Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: بلوچستان میں پاکستانی فوج نے صرف تین دن میں 17 افراد قتل کر دیے، عالمی برادری کی خاموشی صورتحال کو گھمبیر بنا رہی ہے– ترجمان بی این ایم
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ بلوچستان میں پاکستانی فوج نے صرف تین دن میں 17 افراد قتل کر دیے، عالمی برادری کی خاموشی صورتحال کو گھمبیر بنا رہی ہے– ترجمان بی این ایم
بیاناتترجمان

بلوچستان میں پاکستانی فوج نے صرف تین دن میں 17 افراد قتل کر دیے، عالمی برادری کی خاموشی صورتحال کو گھمبیر بنا رہی ہے– ترجمان بی این ایم

Qazi Rehan
Last updated: June 4, 2026 11:51 am
Last updated: June 4, 2026
6 Min Read
Share
SHARE

بلوچستان میں پاکستانی فوج نہتے لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور عالمی برادری کی خاموشی نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کو ہمہ پہلو گھمبیر بنا دیا ہے۔ صرف رواں ہفتے 17 افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکے ، زھری، خضدار، کیچ اور گوادر کے نواحی علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے اور شہری آبادی پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کی جا رہی ہے۔ بی این ایم اس ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتی ہے پاکستان بلوچ قوم کی نسل کشی کر رہی ہے عالمی مداخلت ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان میں حالیہ دنوں ریاستی دہشت گردی کے مختلف واقعات کے تناظر میں اپنے ایک بیان میں کیا۔

ترجمان نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ بلوچستان پاکستانی فوج کے مسلسل مظالم اور ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے۔ دو جون 2026 بروز منگل پاکستانی فوج نے ایک مرتبہ پھر زھری کے علاقے کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں زھری کے علاقے بلبل میں ایک پرامن سیاسی کارکن خلیل احمد موسیانی کو گھر میں داخل ہوکر گولی مار کر پاکستانی فوج نے زخمی حالت میں گرفتار کیا اور بعد ازاں حراست کے دوران قتل کر دیا ، جبکہ متعدد افراد کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ لاپتہ ہونے والوں میں زھری خان موسیانی، شکر خان، ثناء اللہ موسیانی، امید علی خان، دوست محمد، ارشاد احمد اور دیگر شامل ہیں، جنھیں تاحال رہا نہیں کیا گیا۔

انھوں نے مزید واقعات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ 31 مئی کو کردگاپ، مستونگ میں پاکستانی فوج نے گولہ باری کر کے غلام جان سمالانی کو قتل کر دیا جو پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور تھے۔ یکم جون کو کڈ کوچہ کے علاقے کڈ عمرانی میں شہری آبادی پر ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کی گئی، جہاں رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے نقصانات کی تفصیلات کا علم نہیں ہو سکا۔

بی این ایم کے ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ بلوچستان 1948 میں قبضے کے روزِ اول سے لے کر اب تک مسلسل پاکستانی فوج کی جارحانہ کارروائیوں کی زد میں ہے۔ یہاں سیاسی قوتوں کو تشدد اور طاقت کے زور پر دبانے کی ریاستی پالیسی شدت کے ساتھ جاری ہے۔ جبری گمشدگیوں کے تسلسل نے ہزاروں خاندان معاشی اور سماجی طور پر تباہ کر دیے ہیں۔ 31 مئی سے لے کر دو جون تک، صرف تین دن میں پاکستانی فوج نے 17 لوگوں کو اعلانیہ قتل کر دیا لیکن فوج قتل کیے گئے افراد کی تفصیلات بتانے سے گریز کر رہی ہے۔ اس طرح کے واقعات میں اکثر جبری طور پر گمشدہ افراد کو زیرِ حراست قتل کیا جاتا ہے اور پاکستانی فوج اسے مسلح افراد کے خلاف کارروائی کا نام دے کر جھوٹے دعوے کرتی ہے۔مقتولین کی لاشیں بھی لواحقین کے حوالے نہیں کی جا رہی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستانی فوج بلوچ قوم کی نسل کشی کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسا بتدریج عمل ہے جس سے کسی قوم کو سیاسی، ثقافتی، سماجی اور معاشی طور پر تباہ کیا جاتا ہے۔ ڈیرہ بگٹی، کوھلو، آواران، زھری، خضدار ، پنجگور ، کیچ اور گوادر کے اضلاع میں درجنوں گاؤں تاراج کر کے لوگوں کو جبری نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔ اسی پالیسی کے تسلسل میں حالیہ دنوں گوادر کی تحصیل جیمڑی کے گاؤں ’پانوان‘ کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کے اہلکار رات کے اندھیرے میں پانوان میں لوگوں کے گھروں پر حملے کرتے ہیں۔ جبری گمشدگیوں، گھروں کو مسمار کرنے اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات سے تنگ آکر سینکڑوں افراد پر مشتمل درجنوں خاندان نقل مکانی کر کے مغربی بلوچستان منتقل ہو گئے ہیں جہاں انھیں معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا ہے اور درجنوں بچے تعلیم سے محروم ہوچکے ہیں۔

ترجمان نے آخر میں کہا کہ بی این ایم اپنی تمام تر قوت کے ساتھ بلوچستان کی تحریک آزادی کی سچائی کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے سرگرم ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچستان کو ایک جنگ زدہ متنازع خطہ قرار دیتے ہوئے فوری مداخلت کرے۔ بلوچستان کی آزادی کی بحالی کے بغیر نہ صرف بلوچ قوم کی بقا خطرے میں ہے بلکہ تزویراتی طور پر اس اہم خطے میں امن کا قیام بھی بلوچ قوم کے حقِ خودارادیت اور بلوچستان کی آزادی سے مشروط ہے۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print

Reports and Statements

بی این ایم یوکے چیپٹر کی پانچویں کونسل ماما قدیر بلوچ کے نام، نسیم عباس صدر اور سلیم الٰہی جنرل سیکریٹری منتخب

انتخابی عمل کے نتیجے میں نسیم عباس صدر، کمبر بخشی نائب صدر، سلیم الٰہی جنرل سیکریٹری، کفایت بلوچ جوائنٹ سیکریٹری…

تنظیمی پروگرامات
October 13, 2026

جرمنی میں لوئر سیکسنی کی پارلیمان کے سامنے بی این ایم کا احتجاج، بلوچ قوم آزادی کی حق دار ہے

بلوچستان کا مسئلہ طاقت کے استعمال کے بجائے انسانی حقوق کے تحفظ، انصاف اور حقِ خودارادیت کو تسلیم کرکے حل…

احتجاج جرمنی چیپٹر
October 12, 2026

بلوچ اور سندھی اقوام کے لیے قومی آزادی، سیاسی ہم آہنگی اور عملی تعاون ناگزیر ہے، ڈاکٹر نسیم بلوچ

قومی آزادی کے بغیر جمہوریت، امن اور پائیدار مستقبل محض خوبصورت الفاظ اور دل بہلانے والے خواب بن کر رہ…

چیئرپرسن
October 11, 2026

سیئٹل میں بی این ایم کا احتجاج :بلوچ قوم کے حقوق کے تحفظ کے لیے امریکہ کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے

احتجاج کے دوران مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ قوم کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، تشدد اور…

احتجاج
October 1, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?