Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: 11 اگست 1947: بلوچستان کا اعلانِ آزادی
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ 11 اگست 1947: بلوچستان کا اعلانِ آزادی
بیانات

11 اگست 1947: بلوچستان کا اعلانِ آزادی

Qazi Rehan
Last updated: August 11, 2026 3:29 pm
Last updated: August 11, 2026
5 Min Read
Share
SHARE

استعماری قبضے کا آغاز

1839 میں برطانوی فوج نے افغانستان پر حملے کے لیے بلوچستان سے گزرنے کی اجازت طلب کی، مگر خانِ بلوچ میر محراب خان نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد 13 نومبر 1839 کو برطانوی افواج نے کلات پر حملہ کیا۔ میر محراب خان اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت وطن کے دفاع میں شہید ہوئے اور بلوچستان برطانوی قبضے میں چلا گیا۔ بعد ازاں برطانیہ نے نام نہاد معاہدوں اور اپنے وفادار حکمرانوں کے ذریعے بلوچستان کو تقسیم کیا، اس کے وسیع علاقوں کو مرکزی ریاست سے الگ کر کے “برٹش بلوچستان” کے نام سے برطانوی ہند میں شامل کر دیا۔ یہی تقسیم بعد میں پاکستان کے قبضے کی بنیاد ثابت ہوئی۔

11 اگست: آزادی کا دن

برطانوی راج کے خاتمے پر 11 اگست 1947 کو خانِ بلوچ میر احمد یار خان نے بلوچستان کی آزادی کا اعلان کیا۔ 13 اگست کو برطانوی فوج بلوچستان سے واپس چلی گئی اور ایک منتخب پارلیمان نے اپنے فرائض سنبھالے۔ اسی پارلیمان نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی تجویز کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے بلوچستان کی آزادی اور خودمختاری برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

جناح، برطانیہ اور بلوچستان

اعلانِ آزادی کے بعد مملکتِ بلوچستان کے وزیرِ اعظم سردار زادہ محمد اسلم اور وزیرِ خارجہ ڈگلس فیل کراچی گئے تاکہ برطانیہ کو لیز پر دیے گئے علاقوں کی واپسی پر مذاکرات کر سکیں، مگر اس کے بجائے پاکستان نے الحاق کا مطالبہ پیش کیا۔ محمد علی جناح، جو اس سے قبل خانِ بلوچ کے قانونی مشیر رہ چکے تھے، نے بلوچستان پر پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے دباؤ ڈالا۔

اسی دوران برطانوی حکومت نے بھی اپنے تزویراتی مفادات کے تحت ایک آزاد بلوچستان کی حمایت سے گریز کیا۔ سرکاری دستاویزات اور حکام کے مراسلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ خطے میں اپنے طویل المدتی مفادات کے تحفظ کے لیے بلوچستان کی آزادی کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔

27 مارچ 1948: قبضہ اور مزاحمت

27 مارچ 1948 کو برطانوی جنرل سر ڈگلس گریسی کی قیادت میں پاکستانی فوج کلات میں داخل ہوئی اور طاقت کے ذریعے بلوچستان پر قبضہ مکمل کر لیا گیا۔ اس کے جواب میں مکران کے گورنر شہزادہ آغا عبد الکریم احمد زھی نے پاکستان کے خلاف پہلی بلوچ مزاحمتی تحریک کی قیادت کی۔ انھوں نے ریاستِ کلات کی افواج کے سابق اہلکاروں، سیاسی کارکنوں اور رضاکاروں کو منظم کر کے آزادی کی بحالی کی جدوجہد کا آغاز کیا۔ اگرچہ وسائل اور بیرونی حمایت کی کمی کے باعث یہ تحریک اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکی، لیکن یہی جدید بلوچ قومی مزاحمت کا پہلا منظم باب شمار کی جاتی ہے۔

11 اگست: یومِ تجدیدِ عہد

11 اگست محض ایک تاریخی دن نہیں بلکہ بلوچستان کی آزادی، قومی خودمختاری اور منتخب پارلیمان کے لیے جاری جدوجہد کی علامت ہے۔ اسی طرح شہزادہ آغا عبد الکریم کی مزاحمت اس عزم کی یاد دلاتی ہے کہ اعلان کردہ آزادی اور قومی خودمختاری کی بحالی کے لیے جدوجہد کبھی ترک نہیں کی جائے گی۔

اگست 2008 میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے سیشن کے بعد، بی ایس او (آزاد) کے جلسے کے باعث بی این ایم کی نومنتخب مرکزی کابینہ کی تقریبِ حلف برداری مؤخر کرنا پڑی۔ بعد ازاں شہید واجہ غلام محمد نے 11 اگست کی تاریخی اہمیت کے پیشِ نظر اسی دن کو تقریبِ حلف برداری کے لیے منتخب کیا اور اسے ’’ یومِ تجدیدِ عہد‘‘ کا نام دیا۔ 11 اگست 2008 کو گوادر کے ملا فاضل چوک میں بی این ایم کے سیشن کے لیے قائم الیکشن کمیٹی کے چیئرمین شہید نصیر کمالان نے پارٹی کے صدر واجہ غلام محمد سمیت نومنتخب مرکزی کابینہ سے حلف لیا۔ اس دن کے بعد سے بی این ایم ہر سال 11 اگست کو یومِ تجدیدِ عہد کے طور پر مناتی ہے، جہاں کارکنان اور بلوچ قوم بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد سے اپنی وابستگی اور عہد کی تجدید کرتے ہیں۔ اس موقع پر یہ عہد کیا جاتا ہے کہ ’’ بلوچستان اور بلوچ شہداء کے خون کی قسم، ہم اپنی قومی آزادی کی جدوجہد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہیں گے اور بلوچستان کی آزادی کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘‘

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print

Reports and Statements

بی این ایم یوکے چیپٹر کی پانچویں کونسل ماما قدیر بلوچ کے نام، نسیم عباس صدر اور سلیم الٰہی جنرل سیکریٹری منتخب

انتخابی عمل کے نتیجے میں نسیم عباس صدر، کمبر بخشی نائب صدر، سلیم الٰہی جنرل سیکریٹری، کفایت بلوچ جوائنٹ سیکریٹری…

تنظیمی پروگرامات
October 13, 2026

جرمنی میں لوئر سیکسنی کی پارلیمان کے سامنے بی این ایم کا احتجاج، بلوچ قوم آزادی کی حق دار ہے

بلوچستان کا مسئلہ طاقت کے استعمال کے بجائے انسانی حقوق کے تحفظ، انصاف اور حقِ خودارادیت کو تسلیم کرکے حل…

احتجاج جرمنی چیپٹر
October 12, 2026

بلوچ اور سندھی اقوام کے لیے قومی آزادی، سیاسی ہم آہنگی اور عملی تعاون ناگزیر ہے، ڈاکٹر نسیم بلوچ

قومی آزادی کے بغیر جمہوریت، امن اور پائیدار مستقبل محض خوبصورت الفاظ اور دل بہلانے والے خواب بن کر رہ…

چیئرپرسن
October 11, 2026

سیئٹل میں بی این ایم کا احتجاج :بلوچ قوم کے حقوق کے تحفظ کے لیے امریکہ کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے

احتجاج کے دوران مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ قوم کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، تشدد اور…

احتجاج
October 1, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?