Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: زبیر بلوچ کی شہادت کو محض غم کی یادگار نہیں بننے دیں گے ، ڈاکٹر نسیم بلوچ کا کا جنیوا میں خطاب
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ زبیر بلوچ کی شہادت کو محض غم کی یادگار نہیں بننے دیں گے ، ڈاکٹر نسیم بلوچ کا کا جنیوا میں خطاب
پروگرامات

زبیر بلوچ کی شہادت کو محض غم کی یادگار نہیں بننے دیں گے ، ڈاکٹر نسیم بلوچ کا کا جنیوا میں خطاب

Foreign Department
Last updated: September 25, 2026 9:45 pm
Last updated: September 25, 2026
17 Min Read
Share
SHARE

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے جنیوا میں بارہویں بلوچستان انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں نسل در نسل بلوچ سیاسی کارکنوں، طلبہ، ڈاکٹروں، اساتذہ، وکلا اور عام شہریوں کو قید، جبری گمشدگی، جلاوطنی اور موت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ بلوچ قومی سوال کو کئی دہائیوں سے فوجی طاقت، سیاسی انجینئرنگ، جبری گمشدگیوں، قید اور بلوچستان کے وسائل پر کنٹرول کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود بلوچ قوم کا سیاسی سوال ختم نہیں ہوا اور نئی نسلیں مسلسل سیاسی زندگی میں داخل ہو رہی ہیں۔

جنیوا میں انسانی حقوق کے محافظوں، مختلف اقوام اور تنظیموں کے نمائندوں، میڈیا کے ارکان اور بلوچ سیاسی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بی این ایم چیئرمین نے کہا کہ کانفرنس محض ایک اور سیاسی اجتماع نہیں، بلکہ ان لوگوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کی کوشش ہے جو بلوچستان میں جاری بحران کے انسانی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا ہم یہاں محض ایک اور کانفرنس منعقد کرنے کے لیے جمع نہیں ہوئے۔ ہم یہاں اس لیے ہیں کہ بلوچستان کی ہر رپورٹ، ہر تصویر اور ہر اعداد و شمار کے پیچھے ایک انسان ہے۔

ان کے مطابق ایک ماں اپنے لاپتہ بیٹے کا انتظار کر رہی ہے، ایک بچہ باپ کے بغیر بڑا ہو رہا ہے اور ایک خاندان ایک جیل سے دوسری جیل اور ایک عدالت سے دوسری عدالت تک اپنے پیارے کو تلاش کرتے ہوئے ایک سادہ سوال پوچھ رہا ہے:ہمارا پیارا کہاں ہے؟

انھوں نے کہا کہ ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے خاموش رہنے سے انکار کرنے کی قیمت اپنی جان دے کر ادا کی ہے۔

بی این ایم چیئرمین نے اپنی تقریر میں حال ہی میں قتل کیے جانے والے بی این ایم کی مرکزی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر عبدالرشید، جنھیں ڈاکٹر نوکاپ بلوچ کے نام سے جانا جاتا تھا، کو بھی یاد کیا۔ انھوں نے کہا کہ 10 ستمبر کو ڈاکٹر عبدالرشید کو کھو دینا بی این ایم کے لیے ایک تازہ صدمہ ہے۔

’’ ان کا قتل ہمارے لیے ابھی بہت تازہ ہے۔ یہ ایسی چیز نہیں ہے جس پر میں محض ایک سیاسی واقعے کے طور پر بات کر سکتا ہوں۔ وہ ہمارے ساتھی تھے۔ وہ ہمارے کامریڈ تھے۔ وہ ایسے شخص تھے جنھوں نے اپنی زندگی اپنے لوگوں کے درمیان گزاری۔‘‘

بی این ایم چیئرمین نے ڈاکٹر نوکاپ بلوچ کے قتل کا ذمہ دار پاکستانی ریاستی ایجنٹوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افراد مریضوں کا روپ دھار کر ان کے پاس آئے اور ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا جس کا پیشہ لوگوں کا علاج کرنا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر نوکاپ بلوچ ایک سیاسی کارکن، طبیب اور استاد تھے، جنھوں نے اپنی پوری زندگی بلوچ قومی آزادی کے مقصد، انسانیت کی خدمت اور علم کی روشنی پھیلانے کے لیے وقف کی۔

’’ان کی شہادت بی این ایم، بلوچ قومی تحریک کے حامیوں اور بلوچ پناہ گزینوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، جن کے لیے وہ امید، طبی نگہداشت اور تعلیم کا ذریعہ تھے۔‘‘

انھوں نے کہا آج ان کی کرسی خالی ہے۔ لیکن جن اقدار کے لیے وہ جیتے رہے، وہ ہمارے ساتھ موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر نوکاپ بلوچ واحد شخصیت نہیں جن کا سوگ منایا جا رہا ہے۔

