Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: سندھی، بلوچ، پشتون، کشمیری، گلگتی بلتی اور سرائیکی پاکستان کے زیر قبضہ محکوم اقوام ہیں ، سہیل احمد ابڑو کا بی این ایم کے کانفرنس سے خطاب
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ سندھی، بلوچ، پشتون، کشمیری، گلگتی بلتی اور سرائیکی پاکستان کے زیر قبضہ محکوم اقوام ہیں ، سہیل احمد ابڑو کا بی این ایم کے کانفرنس سے خطاب
پروگرامات

سندھی، بلوچ، پشتون، کشمیری، گلگتی بلتی اور سرائیکی پاکستان کے زیر قبضہ محکوم اقوام ہیں ، سہیل احمد ابڑو کا بی این ایم کے کانفرنس سے خطاب

InfoSecBNM
Last updated: September 25, 2026 10:53 am
Last updated: September 25, 2026
3 Min Read
Share
SHARE

جیئے سندھ فریڈم موومنٹ کے چیئرمین سہیل احمد ابڑو نے جنیوا میں بلوچستان کانفرنس سے کہا ہے کہ بلوچستان صدیوں سے ایک آزاد اور خودمختار ریاست تھی اور 27 مارچ 1948 کو پاکستان فوج کے ذریعے اس پر قبضہ کیا گیا، جیسا کہ کشمیر، گلگت بلتستان اور برصغیر کے دیگر حصوں کے ساتھ ہوا۔

وہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے زیرِ اہتمام بارہویں بلوچستان انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وہ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے پروگراموں میں سندھ کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

سہیل ابڑو نے کہا کہ بلوچستان غم کی سرزمین ہے، حالانکہ اس کے پاس یورینیم، معدنیات، سینڈک پراجیکٹ، ریکوڈک پراجیکٹ، دادھر پراجیکٹ، دالبندین پراجیکٹ، کوئلے کی کانیں، گیس اور ایک وسیع ساحلی پٹی موجود ہے۔پاکستانی سامراج کو بلوچستان کے لوگوں سے نہیں، اس کی معدنیات اور زمین سے سروکار ہے۔

انھوں نے کہا، تیس ہزار سے زائد بلوچ جبری لاپتا ہیں، اور ان کی نسل کشی جاری ہے۔ برسوں کے دوران آٹھ ہزار سے زائد بلوچ مارے جا چکے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان ایئر فورس نے سوراب میں بمباری کی۔

انھوں نے کہا کہ سندھی، بلوچ، پشتون، کشمیری، گلگتی بلتی اور سرائیکی یہ سب پنجاب اور پاکستان کے زیرقبضہ میں محکوم قومیں ہیں۔

چونکہ سب کا ایک ہی دشمن ہے، انھوں نے تمام محکوم قوموں کے درمیان بین الاقوامی ہم آہنگی، مشترکہ حکمت عملی، مشترکہ جدوجہد اور مشترکہ تعاون تجویز کیا، ’’ تاکہ ہم سندھودیش، آزاد بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر، آزاد پختونستان، آزاد گلگت بلتستان اور سرائیکستان کی منزلیں بروقت حاصل کر سکیں۔‘‘

اس موقع پر انھوں نے اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ بلوچستان کے ساتھ ساتھ سندھ، پختونخوا، جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور سرائیکی وسِب میں خودارادیت اور آزادی کے حق پر ریفرنڈم منعقد اور منظم کیے جائیں، ’’ تاکہ ہم خودمختار ممالک کی صورت میں ابھریں اور اقوام متحدہ کے رکن بن سکیں۔‘‘

انھوں نے اپنی تقریر کا اختتام سائیں جی ایم سید کے ایک قول پر کیا ’’ آزادی ہمارا حق ہے، آزادی ممکن ہے، اور ایک دن ہم آزادی حاصل کر لیں گے۔‘‘

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print

Reports and Statements

بلوچستان کے جبری گمشدگان کی خاموش فریاد، بی این ایم کی جنیوا میں تصویری نمائش

انھوں نے کہا کہ بی این ایم کی عالمی مہم اسی سوال کو اقوام متحدہ جیسے عالمی پلیٹ فارم تک…

پروگرامات
September 29, 2026

جنیوا میں بی این ایم کا احتجاج: بلوچستان میں جینے کا حق بھی چھین لیا گیا، مرنے کا وقار بھی

سندھی ، پشتون ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے نمائندگان کی شرکت سے یہ خطے کے محکوم اقوام کی مشترکہ…

احتجاج
September 27, 2026

شہباز شریف کی اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران بی این ایم کا احتجاج، ’آزاد بلوچستان‘ کے نعرے

بی این ایم نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بلوچستان کی صورتِ حال پر ’خاموشی ختم کرنے‘ اور ’فوری…

احتجاج
September 26, 2026

نیویارک میں بی این ایم کی ڈیجیٹل ٹرک مہم، بلوچستان کی صورتحال سے عالمی آگاہی کی کوشش

اس مہم کا مقصد شہر میں موجود بین الاقوامی نمائندوں، صحافیوں، شہریوں اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنے…

پروگرامات
September 26, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?