Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: اقوام متحدہ کا نظام اکثر ان قوموں کو باہر رکھتا ہے جن کے حقوق پامال ہوتے ہیں: انتونیو سٹانگو کا بارہویں بلوچستان کانفرنس سے خطاب
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ اقوام متحدہ کا نظام اکثر ان قوموں کو باہر رکھتا ہے جن کے حقوق پامال ہوتے ہیں: انتونیو سٹانگو کا بارہویں بلوچستان کانفرنس سے خطاب
پروگرامات

اقوام متحدہ کا نظام اکثر ان قوموں کو باہر رکھتا ہے جن کے حقوق پامال ہوتے ہیں: انتونیو سٹانگو کا بارہویں بلوچستان کانفرنس سے خطاب

Foreign Department
Last updated: September 25, 2026 8:26 pm
Last updated: September 25, 2026
7 Min Read
Share
SHARE

انسانی حقوق کے ماہر انتونیو سٹانگو نے بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی بارہویں بلوچستان انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے نظریے اور ان کی پامالی کی حقیقت کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے، اور جن قوموں کے اجتماعی حقوق چھینے جاتے ہیں، انھیں اقوام متحدہ کے کمرے اب بھی اکثر میسر نہیں آتے۔

اطالوی فیڈریشن فار ہیومن رائٹس (ایف آئی ڈی یو) کے صدر اور روم لنک کیمپس یونیورسٹی میں بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے پروفیسر انتونیو سٹانگو نے جنیوا پریس کلب میں بی این ایم کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ انھوں نے اپنی زیادہ تر زندگی اس موضوع پر سول سوسائٹی کے ماہر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے گزاری ہے اور وہ صرف علمی حلقے تک محدود نہیں رہے۔

انھوں نے کہا ہمیں ایک طرف بین الاقوامی انسانی حقوق کے نظریے کو اچھی طرح پڑھنا چاہیے، اور دوسری طرف یہ دیکھنا چاہیے کہ حقیقت کیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ بار انسانی حقوق کے احترام کی حقیقت، بلکہ یوں کہیں کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کی حقیقت، نظریے سے بہت دور ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ بات افراد کے لیے بھی سچ ہے اور قوموں کے لیے بھی۔ آپ میں سے زیادہ تر بلوچ قوم کے حقوق کی مخصوص پامالی کے شکار رہے ہیں۔

انھوں نے ان دفعات کی طرف اشارہ کیا جو کاغذ پر ان گروہوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہیں جن کی زبان، تاریخ، مذہب یا دیگر نسلی خصوصیات مشترک ہوں، بشمول بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری و سیاسی حقوق کی دفعہ 27۔ انھوں نے کہا ریاستیں ان دفعات کو بھولنے لگی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یورپ میں زیادہ تر مغربی سلطنتوں کی تاریخ کو سمجھا گیا ہے۔ کچھ مقررین نے پاکستانی سامراج کا ذکر کیا۔ یہ ایسی بات ہے جسے یورپ میں ہم نہیں جانتے۔ لوگ صرف چند سرخیاں پڑھتے ہیں۔ ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا کھولتے ہیں اور عنوانات اور نعرے دیکھتے ہیں، جو ہمارے سیارے کے بڑے مسائل کی گہرائی تک نہیں جاتے۔

انھوں نے کہا جب بات لاکھوں لوگوں کی ہو جن کے اجتماعی حقوق دہائیوں سے منظم طور پر پامال ہو رہے ہوں، تو میرا خیال ہے کہ یہ صرف براہِ راست متاثرین کی نہیں، ہم سب کی فکر ہونی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ انسانی حقوق عالمگیر ہیں اور ہر شخص کو پیدائش کے ساتھ ہی حاصل ہیں۔ مختلف سیاسی نوعیت کی آمرانہ حکومتیں جواب دیتی ہیں کہ حقوق عالمگیر ہیں، مگر انھیں ’’علاقائی یا نسبتی‘‘ انداز میں لاگو کیا جائے گا۔ ان کے مطابق، نسبیت پسندی انسانی حقوق کے احترام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

اسی حوالے سے انھوں نے کانفرنس کے دیگر مقررین کی جانب سے بتائے گئے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان میں سینکڑوں جبری گمشدگیاں ہوئی ہیں، جبکہ طویل عرصے کے دوران بلوچستان میں دسیوں ہزار افراد جبری طور پر لاپتہ کیے گئے اور ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں۔ انھوں نے کہا کہ لاکھوں لوگ بدحالی میں ہیں، حالانکہ ان کی تاریخی سرزمین فطری وسائل سے مالامال ہے۔

انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے نظام سے رابطہ ضروری بھی ہے اور مشکل بھی۔ یہ اتفاق نہیں کہ اجلاس جنیوا پریس کلب میں ہو رہا ہے، قریبی اقوام متحدہ کے کانفرنس ہال میں نہیں۔ میرا گمان ہے کہ کچھ حکومتیں وہاں ایسا اجلاس منعقد کرنے کی مخالفت کرتیں۔

انھوں نے غیر سرکاری تنظیموں کے لیے اقوام متحدہ کے سائیڈ ایونٹس منعقد کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب اجتماعی حقوق کی پامالی کا شکار قوموں کے نمائندوں کو بلایا جاتا ہے تو سرکاری نمائندے پوچھتے ہیں کہ وہ کمرے میں کیوں ہیں۔یہ دہشت گرد ہیں۔ انھیں قید ہونا چاہیے، اقوام متحدہ کے فورم پر بولنے نہیں دیا جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے نظام سے ایک سفارتی ٹکراؤ ہوتا ہے، حالانکہ وہ نظام نظریے میں کم از کم ہر آواز کو سننے کی اجازت دیتا ہے اور ہر قوم کو اپنے حالات کے بارے میں بات کرنے کا موقع دینا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ وہ کانفرنس میں رکھی گئی اس بات سے پورا اتفاق کرتے ہیں: انصاف کے بغیر پائیدار امن نہیں؛ اعتماد کے بغیر مفاہمت نہیں۔

انھوں نے کہا ہم سب اس ضرورت اور اس مضبوط امید میں شریک ہیں کہ آپ کے ملک میں بھی امن ہو، دنیا کے دوسرے حصوں کی طرح۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ انصاف کے بغیر امن نہیں ہو سکتا۔

انھوں نے کہا کہ تقریباً تیس سال پہلے وہ اس تحریک کا حصہ تھے جس نے ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت بنانے میں مدد کی۔ اس تحریک کی ایک تنظیم کا نام No Peace Without Justice تھا۔وہ اب بھی موجود ہے، اور اب بھی کام باقی ہے۔

انھوں نے کہا کہ زیادہ ریاستیں اس عدالت سے نکل رہی ہیں کیونکہ حکومتیں فیصلے سے ڈرتی ہیں۔ ان کے مطابق عدالت سیاسی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرتی۔ وہ صرف سنگین ترین بین الاقوامی جرائم سنتی ہے: نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور بعض صورتوں میں جارحیت۔ ریاستوں کو بین الاقوامی انصاف کے سامنے پیش ہونے سے نہیں ڈرنا چاہیے۔

انھوں نے اس نظریاتی امکان کا بھی ذکر کیا کہ انسانیت کے خلاف جرائم پر کسی شخص کا مقدمہ اس ریاست میں بھی چل سکتا ہے جس کا وہ شہری نہ ہو۔ انھوں نے کہا، ’’بین الاقوامی انصاف کو کام کرنا چاہیے۔ مؤثر بین الاقوامی انصاف تک پہنچنے کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

انھوں نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایف آئی ڈی یو اور اطالوی ہیلسنکی کمیٹی سول سوسائٹی، بین الاقوامی تنظیموں اور قومی آزادی کی تحریکوں کے درمیان قریبی تعاون چاہتی ہیں، چاہے یہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print

Reports and Statements

بلوچستان کے جبری گمشدگان کی خاموش فریاد، بی این ایم کی جنیوا میں تصویری نمائش

انھوں نے کہا کہ بی این ایم کی عالمی مہم اسی سوال کو اقوام متحدہ جیسے عالمی پلیٹ فارم تک…

پروگرامات
September 29, 2026

جنیوا میں بی این ایم کا احتجاج: بلوچستان میں جینے کا حق بھی چھین لیا گیا، مرنے کا وقار بھی

سندھی ، پشتون ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے نمائندگان کی شرکت سے یہ خطے کے محکوم اقوام کی مشترکہ…

احتجاج
September 27, 2026

شہباز شریف کی اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران بی این ایم کا احتجاج، ’آزاد بلوچستان‘ کے نعرے

بی این ایم نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بلوچستان کی صورتِ حال پر ’خاموشی ختم کرنے‘ اور ’فوری…

احتجاج
September 26, 2026

نیویارک میں بی این ایم کی ڈیجیٹل ٹرک مہم، بلوچستان کی صورتحال سے عالمی آگاہی کی کوشش

اس مہم کا مقصد شہر میں موجود بین الاقوامی نمائندوں، صحافیوں، شہریوں اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنے…

پروگرامات
September 26, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?