بی این ایم چیئرمین نے اپنی تقریر کے بیشتر حصے میں چیئرمین زبیر بلوچ کی سیاسی زندگی، ان کی جدوجہد اور ان کی شہادت کو یاد کیا۔

انھوں نے کہا کہ کانفرنس صرف چیئرمین زبیر بلوچ کو یاد کرنے یا ان کی غیر موجودگی پر افسوس کرنے کے لیے منعقد نہیں کی گئی، بلکہ ایک ایسے سیاسی رہنما کو قومی خراج پیش کرنے کے لیے ہے جس نے بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کے لیے اپنی زندگی اور بالآخر اپنا خون قربان کیا۔

انھوں نے کہا جب بھی میں چیئرمین زبیر کے بارے میں سوچتا ہوں، میرے ذہن میں ایک سوال آتا ہے: وہ بلوچستان کی سرزمین اور بلوچ قومی آزادی کے مقصد سے کتنی گہری محبت کرتے تھے کہ نیشنل پارٹی سے وابستہ طلبہ تنظیم کی چیئرمین شپ بھی ان کی سمت تبدیل نہ کر سکی۔

بی این ایم چیئرمین نے نیشنل پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے پاکستانی ریاست کے ساتھ اتحاد میں ایسی کٹھ پتلی صوبائی حکومت حاصل کی جس کا مقصد بلوچ قومی تحریک کو کمزور کرنا تھا۔ ان کے مطابق نیشنل پارٹی آج بھی ایسی سیاست جاری رکھے ہوئے ہے جو بلوچ قوم کو پاکستان کے مستقل تابع رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ زبیر بلوچ کے پاس اپنی سیاسی زندگی کے بعد ایک نسبتاً آسان راستہ اختیار کرنے کا موقع موجود تھا۔وہ نیشنل پارٹی میں شامل ہو سکتے تھے، مراعات اور عہدے حاصل کر سکتے تھے اور ایک آرام دہ سیاسی مستقبل محفوظ کر سکتے تھے۔ وہ اعلیٰ عہدہ اور ذاتی فوائد حاصل کر سکتے تھے۔لیکن زبیر بلوچ نے یہ راستہ مسترد کر دیا۔اس کے بجائے وہ بلوچ نیشنل موومنٹ کی طرف آئے اور مشکل راستہ منتخب کیا قومی آزادی کی جدوجہد کا راستہ۔

بی این ایم چیئرمین نے کہا کہ زبیر بلوچ سے اپنی ملاقاتوں کے دوران انھوں نے ان میں ایک پختہ سیاسی رہنما، واضح وژن رکھنے والے قومی کارکن اور اپنے وطن سے حقیقی محبت کرنے والے شخص کو دیکھا، جو اس کی آزادی کے لیے سب کچھ قربان کرنے کو تیار تھا۔

انھوں نے کہا کہ زبیر بلوچ کی زندگی، ان کی سیاست، مخالفین کے سامنے ان کی غیر متزلزل آواز اور بالآخر ان کی شہادت اس بات کی ناقابلِ تردید گواہی ہیں۔

ان کے مطابق ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ قوموں کی آزادی صرف خواہش سے حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے واضح وژن چاہیے۔ منظم جدوجہد چاہیے۔ ثابت قدم کردار چاہیے۔ اور سب سے بڑی قربانی دینے کے لیے مسلسل آمادگی چاہیے۔

بی این ایم چیئرمین نے کہا کہ زبیر بلوچ کی سیاست وقتی جذبات، ذاتی مفادات یا عہدے کی خواہش سے نہیں چلتی تھی۔زبیر بلوچ کی سیاست عارضی جذبات، ذاتی مفادات یا عہدے کی خواہش سے نہیں چلتی تھی۔ ان کا سیاسی مؤقف واضح تھا، ان کا کردار ثابت قدم تھا اور ان کی جدوجہد مستقل تھی۔

انھوں نے کہا پاکستانی ریاست نے زبیر بلوچ کو اس لیے قتل کیا کہ وہ ایک سیاسی طور پر باشعور، اصول پسند اور بااثر قومی رہنما تھے۔

ان کے مطابق زبیر بلوچ کو کسی ذاتی تنازع، حادثاتی واقعے یا معمول کی سکیورٹی کارروائی کے نتیجے میں قتل نہیں کیا گیا۔

انوں نے کہا کہ انھیں بلوچ قومی آزادی سے وابستگی، بلوچستان پر پاکستان کے قبضے کو مسترد کرنے اور بلوچ نوجوانوں میں قومی شعور بیدار کرنے کی کوششوں کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔

