Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: بلوچستان کا شاید ہی کوئی گھر ہو جو جبری گمشدگی کے المیے سے محفوظ رہا ہو؛ بی این ایم کا اُتریخت میں احتجاج
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ بلوچستان کا شاید ہی کوئی گھر ہو جو جبری گمشدگی کے المیے سے محفوظ رہا ہو؛ بی این ایم کا اُتریخت میں احتجاج
احتجاجنیدرلینڈز چیپٹر

بلوچستان کا شاید ہی کوئی گھر ہو جو جبری گمشدگی کے المیے سے محفوظ رہا ہو؛ بی این ایم کا اُتریخت میں احتجاج

BNM Netherlands
Last updated: August 31, 2026 9:10 pm
Last updated: August 31, 2026
4 Min Read
Share
SHARE

عالمی یومِ متاثرینِ جبری گمشدگی کے موقع پر بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے نیدرلینڈز کے شہر اُتریخت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کا مقصد بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں کے سنگین بحران کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔

مظاہرے میں پشتون سیاسی کارکنوں نے بھی شرکت کی اور جبری گمشدگیوں کے متاثرین اور ان کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ مظاہرین نے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، جبکہ بینرز اور پلے کارڈز کے ذریعے انصاف کا مطالبہ اور جبری گمشدگیوں کے فوری خاتمے پر زور دیا گیا۔

اجتماع سے بی این ایم نیدرلینڈز چیپٹر کے صدر مہیم عبدالرحیم، پارٹی کے میڈیا ، آئی ٹی اور کلچرل ڈیپارٹمنٹ کے رابطہ کار عابد جان قادر، ڈاکٹر لطیف بلوچ، ثناء اللہ بلوچ اور انسانی حقوق کے کارکن زر خان نے خطاب کیا۔ مقررین نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بلوچ معاشرے پر پڑنے والے گہرے اور تباہ کن اثرات پر روشنی ڈالی۔

مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جو جبری گمشدگی کے المیے سے متاثر نہ ہوا ہو۔ بلوچستان بھر میں خاندان اپنے پیاروں کے اغوا اور جبری گمشدگی کے بعد طویل عرصے سے کرب اور بے یقینی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اکثر خاندانوں کو اپنے عزیزوں کے مقامِ موجودگی، حالت اور انجام کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی جاتی، جس سے ان کی اذیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جبری گمشدگیاں بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے بحران کی ایک نمایاں علامت بن چکی ہیں۔ سیاسی و سماجی کارکنوں، طلبہ، اساتذہ، صحافیوں، وکلا، لکھاریوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور عام شہریوں سمیت معاشرے کے مختلف طبقات اس پالیسی سے متاثر ہو رہے ہیں۔

مقررین نے کہا کہ بلوچستان بلوچ قوم کا وطن ہے اور بلوچ قوم اپنے حقِ حاکمیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ انھوں نے اس جدوجہد کے ساتھ پشتون قوم کی مسلسل یکجہتی کو بھی سراہا اور کہا کہ پشتون قوم نے ظلم، ناانصافی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف بلوچ قوم کی جدوجہد میں ہمیشہ آواز بلند کی ہے اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

مقررین نے مزید کہا کہ جبری گمشدگیاں بلوچستان میں بلوچ قوم کے خلاف جاری نسل کشی کے عمل کا ایک حصہ ہیں۔ ہزاروں افراد کی مسلسل جبری گمشدگی، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیوں نے بلوچستان بھر میں خوف، عدم تحفظ اور بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔

بلوچ نیشنل موومنٹ نے مطالبہ کیا کہ تمام جبری طور پر لاپتہ افراد کے بارے میں ان کے خاندانوں کو فوری طور پر ان کے مقامِ موجودگی، حالت اور انجام سے آگاہ کیا جائے۔ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، رپورٹ شدہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ان کے ذمہ دار افراد کا احتساب یقینی بنایا جائے۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print

Reports and Statements

بی این ایم یوکے چیپٹر کی پانچویں کونسل ماما قدیر بلوچ کے نام، نسیم عباس صدر اور سلیم الٰہی جنرل سیکریٹری منتخب

انتخابی عمل کے نتیجے میں نسیم عباس صدر، کمبر بخشی نائب صدر، سلیم الٰہی جنرل سیکریٹری، کفایت بلوچ جوائنٹ سیکریٹری…

تنظیمی پروگرامات
October 13, 2026

جرمنی میں لوئر سیکسنی کی پارلیمان کے سامنے بی این ایم کا احتجاج، بلوچ قوم آزادی کی حق دار ہے

بلوچستان کا مسئلہ طاقت کے استعمال کے بجائے انسانی حقوق کے تحفظ، انصاف اور حقِ خودارادیت کو تسلیم کرکے حل…

احتجاج جرمنی چیپٹر
October 12, 2026

بلوچ اور سندھی اقوام کے لیے قومی آزادی، سیاسی ہم آہنگی اور عملی تعاون ناگزیر ہے، ڈاکٹر نسیم بلوچ

قومی آزادی کے بغیر جمہوریت، امن اور پائیدار مستقبل محض خوبصورت الفاظ اور دل بہلانے والے خواب بن کر رہ…

چیئرپرسن
October 11, 2026

سیئٹل میں بی این ایم کا احتجاج :بلوچ قوم کے حقوق کے تحفظ کے لیے امریکہ کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے

احتجاج کے دوران مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ قوم کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، تشدد اور…

احتجاج
October 1, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?