بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے کارکنوں نے جرمنی کے شہر ٹریئر میں آگاہی مہم چلائی، جس کا مقصد بلوچستان میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں، ’’ مارو اور پھینک دو ‘‘ کی پالیسی کے تحت ماورائے عدالت قتل اور جبری نقل مکانی کی جانب یورپ کی توجہ دلانا تھا۔ شرکاء نے جبری لاپتہ افراد کی تصاویر اٹھائیں، پمفلٹ تقسیم کیے اور راہگیروں کو بلوچستان کی صورتحال سے آگاہ کیا۔
احتجاجی مظاہرے سے حبیب بلوچ، آصف بلوچ، مجیب عبداللہ اور محسن نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ بلوچ سرزمین اور وسائل سے متعلق فیصلے وہاں کے عوام کی رضامندی کے بغیر کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ وہ کیسی ترقی ہے جو لوگوں کو ان کے اپنے گھروں سے بے دخل کر دے، اور اس کا فائدہ آخر کس کو پہنچ رہا ہے؟
مقررین نے کہا کہ بلوچ طلبہ، سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کو جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا سامنا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں 105 افراد جبری طور پر لاپتہ اور 59 افراد قتل ہوئے، اور مطالبہ کیا کہ ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔
مقررین نے مزید کہا کہ اطلاعات کے مطابق شور پارود کے تقریباً 30 ہزار مکینوں کو 30 اکتوبر 2026 تک اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نسلوں سے وہاں آباد خاندانوں کو خیموں میں دھکیلا جا رہا ہے۔
بی این ایم نے اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کریں، پاکستان کو جوابدہ ٹھہرائیں اور شور پارود سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں سے لوگوں کی جبری نقل مکانی روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