Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: بی این ایم کے وفد کی اراکین یورپی پارلیمنٹ سے ملاقاتیں، 2027 کے جائزے سے قبل پاکستان کا جی ایس پی پلس درجہ ختم کرانے کی مہم میں تیزی
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ بی این ایم کے وفد کی اراکین یورپی پارلیمنٹ سے ملاقاتیں، 2027 کے جائزے سے قبل پاکستان کا جی ایس پی پلس درجہ ختم کرانے کی مہم میں تیزی
ادارہ امور خارجہ

بی این ایم کے وفد کی اراکین یورپی پارلیمنٹ سے ملاقاتیں، 2027 کے جائزے سے قبل پاکستان کا جی ایس پی پلس درجہ ختم کرانے کی مہم میں تیزی

Foreign Department
Last updated: October 25, 2026 3:58 pm
Last updated: October 25, 2026
4 Min Read
Share
SHARE

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے خارجہ ڈیپارٹمنٹ کے ایک وفد نے 23 اکتوبر 2026 کو دی ہیگ میں یورپی پارلیمنٹ کے ارکان (ایم ای پیز) سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد جنوری 2027 میں متوقع جائزے سے قبل پاکستان کا جی ایس پی پلس تجارتی درجہ ختم کرانے کی مہم کو تیز کرنا تھا۔، یہ وفد بی این ایم کے ادارہ امور خارجہ کی جی ایس پی پلس احتساب ٹیم کے تحت کام کر رہا ہے۔

یہ ملاقاتیں یونین آف یورپین فیڈرلسٹس (یو ای ایف) نیدرلینڈز کی افتتاحی تقریب کے موقع پر ہوئیں، جو دی ہیگ میں واقع یوروپا ایکسپیرینس میں منعقد کی گئی۔ تقریب کا موضوع تھا: ’’عالمی چیلنجز جن کا ہم مل کر سامنا کر رہے ہیں‘‘۔

تقریب کے دوران بی این ایم کے وفد نے یورپی پارلیمنٹ کی ارکان اینا اسٹروئلنبرگ اور راکیل گارسیا ہرمیدا فان ڈیر وال کے علاوہ ینگ یورپین فیڈرلسٹس (جے ای ایف) نیدرلینڈز کی صدر ایسٹر لائینز سے بھی ملاقات کی۔

وفد نے یورپی نمائندوں کو بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال، بلوچ قوم کی آزادی اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد، اور پاکستان کی جانب سے انسانی حقوق سے متعلق اپنے بین الاقوامی وعدوں پر عمل درآمد میں ناکامی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

ان ملاقاتوں کا مرکزی موضوع پاکستان کا جی ایس پی پلس درجہ تھا۔ وفد نے یورپی نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کو حاصل ترجیحی تجارتی مراعات ختم کرنے کی حمایت کریں۔ وفد کا مؤقف تھا کہ جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، اجتماعی سزاؤں اور انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث کسی ملک کو جواب دہی کے مؤثر نظام کے بغیر تجارتی فوائد حاصل کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رہنا چاہیے۔

وفد نے بلوچستان میں انسانی حقوق سے متعلق خدشات اور یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم سے منسلک بین الاقوامی کنونشنز پر پاکستان کی عدم تعمیل کو دستاویزی شکل میں پیش کرنے والی ایک تفصیلی رپورٹ بھی یورپی نمائندوں کے حوالے کی۔

گزشتہ دو برسوں سے بی این ایم کا شعبۂ خارجہ پاکستان کو حاصل جی ایس پی پلس مراعات کو چیلنج کرنے کے لیے ایک وسیع سفارتی مہم چلا رہا ہے۔ یورپی نمائندوں سے ملاقاتوں، باضابطہ دستاویزات جمع کرانے، شواہد پیش کرنے اور مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے بی این ایم نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال کو یورپی پالیسی سازوں کی توجہ میں لانے کے حوالے سے اہم پیش رفت کی ہے۔

جنوری 2027 میں پاکستان کے جی ایس پی پلس درجے کا جائزہ متوقع ہے، اور بی این ایم اس عرصے کو اپنی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی اہم قرار دیتی ہے۔ پارٹی کو امید ہے کہ یورپی یونین اس اسکیم کی شرائط پر پاکستان کی عمل داری کا جائزہ لیتے وقت اس کی تجاویز، شواہد اور جمع کرائی گئی دستاویزات پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔

بی این ایم کا مؤقف ہے کہ یورپی یونین کو ان انسانی حقوق کے اصولوں سے اپنی وابستگی برقرار رکھنی چاہیے جو اس کی تجارتی پالیسیوں کی بنیاد ہیں۔ تجارتی مراعات کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر جواب دہی سے بچنے کے لیے ڈھال نہیں بننا چاہیے۔

بی این ایم کا ادارہ امور خارجہ یورپی اداروں اور پالیسی سازوں کے ساتھ اپنے سفارتی روابط جاری رکھے گا، پاکستان کا جی ایس پی پلس درجہ ختم کرنے کا مطالبہ کرتا رہے گا، اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال تجارت اور جواب دہی سے متعلق یورپی یونین کے مباحثوں کا حصہ بنی رہے۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print

Reports and Statements

بی این ایم کا جرمنی میں مظاہرہ، بلوچستان میں ہزاروں افراد کو جبراً گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے

احتجاجی مظاہرے سے حبیب بلوچ، آصف بلوچ، مجیب عبداللہ اور محسن نے خطاب کیا۔

احتجاج جرمنی چیپٹر
October 25, 2026

بی این ایم یوکے چیپٹر کی پانچویں کونسل ماما قدیر بلوچ کے نام، نسیم عباس صدر اور سلیم الٰہی جنرل سیکریٹری منتخب

انتخابی عمل کے نتیجے میں نسیم عباس صدر، کمبر بخشی نائب صدر، سلیم الٰہی جنرل سیکریٹری، کفایت بلوچ جوائنٹ سیکریٹری…

تنظیمی پروگرامات
October 13, 2026

جرمنی میں لوئر سیکسنی کی پارلیمان کے سامنے بی این ایم کا احتجاج، بلوچ قوم آزادی کی حق دار ہے

بلوچستان کا مسئلہ طاقت کے استعمال کے بجائے انسانی حقوق کے تحفظ، انصاف اور حقِ خودارادیت کو تسلیم کرکے حل…

احتجاج جرمنی چیپٹر
October 12, 2026

بلوچ اور سندھی اقوام کے لیے قومی آزادی، سیاسی ہم آہنگی اور عملی تعاون ناگزیر ہے، ڈاکٹر نسیم بلوچ

قومی آزادی کے بغیر جمہوریت، امن اور پائیدار مستقبل محض خوبصورت الفاظ اور دل بہلانے والے خواب بن کر رہ…

چیئرپرسن
October 11, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?