بی این ایم چیئرمین نے کہا دشمن نے زبیر بلوچ کو ہم سے چھین لیا، لیکن وہ ان کا سیاسی وژن ہم سے نہیں چھین سکا۔

انھوں نے کانفرنس کے شرکا سے کہا کہ زبیر بلوچ کی شہادت کو صرف غم کی ایک یادگار نہیں بننے دینا چاہیے۔ہم ان کے سیاسی شعور کو اپنا رہنما بنائیں گے۔ ہم ان کی ثابت قدمی کو اپنی طاقت بنائیں گے۔اور ہم ان کی قربانی کو اپنی قومی ذمہ داری بنائیں گے۔

اس موقع پر انھوں نے کہا جو پرچم انھوں نے اپنے خون سے بلند کیا، اسے اس کی منزل تک پہنچنے تک آگے لے جانا اب ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

بی این ایم چیئرمین نے کہا کہ بارہویں بلوچستان انٹرنیشنل کانفرنس کا مقصد صرف انفرادی شخصیات کو یاد کرنا نہیں بلکہ بلوچستان کے وسیع تر سیاسی اور انسانی حقوق کے بحران پر توجہ دلانا بھی ہے۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کیوں نسل در نسل بلوچ سیاسی کارکن، طلبہ، ڈاکٹر، اساتذہ، وکلا اور عام شہری قید، گمشدگی، جلاوطنی یا موت کا سامنا کرتے آئے ہیں۔یہ وہ سوال ہے جس کا سامنا عالمی برادری کو کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی اور انسانی حقوق کا بحران آج بھی جاری ہے۔

بی این ایم چیئرمین نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ ( شاہ جی ) کی عمر قید کی سزاؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھیں جون میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی۔

انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بعد میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی سزا کو ایک ’’سنگین ناانصافی‘‘ قرار دیا اور مقدمے کی کارروائی کی منصفانہ نوعیت اور پرامن سیاسی سرگرمی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے استعمال پر سنگین تشویش ظاہر کی۔

بی این ایم چیئرمین نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنما اور کارکن بھی قید ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ چند روز قبل گل زادی بلوچ کو بھی شال کی ایک عدالت نے جھوٹے مقدمات میں عمر قید کی سزا سنائی۔ہم ان کی عمر قید کی سزا کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

بی این ایم چیئرمین نے کہا کہ بلوچستان کے بحران کا مرکزی سوال بلوچ قومی سوال ہے۔

ان کے مطابق کئی دہائیوں سے اس سوال سے نمٹنے کے لیے فوجی طاقت، قید، جبری گمشدگیوں، سیاسی انجینئرنگ اور بلوچستان کے وسائل پر کنٹرول استعمال کیا جاتا رہا ہے، لیکن تنازع ختم نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ وہ خواتین جو کبھی اپنے جبری لاپتہ عزیزوں کی تلاش میں جیلوں اور سرکاری دفاتر کے باہر انتظار کیا کرتی تھیں، آج بلوچستان میں ہونے والی بعض پرامن سیاسی تحریکوں کی قیادت کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق نوجوان بھی وہی سوال پوچھ رہے ہیں جو ان کے والدین اور دادا دادی ان سے پہلے پوچھتے رہے ہیں:ہماری زمین کو کون کنٹرول کرتا ہے؟، ہماری ساحلی پٹی کو کون کنٹرول کرتا ہے؟ ، ہمارے فطری وسائل کے استعمال کا فیصلہ کون کرتا ہے؟ ، بلوچستان سے متعلق فیصلے بلوچ عوام کی بامعنی رضامندی کے بغیر کیوں کیے جاتے ہیں؟

بی این ایم چیئرمین نے کہا کہ بلوچستان اب عالمی سیاست میں بھی تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے۔

انھوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت چین کی بڑی سرمایہ کاری کا ذکر کیا اور کہا کہ بین الاقوامی کمپنیاں بلوچستان کے تانبے، سونے اور دیگر فطری وسائل میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دنیا بھر کی حکومتیں اہم معدنی وسائل کے نئے ذرائع تلاش کر رہی ہیں، لیکن ان مباحث میں ایک آواز اکثر غائب رہتی ہے:خود بلوچ قوم کی آواز۔

انھوں نے حکومتوں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:بلوچستان کے سیاسی سوال کو محض نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے مطابق بلوچستان کے وسائل، معدنیات اور عالمی سرمایہ کاری پر ہونے والی بحث کو بلوچ قوم کے سیاسی مستقبل کے سوال سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ہماری سیاسی پوزیشن ایک آزاد اور خودمختار بلوچستان ہے

