جیئے سندھ فریڈم موومنٹ کے چیئرمین سہیل احمد ابڑو نے جنیوا میں بلوچستان کانفرنس سے کہا ہے کہ بلوچستان صدیوں سے ایک آزاد اور خودمختار ریاست تھی اور 27 مارچ 1948 کو پاکستان فوج کے ذریعے اس پر قبضہ کیا گیا، جیسا کہ کشمیر، گلگت بلتستان اور برصغیر کے دیگر حصوں کے ساتھ ہوا۔
وہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے زیرِ اہتمام بارہویں بلوچستان انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وہ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے پروگراموں میں سندھ کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
سہیل ابڑو نے کہا کہ بلوچستان غم کی سرزمین ہے، حالانکہ اس کے پاس یورینیم، معدنیات، سینڈک پراجیکٹ، ریکوڈک پراجیکٹ، دادھر پراجیکٹ، دالبندین پراجیکٹ، کوئلے کی کانیں، گیس اور ایک وسیع ساحلی پٹی موجود ہے۔پاکستانی سامراج کو بلوچستان کے لوگوں سے نہیں، اس کی معدنیات اور زمین سے سروکار ہے۔
انھوں نے کہا، تیس ہزار سے زائد بلوچ جبری لاپتا ہیں، اور ان کی نسل کشی جاری ہے۔ برسوں کے دوران آٹھ ہزار سے زائد بلوچ مارے جا چکے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان ایئر فورس نے سوراب میں بمباری کی۔
انھوں نے کہا کہ سندھی، بلوچ، پشتون، کشمیری، گلگتی بلتی اور سرائیکی یہ سب پنجاب اور پاکستان کے زیرقبضہ میں محکوم قومیں ہیں۔
چونکہ سب کا ایک ہی دشمن ہے، انھوں نے تمام محکوم قوموں کے درمیان بین الاقوامی ہم آہنگی، مشترکہ حکمت عملی، مشترکہ جدوجہد اور مشترکہ تعاون تجویز کیا، ’’ تاکہ ہم سندھودیش، آزاد بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر، آزاد پختونستان، آزاد گلگت بلتستان اور سرائیکستان کی منزلیں بروقت حاصل کر سکیں۔‘‘
اس موقع پر انھوں نے اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ بلوچستان کے ساتھ ساتھ سندھ، پختونخوا، جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور سرائیکی وسِب میں خودارادیت اور آزادی کے حق پر ریفرنڈم منعقد اور منظم کیے جائیں، ’’ تاکہ ہم خودمختار ممالک کی صورت میں ابھریں اور اقوام متحدہ کے رکن بن سکیں۔‘‘
انھوں نے اپنی تقریر کا اختتام سائیں جی ایم سید کے ایک قول پر کیا ’’ آزادی ہمارا حق ہے، آزادی ممکن ہے، اور ایک دن ہم آزادی حاصل کر لیں گے۔‘‘