

انھوں نے بلوچ، پی ٹی ایم کے پشتون کارکنوں، سندھیوں اور کشمیریوں سے کہا کہ یورپ میں عوام میں پمفلٹ تقسیم کیے جائیں اور سوال کیا جائے کہ ٹیکس اس ملک کو کیوں دیا جائے جس پر سنگین الزامات ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفاتر کے سامنے احتجاج کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں احتجاج پر پابندیاں ہیں، اس لیے لوگ جنیوا آتے ہیں۔

آخر میں انھوں نے بی این ایم کے پروگرام کو سراہا اور پی ٹی ایم، بی این ایم اور دیگر تنظیموں کے اتحاد کو جاری رکھنے کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بھی فضائی بمباری سے اکثر بچے اور خواتین ہلاک ہو رہے ہیں۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print

Reports and Statements

بلوچستان کے جبری گمشدگان کی خاموش فریاد، بی این ایم کی جنیوا میں تصویری نمائش

انھوں نے کہا کہ بی این ایم کی عالمی مہم اسی سوال کو اقوام متحدہ جیسے عالمی پلیٹ فارم تک…

پروگرامات
September 29, 2026

جنیوا میں بی این ایم کا احتجاج: بلوچستان میں جینے کا حق بھی چھین لیا گیا، مرنے کا وقار بھی

سندھی ، پشتون ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے نمائندگان کی شرکت سے یہ خطے کے محکوم اقوام کی مشترکہ…

احتجاج
September 27, 2026

شہباز شریف کی اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران بی این ایم کا احتجاج، ’آزاد بلوچستان‘ کے نعرے

بی این ایم نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بلوچستان کی صورتِ حال پر ’خاموشی ختم کرنے‘ اور ’فوری…

احتجاج
September 26, 2026

نیویارک میں بی این ایم کی ڈیجیٹل ٹرک مہم، بلوچستان کی صورتحال سے عالمی آگاہی کی کوشش

اس مہم کا مقصد شہر میں موجود بین الاقوامی نمائندوں، صحافیوں، شہریوں اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنے…

پروگرامات
September 26, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?