بلوچ نیشنل موومنٹ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پارٹی کے سینئر جلاوطن ممبر کیپٹن نواز کے بلوچستان کے علاقے تمپ دازن میں واقع گھر پر ایک مرتبہ پھر پاکستانی فوج اور اس کے مقامی ڈیتھ اسکواڈز نے حملہ کیا ہے۔ حملے میں خواتین اور بچوں کو ہراساں اور خوفزدہ کیا گیا، گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور قیمتی سامان اپنے ساتھ لے جایا گیا، واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کیپٹن نواز کے گھر کو اسی طرح نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی کارکنوں، چاہے وہ بلوچستان کے اندر سرگرم ہوں یا بیرونِ بلوچستان قومی جدوجہد میں حصہ لے رہے ہوں، ان کے گھروں اور خاندانوں کو پاکستانی فوج، اس کے اہلکاروں اور ایجنٹوں کی جانب سے مسلسل نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل جب کیپٹن نواز کی اہلیہ اور بچے بلوچستان میں موجود تھے، تو ان کے کم عمر بیٹے براہمدغ کو دو مرتبہ جبری طور پر لاپتہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ براہمدغ ایک اٹھارہ سال سے کم عمر بچہ ہے، اور بچوں کی جبری گمشدگی اور ان پر تشدد عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس نوعیت کے واقعات بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر پاکستانی فوج کی جانب سے ظلم اور جبر کے طور پر دہرائے جا رہے ہیں۔ بی این ایم کے کارکنوں اور ان کے خاندانوں کو ہراساں کرکے انہیں اپنی قومی جدوجہد سے دستبردار کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ بلوچ قومی جدوجہد ایک آئینی، سیاسی اور عالمی طور پر تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کی تحریک ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی این ایم کا مقصد بلوچستان پر پاکستان کے اس جبری قبضے کا خاتمہ کرنا ہے جو 27 مارچ 1948ء کو بلوچ قوم پر مسلط کیا گیا۔ بی این ایم بلوچستان سے پاکستانی قبضے کے خاتمے اور بلوچ قومی آزادی کی اس حیثیت کی بحالی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے جو بلوچ قوم نے 11 اگست 1947ء کو انگریزوں سے حاصل کی تھی۔
ترجمان نے واضح کیا کہ بلوچ قوم پر ہونے والے مظالم، جبری قبضہ، غلامی کی زندگی اور مسلسل جبر نے بلوچ نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کو یہ شعور دیا ہے کہ وہ اپنی قومی آزادی کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ بی این ایم کے رہنماؤں اور کارکنوں، جن میں شہید غلام محمد بلوچ، اور عام کارکنان تک شامل ہیں، نے اس جدوجہد کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں، اور قربانیوں کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