Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: ماہ گل کا قتل، بیٹوں کے بعد بلوچ بیٹیوں کی مسخ لاشیں پھینکنے کا آغاز ہے۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ ماہ گل کا قتل، بیٹوں کے بعد بلوچ بیٹیوں کی مسخ لاشیں پھینکنے کا آغاز ہے۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ
بیاناتچیئرپرسن

ماہ گل کا قتل، بیٹوں کے بعد بلوچ بیٹیوں کی مسخ لاشیں پھینکنے کا آغاز ہے۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ

InfoSecBNM
Last updated: September 10, 2026 4:10 pm
Last updated: September 10, 2026
6 Min Read
Share
SHARE

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا ہے کہ ماہ گل بلوچ کا رات کی تاریکی میں اغوا، بہیمانہ تشدد، آنکھیں پھوڑ کر قتل اور پھر ان کی مسخ لاش کا تربت یونیورسٹی کے عقب میں پھینکا جانا کوئی اچانک یا اتفاقیہ رونما ہونے والا جرم نہیں بلکہ یہ بلوچ نوجوانوں کے خلاف برسوں سے آزمائے جانے والے ریاستی جنگی جرائم یعنی اغوا، اذیت، قتل اور مسخ لاشیں پھینکنے کو بلوچ خواتین تک وسعت دینے کا خطرناک آغاز ہے۔ بلوچ قوم کو اسے ایک ٹیسٹ کیس سمجھنا ہوگا کیونکہ ریاست دیکھنا چاہتی ہے کہ بلوچ بیٹوں کے بعد اب بلوچ بیٹیوں کو بھی گھروں سے اٹھاکر تشدد سے مسخ لاشیں فوجی چوکیوں کے سائے میں پھینکی جائیں تو ممکنہ رد عمل کیا ہوگی؟ اگر آج اس جرم کے خلاف بھرپور اجتماعی مزاحمت نہ ہوئی تو یہ خاموشی ریاست اور اس کے قاتل فوج کے لیے اگلے اغوا، اگلے قتل اور اگلی مسخ لاش کے لیے راہ ہموار کرے گی۔

انھوں نے کہا ماہ گل بلوچ کے اغوا اور قتل کے دستیاب شواہد ان مسلح جتھوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جنہیں بلوچستان میں عرفِ عام میں ” ڈیتھ اسکواڈ ” کہا جاتا ہے۔ یہ عام جرائم پیشہ گروہ نہیں بلکہ پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے باقاعدہ حصہ ہیں، جنھیں بلوچ قومی تحریک کو کچلنے، سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں کو دہشت زدہ کرنے اور ریاستی جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بدلے میں انھیں تحفظ اور سماج میں لوٹ مار، بھتہ خوری اور دیگر جرائم کی کھلی چھوٹ دی جاتی ہے۔ اس لیے ماہ گل بلوچ کے قتل کو صرف ایک ڈیتھ اسکواڈ کا جرم قرار دے کر ریاست و فوج کو بری الذمہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ حقیقت میں ریاستی فوج نے پراکسی قاتلوں کے شکل میں یہ کربناک جنگی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

چیئرمین نے کہا کہ یہ جرم اس لیے مزید ہولناک ہے کہ ماہ گل بلوچ کی لاش ایسے علاقے میں پھینکی گئی جہاں متعدد فوجی چوکیاں، سکیورٹی تنصیبات اور نگرانی کا وسیع نظام موجود ہے۔ ایک طرف ریاست بلوچستان کے ہر راستے، گاؤں اور چھوٹی بڑی آبادیاں فوجی حصار میں ہیں، روزمرہ معمول کے سرگرمیوں پر بھی سخت نگرانی کی جاتی ہے، دوسری طرف اسی حصار میں قاتل ایک بلوچ خاتون کو اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بناتے، قتل کرتے اور اس کی مسخ لاش پھینک کر بلاخوف واپس چلے جاتے ہیں۔ اس واقعے کو سکیورٹی کی ناکامی کہہ کر بلوچ قوم کو دھوکا نہیں دیا جاسکتا کیونکہ قاتل اپنا نشان چھوڑ چکا ہے، بلوچ قوم کو بخوبی اس کا اندازہ ہے۔

