Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: بلوچ اور سندھی اقوام کے لیے قومی آزادی، سیاسی ہم آہنگی اور عملی تعاون ناگزیر ہے، ڈاکٹر نسیم بلوچ
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ بلوچ اور سندھی اقوام کے لیے قومی آزادی، سیاسی ہم آہنگی اور عملی تعاون ناگزیر ہے، ڈاکٹر نسیم بلوچ
چیئرپرسن

بلوچ اور سندھی اقوام کے لیے قومی آزادی، سیاسی ہم آہنگی اور عملی تعاون ناگزیر ہے، ڈاکٹر نسیم بلوچ

Dr. Naseem Baloch
Last updated: October 11, 2026 1:23 pm
Last updated: October 11, 2026
3 Min Read
Share
SHARE

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے ورلڈ سندھی کانگریس کی 38ویں سندھ انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ اور سندھی اقوام کے لیے قومی آزادی، جمہوریت، امن اور پائیدار مستقبل کا حصول ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتا ہے، کیونکہ قومی آزادی کے بغیر جمہوریت، امن اور پائیدار مستقبل محض خوبصورت الفاظ اور دل بہلانے والے خواب بن کر رہ جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں، لیکن سندھ کے لوگوں کے درمیان انھیں کسی اجنبی قوم کے درمیان موجود ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ سندھ اور بلوچستان صرف دو ہمسایہ سرزمینیں نہیں بلکہ صدیوں پر محیط انسانی، ثقافتی، معاشی اور سیاسی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ ان کی سرحدیں، تہذیبی یادیں، تاریخی تجربات اور موجودہ مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر قومی آزادی واضح سیاسی جدوجہد، مستقل مزاجی اور قربانیوں کے بغیر حاصل کی جا سکتی تو دنیا کی تاریخ میں لاکھوں انسانوں کو اپنی جانیں قربان نہ کرنا پڑتیں۔ قومی آزادی محض ایک نعرہ نہیں بلکہ طویل سیاسی جدوجہد، واضح مقصد اور بے شمار قربانیوں کا نام ہے۔بلوچ اور سندھی سرزمینوں پر جاری استحصال اور قبضے کا تسلسل نہ صرف ان اقوام کی شناخت بلکہ ان کے مستقبل کے لیے بھی خطرہ ہے، کیونکہ ان کے لیے اپنی سرزمین کا سوال محض زمین کا نہیں بلکہ قومی وجود، شناخت اور آنے والی نسلوں کی بقا کا سوال ہے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ بلوچ اور سندھی قیادت کو اپنی اپنی قومی شناخت، سیاسی تنظیموں اور جداگانہ ترجیحات کا احترام کرتے ہوئے انسانی حقوق، جبری گمشدگیوں، سیاسی قیدیوں، وسائل، ماحولیات اور بین الاقوامی فورمز پر مؤثر نمائندگی جیسے شعبوں میں مشترکہ اقدامات کرنے چاہییں۔تعاون کی بنیاد جذباتی نعروں کے بجائے باہمی احترام اور برابری پر ہونی چاہیے۔حقیقی اتحاد یہی ہے کہ دونوں اقوام اپنی شناخت اور ترجیحات برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ مسائل کے حل کے لیے ایک دوسرے کے برابر کھڑی ہوں اور ہمدردی کو عملی یکجہتی میں تبدیل کریں۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ تاریخ نے بلوچ اور سندھی اقوام کو بے شمار زخم دیے ہیں، لیکن تاریخ مواقع بھی فراہم کرتی ہے اور آج دونوں اقوام کے سامنے اپنی قومی ریاستوں اور سیاسی نظاموں کی ازسرِنو تعمیر کے حوالے سے ایک اہم موقع موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ منتشر صلاحیت کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منظم سیاسی اور سفارتی قوت میں تبدیل کیا جائے۔

انھوں نے بلوچ اور سندھی اقوام کے درمیان یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا آپ جہاں بھی اپنی آواز دیں گے، سیاسی اسٹیج سے لے کر مشکل ترین محاذ تک، آپ بلوچ کو اپنے پہلو میں پائیں گے۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print

Reports and Statements

سیئٹل میں بی این ایم کا احتجاج :بلوچ قوم کے حقوق کے تحفظ کے لیے امریکہ کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے

احتجاج کے دوران مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ قوم کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، تشدد اور…

احتجاج
October 1, 2026

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بلوچستان کی صورتِ حال پر بی این ایم کے نمائندوں کا خطاب

بی این ایم 63ویں اجلاس کے دوران جنیوا میں اپنی سیاسی اور سفارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

پروگرامات
October 1, 2026

بلوچستان کے جبری گمشدگان کی خاموش فریاد، بی این ایم کی جنیوا میں تصویری نمائش

انھوں نے کہا کہ بی این ایم کی عالمی مہم اسی سوال کو اقوام متحدہ جیسے عالمی پلیٹ فارم تک…

پروگرامات
September 29, 2026

جنیوا میں بی این ایم کا احتجاج: بلوچستان میں جینے کا حق بھی چھین لیا گیا، مرنے کا وقار بھی

سندھی ، پشتون ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے نمائندگان کی شرکت سے یہ خطے کے محکوم اقوام کی مشترکہ…

احتجاج
September 27, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?