بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنما اور اسیرِ آزادی، ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی 17 سالہ طویل جبری گمشدگی کے موقع پر بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این ایم ) کے آواران ھنکین میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہماری وابستگی ایک ایسی قومی جماعت سے ہے، جس کی قیادت نے اپنی جانوں اور آزادیوں کی بے مثال قربانیاں دے کر جدوجہد کی نئی تاریخ رقم کی۔ انہی عظیم قربانیوں کی بدولت آج ہم خود کو بلوچ نیشنل موومنٹ کا رکن کہلانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
اجلاس کے مہمانِ خصوصی بی این ایم کے ہیومین رائٹس سیکریٹری، ڈاکٹر ناظر نور تھے۔ ان کے علاوہ پروگرام سے بی این ایم کی مرکزی کمیٹی کے ممبر چیف اسلم، آواران ھنکین کے نائب صدر تلار ناز اور ھنکین کے خازن میرک نے خطاب کیا۔ پروگرام کے اسٹیج سیکریٹری، شھمیر منان بلوچ یونٹ کے سیکریٹری ودار بلوچ تھے۔
مقررین نے مزید کہا کہ ڈاکٹر دین جان کی 17 سالہ طویل اور اذیت ناک جبری گمشدگی، جو تقریباً چھ ہزار دو سو پانچ دنوں پر محیط ایک مسلسل اجتماعی سزا کی علامت ہے، نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ پوری پارٹی اور قومی تحریک پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کر چکی ہے۔ یہ طویل عرصہ ظلم، بے یقینی اور انسانی المیے کی ایک ایسی داستان ہے، جس کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔
ڈاکٹر ناظر نور نے اپنے خطاب میں جبری گمشدگی کی قانونی اور انسانی حقوق کے تناظر میں وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جبری گمشدگی ریاستی جبر کی ایک ایسی سنگین شکل ہے جس میں کسی فرد کو قانون سے بالاتر ہو کر اغوا کیا جاتا ہے، اس کی موجودگی سے انکار کیا جاتا ہے اور اسے قانونی تحفظ سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ عمل صرف ایک فرد کو نشانہ نہیں بناتا، بلکہ اس کے خاندان، معاشرے اور پوری قوم کو ذہنی، نفسیاتی اور سماجی اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔
انھوں نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ پروگرام میں شریک کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ایسے نوجوانوں پر مشتمل تھی جنھوں نے ڈاکٹر دین جان کو کبھی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، مگر ان کی فکر، نظریات، قومی وابستگی اور جدوجہد کو اپنا تنظیمی نصب العین بنایا ہے۔ یہی امر اس بات کا مظہر ہے کہ شخصیات وقتی طور پر نظروں سے اوجھل کی جا سکتی ہیں، مگر ان کے نظریات، افکار اور قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ بنی رہتی ہیں۔