بلکہ اس ریاستی نظام کا نتیجہ ہے جس میں قاتل اور محافظ ایک ہی طاقت کے مختلف چہرے بن چکے ہیں۔ ماہ گل بلوچ کے قتل، ان پر کیے گئے تشدد اور لاش پھینکنے کے تمام حالات کی آزادانہ فرانزک، طبی اور عدالتی تحقیقات ہونی چاہئیں، شواہد محفوظ کیے جائیں اور ذمہ دار افراد کے ساتھ ان کے ریاستی سرپرستوں کو بھی بے نقاب کیا جائے۔

انھوں نے کہا نیشنل پارٹی سمیت نام نہاد قوم پرست پارلیمانی جماعتیں چند رسمی جملے ادا کرکے اس جرم سے بری الذمہ نہیں ہوسکتیں۔ ماہ گل بلوچ کے قتل کو محض ” امن و امان کی خراب صورتِ حال” کہنا ریاست کو بری الذمہ قرار دینے کے کوششوں کا تسلسل ہے جسے نیشنل پارٹی نے اپنے دورِ حکومت میں سیاسی جواز، قانونی سہولت اور عملی معاونت فراہم کی۔ جس جماعت نے فوجی آپریشنوں کے لیے راہ ہموار کی، ریاستی کارروائیوں کے حق میں قانون سازی کی اور جس سے وابستہ متعدد افراد آج بھی مختلف سطحوں پر اسی فوج کی دست و بازو بنے ہوئے ہیں، اس کی موجودہ سطحی لفاظی، مزمت نہیں بلکہ سیاسی شراکتِ جرم ہے۔ کیچ کو اپنا سیاسی مرکز کہنے والوں سے بلوچ قوم یہ پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ اگر وہ ایک بلوچ خاتون کے اغوا، بہیمانہ تشدد اور مسخ لاش پر بھی عوام کو متحرک نہیں کرسکتے تو ان کی قوم پرستی، نمائندگی اور سیاست آخر کس کام کی ہے؟

کیا بلوچ قوم صرف اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی مسخ لاشیں اٹھانے کے لیے زندہ ہے؟ گوکہ ہم اس ظلم کو فی الفور طاقت سے نہیں روک سکتے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم خاموش رہیں، قاتلوں کے نام چھپائیں یا ان کے سیاسی سہولت کاروں کو مہلت دیتے رہیں۔ ہماری آواز، قلم، احتجاج، ہڑتال، عوامی اجتماع اور منظم سیاسی مزاحمت وہ قوت ہے جس سے ریاست خائف ہے اور اسی کا نام قومی تحریک ہے اور تحریک کو کچلنے کے لئے پاکستان ایسی جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے۔

بلوچ معاشرے، سیاسی کارکنوں، طلبہ، خواتین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری کو ماہ گل بلوچ کے لیے انصاف اور بلوچ خواتین کے تحفظ کی خاطر فوری، متحد اور مؤثر آواز اٹھانی ہوگی۔ ماہ گل بلوچ کی لاش اٹھاکر خاموشی سے گھروں کو لوٹ جانا اس جرم کو آخری جرم نہیں بنائے گا بلکہ صرف منظم اور مسلسل مزاحمت ہی ریاست کو یہ پیغام دے سکتی ہے کہ بلوچ
اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کا خون خاموشی سے قبول نہیں کریں گے۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print
Leave a Comment Leave a Comment

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Reports and Statements

بلوچستان کے جبری گمشدگان کی خاموش فریاد، بی این ایم کی جنیوا میں تصویری نمائش

انھوں نے کہا کہ بی این ایم کی عالمی مہم اسی سوال کو اقوام متحدہ جیسے عالمی پلیٹ فارم تک…

پروگرامات
September 29, 2026

جنیوا میں بی این ایم کا احتجاج: بلوچستان میں جینے کا حق بھی چھین لیا گیا، مرنے کا وقار بھی

سندھی ، پشتون ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے نمائندگان کی شرکت سے یہ خطے کے محکوم اقوام کی مشترکہ…

احتجاج
September 27, 2026

شہباز شریف کی اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران بی این ایم کا احتجاج، ’آزاد بلوچستان‘ کے نعرے

بی این ایم نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بلوچستان کی صورتِ حال پر ’خاموشی ختم کرنے‘ اور ’فوری…

احتجاج
September 26, 2026

نیویارک میں بی این ایم کی ڈیجیٹل ٹرک مہم، بلوچستان کی صورتحال سے عالمی آگاہی کی کوشش

اس مہم کا مقصد شہر میں موجود بین الاقوامی نمائندوں، صحافیوں، شہریوں اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنے…

پروگرامات
September 26, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?