بی این ایم چیئرمین نے اپنی تنظیم کے سیاسی مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا بلوچ نیشنل موومنٹ کے لیے اس طویل بحران کا جواب واضح ہے۔ ہماری سیاسی پوزیشن ایک آزاد اور خودمختار بلوچستان ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسی وجہ سے بی این ایم کے لیے انسانی حقوق کی جدوجہد اور قومی آزادی کی جدوجہد ایک دوسرے سے جدا نہیں کی جا سکتیں۔ہماری انسانی حقوق کی جدوجہد اور ہماری قومی آزادی کی جدوجہد ایک دوسرے سے الگ نہیں کی جا سکتیں۔

ان کے مطابق بلوچستان میں جاری تنازع، جبر اور بار بار آنے والے بحرانوں کا پائیدار حل بلوچ قوم کی آزادی اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق میں ہے۔

اپنی تقریر کے آخری حصے میں بی این ایم چیئرمین نے دوبارہ ڈاکٹر نوکاپ بلوچ کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایسے شخص کو کھونا انتہائی تکلیف دہ ہے جس کی پوری زندگی لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے وقف تھی۔وہ ایک آسان زندگی اختیار کر سکتے تھے۔وہ خاموش رہ سکتے تھے۔انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

انھوں نے کہا انھوں نے بیماروں کا علاج کیا۔انھوں نے ان لوگوں کو تعلیم دی جنہیں تعلیم کی ضرورت تھی۔یہی وہ طریقہ ہے جس سے میں چاہتا ہوں کہ ہم انھیں یاد رکھیں۔صرف اس بات سے نہیں کہ وہ کیسے شہید ہوئے، بلکہ اس بات سے کہ وہ کیسے جئے۔

انہوں نے کہا کہ یہی بات چیئرمین زبیر بلوچ کے بارے میں بھی درست ہے۔ہمیں اپنے ساتھیوں کو صرف متاثرین کے طور پر یاد نہیں کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق آنے والی نسلوں کو ان لوگوں کی آوازیں خود سننی چاہئیں۔ایک قوم اپنی جدوجہد کو صرف سیاسی تنظیموں کے ذریعے محفوظ نہیں رکھتی، بلکہ یادداشت کے ذریعے بھی محفوظ رکھتی ہے۔

ان لوگوں کی کہانیوں کے ذریعے جو اس چیز کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے جس پر وہ یقین رکھتے تھے۔

بی این ایم چیئرمین نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کے خاندانوں، سیاسی قیدیوں، جلاوطنی میں رہنے والے ساتھیوں اور اپنے پیاروں کو کھونے والے بلوچ خاندانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا آپ کا درد ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔

انھوں نے ڈاکٹر نوکاپ بلوچ، چیئرمین زبیر بلوچ اور دیگر ان افراد کو یاد کیا جو اب جسمانی طور پر ان کے درمیان موجود نہیں۔

’’آپ کی غیر موجودگی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔لیکن وہ سوال جو آپ نے اٹھائے، وہ اب بھی موجود ہیں۔وہ مقصد جس کے لیے آپ نے اپنی زندگیاں دیں، وہ اب بھی موجود ہے۔

بی این ایم چیئرمین نے اپنی تقریر کے اختتام پر تنظیم کے سیاسی مؤقف کو ایک مرتبہ پھر واضح کیا ، انھوں نے کہا بلوچ نیشنل موومنٹ کا سیاسی مؤقف واضح ہے: ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں تنازع، جبر اور بار بار آنے والے بحرانوں کا پائیدار حل بلوچستان کی آزادی اور بلوچ قوم کا اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق ہے۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print

Reports and Statements

بلوچستان کے جبری گمشدگان کی خاموش فریاد، بی این ایم کی جنیوا میں تصویری نمائش

انھوں نے کہا کہ بی این ایم کی عالمی مہم اسی سوال کو اقوام متحدہ جیسے عالمی پلیٹ فارم تک…

پروگرامات
September 29, 2026

جنیوا میں بی این ایم کا احتجاج: بلوچستان میں جینے کا حق بھی چھین لیا گیا، مرنے کا وقار بھی

سندھی ، پشتون ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے نمائندگان کی شرکت سے یہ خطے کے محکوم اقوام کی مشترکہ…

احتجاج
September 27, 2026

شہباز شریف کی اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران بی این ایم کا احتجاج، ’آزاد بلوچستان‘ کے نعرے

بی این ایم نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بلوچستان کی صورتِ حال پر ’خاموشی ختم کرنے‘ اور ’فوری…

احتجاج
September 26, 2026

نیویارک میں بی این ایم کی ڈیجیٹل ٹرک مہم، بلوچستان کی صورتحال سے عالمی آگاہی کی کوشش

اس مہم کا مقصد شہر میں موجود بین الاقوامی نمائندوں، صحافیوں، شہریوں اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنے…

پروگرامات
September 26, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?