استعماری قبضے کا آغاز
1839 میں برطانوی فوج نے افغانستان پر حملے کے لیے بلوچستان سے گزرنے کی اجازت طلب کی، مگر خانِ بلوچ میر محراب خان نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد 13 نومبر 1839 کو برطانوی افواج نے کلات پر حملہ کیا۔ میر محراب خان اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت وطن کے دفاع میں شہید ہوئے اور بلوچستان برطانوی قبضے میں چلا گیا۔ بعد ازاں برطانیہ نے نام نہاد معاہدوں اور اپنے وفادار حکمرانوں کے ذریعے بلوچستان کو تقسیم کیا، اس کے وسیع علاقوں کو مرکزی ریاست سے الگ کر کے “برٹش بلوچستان” کے نام سے برطانوی ہند میں شامل کر دیا۔ یہی تقسیم بعد میں پاکستان کے قبضے کی بنیاد ثابت ہوئی۔
11 اگست: آزادی کا دن
برطانوی راج کے خاتمے پر 11 اگست 1947 کو خانِ بلوچ میر احمد یار خان نے بلوچستان کی آزادی کا اعلان کیا۔ 13 اگست کو برطانوی فوج بلوچستان سے واپس چلی گئی اور ایک منتخب پارلیمان نے اپنے فرائض سنبھالے۔ اسی پارلیمان نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی تجویز کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے بلوچستان کی آزادی اور خودمختاری برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
جناح، برطانیہ اور بلوچستان
اعلانِ آزادی کے بعد مملکتِ بلوچستان کے وزیرِ اعظم سردار زادہ محمد اسلم اور وزیرِ خارجہ ڈگلس فیل کراچی گئے تاکہ برطانیہ کو لیز پر دیے گئے علاقوں کی واپسی پر مذاکرات کر سکیں، مگر اس کے بجائے پاکستان نے الحاق کا مطالبہ پیش کیا۔ محمد علی جناح، جو اس سے قبل خانِ بلوچ کے قانونی مشیر رہ چکے تھے، نے بلوچستان پر پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے دباؤ ڈالا۔
اسی دوران برطانوی حکومت نے بھی اپنے تزویراتی مفادات کے تحت ایک آزاد بلوچستان کی حمایت سے گریز کیا۔ سرکاری دستاویزات اور حکام کے مراسلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ خطے میں اپنے طویل المدتی مفادات کے تحفظ کے لیے بلوچستان کی آزادی کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔
27 مارچ 1948: قبضہ اور مزاحمت
27 مارچ 1948 کو برطانوی جنرل سر ڈگلس گریسی کی قیادت میں پاکستانی فوج کلات میں داخل ہوئی اور طاقت کے ذریعے بلوچستان پر قبضہ مکمل کر لیا گیا۔ اس کے جواب میں مکران کے گورنر شہزادہ آغا عبد الکریم احمد زھی نے پاکستان کے خلاف پہلی بلوچ مزاحمتی تحریک کی قیادت کی۔ انھوں نے ریاستِ کلات کی افواج کے سابق اہلکاروں، سیاسی کارکنوں اور رضاکاروں کو منظم کر کے آزادی کی بحالی کی جدوجہد کا آغاز کیا۔ اگرچہ وسائل اور بیرونی حمایت کی کمی کے باعث یہ تحریک اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکی، لیکن یہی جدید بلوچ قومی مزاحمت کا پہلا منظم باب شمار کی جاتی ہے۔
11 اگست: یومِ تجدیدِ عہد
11 اگست محض ایک تاریخی دن نہیں بلکہ بلوچستان کی آزادی، قومی خودمختاری اور منتخب پارلیمان کے لیے جاری جدوجہد کی علامت ہے۔ اسی طرح شہزادہ آغا عبد الکریم کی مزاحمت اس عزم کی یاد دلاتی ہے کہ اعلان کردہ آزادی اور قومی خودمختاری کی بحالی کے لیے جدوجہد کبھی ترک نہیں کی جائے گی۔
اگست 2008 میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے سیشن کے بعد، بی ایس او (آزاد) کے جلسے کے باعث بی این ایم کی نومنتخب مرکزی کابینہ کی تقریبِ حلف برداری مؤخر کرنا پڑی۔ بعد ازاں شہید واجہ غلام محمد نے 11 اگست کی تاریخی اہمیت کے پیشِ نظر اسی دن کو تقریبِ حلف برداری کے لیے منتخب کیا اور اسے ’’ یومِ تجدیدِ عہد‘‘ کا نام دیا۔ 11 اگست 2008 کو گوادر کے ملا فاضل چوک میں بی این ایم کے سیشن کے لیے قائم الیکشن کمیٹی کے چیئرمین شہید نصیر کمالان نے پارٹی کے صدر واجہ غلام محمد سمیت نومنتخب مرکزی کابینہ سے حلف لیا۔ اس دن کے بعد سے بی این ایم ہر سال 11 اگست کو یومِ تجدیدِ عہد کے طور پر مناتی ہے، جہاں کارکنان اور بلوچ قوم بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد سے اپنی وابستگی اور عہد کی تجدید کرتے ہیں۔ اس موقع پر یہ عہد کیا جاتا ہے کہ ’’ بلوچستان اور بلوچ شہداء کے خون کی قسم، ہم اپنی قومی آزادی کی جدوجہد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہیں گے اور بلوچستان کی آزادی کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘‘