بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے جرمنی کے شہر گوٹنگن میں بلوچستان کے علاقے سوراب میں پاکستانی فضائیہ کی جانب سے شہری آبادی پر بمباری اور جاری ریاستی جبر کے خلاف مارچ اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے متاثرین اور ان کے خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے عالمی برادری سے صورتِ حال کا فوری نوٹس لینے، آزادانہ تحقیقات کرانے اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے یورپی یونین، اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ بلوچستان میں شہری ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹس کا فوری نوٹس لیا جائے اور اس صورتِ حال پر خاموشی ختم کرکے شہریوں کے تحفظ اور مزید تشدد کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بی این ایم جرمنی کے صدر اصغر بلوچ نے بلوچستان میں شہریوں کے خلاف جاری جبر کو طویل عرصے سے جاری وسیع پیمانے کے مظالم کا تسلسل قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ قابض پاکستان کی جانب سے مقبوضہ بلوچستان میں کیے جانے والے اقدامات قابض اور محکوم کے درمیان موجود نوآبادیاتی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔بلوچستان کئی دہائیوں سے بلوچ آزادی کی جدوجہد کے تناظر میں مسلسل ریاستی جبر کا سامنا کر رہا ہے۔
بی این ایم جرمنی کے جنرل سیکریٹری لقمان بلوچ نے کہا کہ سوراب اور خاران میں پاکستانی فوج کے حالیہ فضائی حملوں میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت 20 سے زائد شہری ہلاک ہوئے۔بلوچستان میں جاری میڈیا بلیک آؤٹ ریاستی تشدد کے واقعات کی آزادانہ اور شفاف تصدیق میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
وشمہ بلوچ نے عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی طریقۂ کار کے تحت مؤثر اقدامات کریں تاکہ مزید تشدد کو روکا جا سکے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
اکبر بلوچ نے سانحۂ سوراب اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے بلوچ عوام کے خلاف منظم امتیازی سلوک پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ بلوچ قوم اپنے بنیادی حقوق اور آزادی کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے، جس کو روکنے کے لیے پاکستان بلوچ قوم کی نسل کشی کر رہی ہے۔