بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے بلوچستان کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنے کی اپنی مہم کے سلسلے میں جمعہ کے روز نیویارک شہر میں ڈیجیٹل ٹرک کے ذریعے تشہیری مہم چلائی۔ یہ مہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر کی گئی، جس کے ذریعے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور بلوچ قوم کے مطالبات کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کیا گیا۔
بی این ایم کی ڈیجیٹل ٹرک مہم کے دوران نیویارک شہر کی مصروف شاہراہوں اور مختلف عوامی مقامات پر چلنے والی ڈیجیٹل اسکرینوں کے ذریعے بلوچستان سے متعلق پیغامات اور تشہیری مواد نشر کیا گیا۔ اس مہم کا مقصد شہر میں موجود بین الاقوامی نمائندوں، صحافیوں، شہریوں اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنے والے افراد کی توجہ بلوچستان کی صورتحال کی جانب مبذول کرانا تھا۔
مہم کے ذریعے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں، سیاسی کارکنوں اور خواتین کی گرفتاریوں، فوجی کارروائیوں، گھروں کی تباہی، فطری وسائل کے استحصال اور ان سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی مسائل سمیت مختلف معاملات کو اجاگر کیا گیا۔
ڈیجیٹل ٹرک پر نشر کیے جانے والے پیغامات میں بلوچستان کے حوالے سے عالمی آگاہی، جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور بلوچ عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر زور دیا گیا۔ اس تشہیری مہم کے ذریعے بی این ایم نے بلوچستان کے مسئلے کو نیویارک کے شہری ماحول میں براہِ راست بین الاقوامی توجہ کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔
یہ ڈیجیٹل ٹرک مہم بی این ایم کی اس وسیع تر عالمی آگاہی مہم کا حصہ تھی جس کے تحت تنظیم بین الاقوامی شہروں اور عالمی اداروں کے سامنے بلوچستان کی سیاسی اور انسانی حقوق کی صورتحال کو اجاگر کرتی ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مہم کا انعقاد اس حوالے سے اہم تھا کہ اس دوران دنیا بھر سے سیاسی نمائندے، سفارت کار، صحافی اور دیگر بین الاقوامی شخصیات شہر میں موجود تھیں۔
بی این ایم کے امریکن چیپٹر کے صدر سمیع بلوچ نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے بلوچستان سے متعلق پیغامات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا اور عالمی برادری کو بلوچستان کی صورتحال سے آگاہ کرنا اس مہم کا بنیادی مقصد تھا۔