تنظیمی نظم و ضبط کی مسلسل خلاف ورزی، پارٹی کے خلاف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بیان بازی اور غیر تنظیمی طرزِ عمل پر جواب دہی سے گریز کے باعث برطانیہ میں مقیم حامد علی بلوچ کی بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) سے رکنیت ختم کی جاتی ہے۔
بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے ترجمان نے اس حوالے سے میڈیا کو جاری کیے گئے ایک اعلامیہ میں کہا کہ حامد علی بلوچ نے برطانیہ پہنچنے کے بعد پارٹی کی رکنیت کے لیے درخواست دی۔ پارٹی آئین میں درج رکنیت کی شرائط پوری کرنے اور پارٹی سے وفاداری کا حلف لینے کے بعد انھیں رکنیت دی گئی۔ اسی رکنیت کی بنیاد پر پارٹی نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کے حصول کے سلسلے میں ان کی معاونت کی اور برطانوی حکومت سے انھیں سیاسی پناہ فراہم کرنے کی درخواست بھی کی۔
تاہم، مذکورہ رکن نے اپنے حلف کی پاسداری سے انحراف کرتے ہوئے دانستہ طور پر پارٹی کے تنظیمی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی اور متعدد مواقع پر سوشل میڈیا پر اپنے بیانات کے ذریعے پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔
ان کے مسلسل غیر ذمہ دارانہ اور غیر تنظیمی طرزِ عمل کے باعث ان کی پارٹی رکنیت فوری طور پر ختم کی جاتی ہے۔ اس فیصلے کے بعد وہ بی این ایم کے رکن، نمائندے یا کسی بھی حیثیت سے پارٹی کا نام، شناخت، تنظیمی عہدہ یا پارٹی سے اپنی وابستگی استعمال کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔
حامد علی بلوچ کی جانب سے جاری کیا جانے والا کوئی بھی بیان یا اختیار کی جانے والی کسی بھی قسم کی سرگرمی ان کا ذاتی عمل تصور ہوگی، جس کی ذمہ داری بلوچ نیشنل موومنٹ پر عائد نہیں ہوگی۔
پارٹی کے تمام اداروں، یونٹس، اراکین اور متعلقہ شعبہ جات کو اس فیصلے سے آگاہ کیا جاتا ہے اور ہدایت کی جاتی ہے کہ حامد علی بلوچ کے ساتھ پارٹی امور سے متعلق کسی قسم کا تنظیمی رابطہ نہ رکھا جائے۔